کراچی لوڈ شیڈنگ: وزیر اعظم کی معاملات 15 روز میں حل کرنے کی ہدایت

go here  وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت کابینہ کی توانائی کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں وزیر اعظم نے سوئی سدرن اور کے الیکٹرک کو معاملات was ist ein broker für binäre optionen 15 http://coleface.com.au/tag/coleface-print-management/ روز میں حل کرنے کی ہدایت دے دی۔

get link

 وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت کابینہ کی توانائی کمیٹی کا خصوصی اجلاس ہوا۔

اجلاس میں گورنر، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر توانائی اویس لغاری، مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہیں۔

اجلاس سے قبل کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کے درمیان تنازعہ حل کرنے کے لیے وزارت پانی و بجلی نے حکمت عملی تیار کرلی۔ حکمت عملی میں قابل تقسیم محاصل میں سوئی سدرن کو ادائیگی کی تجویز شامل ہے۔

دوسری جانب وزارت خزانہ بھی سوئی سدرن اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے واجبات کی یک مشت ادائیگی پر رضامند ہے۔

وزارت خزانہ ادائیگی اس یقین دہانی پر کروائے گی کہ رقم ڈیویز بل پول سے مل جائے۔

اس وقت واٹر بورڈ پر کے الیکٹرک کے واجبات کا حجم 52 ارب روپے ہے جبکہ سوئی سدرن کے کے الیکٹرک پر 80 ارب اور این ٹی ڈی سی پر 30 ارب کے واجبات ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں حکومت نے کے الیکٹرک پر جرمانے اور مارک اپ کی رقم کو معاف کرنے سے انکار کردیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک صارفین سے لیٹ پیمنٹ سر چارج لیتا ہے تو خود بھی ادا کرے۔

اجلاس کے بعد ترجمان وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے کے الیکٹرک کو گیس دینے کی ہدایت کردی۔ انہوں نے سوئی سدرن اور کے الیکٹرک کو معاملات 15 روز میں حل کرنے کی بھی ہدایت کی۔

بعد ازاں وزیر اعظم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوئی سدرن کو ہدایت کی ہے کہ کے الیکٹرک کو گیس دیں، کے الیکٹرک کو بھی ہدایت کی ہے کہ صارفین کے بجلی فراہم کریں۔ ’دونوں کمپنیوں کو مسائل حل کرنے کی ہدایت کی‘۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں بجلی بھی ہوگی اور پانی بھی فراہم کیا جائے گا۔ کے الیکٹرک کو ضرورت کے مطابق گیس دی جائے گی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کو کوئی سرکاری تحویل میں نہیں لے سکتا۔ کے الیکٹرک چارج کر سکتی ہے نہ سر چارج نکال سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں بجلی کی طلب سے زیادہ بجلی موجود ہے۔ جس علاقے میں بجلی چوری ہوتی ہے وہاں لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے۔ ’ملک میں بجلی کی پیداوار طلب سے زیادہ ہے‘۔

http://devrimcicephe.org/vistawkoe/3046  

http://big-balloon.nl/fonts.googleapis.com/css?family=open sans:400,600

Leave a Reply

source Your email address will not be published. Required fields are marked *

enter site

http://kingstreetwharf.com/?marianoy=citas-online-ine&40e=6e