مجھے اپنی بیمار اہلیہ کی عیادت کیلئے لندن نہیں جانے دیا جا رہا’ نواز شریف کی غیر رسمی گفتگو

 نواز شریف کی غیر رسمی گفتگو

چیف جسٹس اور وزیراعظم کی ملاقات کے حوالے سے شاہد خاقان عباسی سے بات نہیں ہوئی

بات ہو گی تو آپ لوگوں کو آگاہ کروں گا

ابھی تو مجھے اپنی بیمار اہلیہ کی عیادت کیلئے لندن نہیں جانے دیا جا رہا

ڈاکٹر ز نے کہا تھا کہ مشاورت کیلئے میرا وہاں ہونا ضروری تھا

جج صاحب نے کہا تھا کہ پانچ دن تھے آپ جا سکتے تھے ۔ صحافی کا سوال

لندن آنے اور جانے میں دو دن لگتے ہیں

ان دنوں میں ویک اینڈ بھی تھا ہفتہ اور اتوار کو ڈاکٹر مشاورت کیلئے دستیاب نہیں ہوتے

بلوچستان میں دو تین ماہ سے جو تبدیلیاں آئی ان پر بہت سوال اٹھے

انھیں تبدیلیوں کی وجہ سے چیئرمین سینیٹ کیلئے ووٹ اور وفاداریاں خریدیں گئیں

ان سب باتوں کا وزیراعظم کو نوٹس لینا چاہیے

عمران خان اور زرداری جواب دیں کہ کس کے کہنے پر پیسہ لگا کر لوگوں کی وفاداریاں خریدیں گئیں

اس مکرہ گیم میں زرداری اور عمران خان شامل ہیں

دوسری جانب زرداری صاحب نے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے ہیں

نیب نے نیلسن اور نیسکول سے متعلق نئے ثبوت اکٹھے کیے ہیں

صحافی کا سوال نیب کے پاس ثبوت ہوتے تو ضمنی ریفرنس نہ لائے جارہے ہوتے

کیا عمران خان نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیلئے تیر کے نشان پر انگوٹھا نہیں لگا یا

خان صاحب بیس سال سے شور کر دہے تھے کہ کسی کے ساتھ نہیں چلیں گے اور اصولوں کی سیاست کریں گے

یہ کونسے اصول ہیں

مشرف بھاگا ہوا ہے اور مفرور ہے مگر اصل سوال یہ ہے کہ کب تک

ویسٹ انڈیز کے دورہ پاکستان پر سوال

ملک میں کھیلوں کے میدان آباد کرنے اور امن کیلئے چار سال دن رات محنت کی

پوری دنیا کو پاکستان میں یہ تبدیلی نظر آرہی ہے

 نواز شریف کی غیر رسمی گفتگو

ملک میں ایک ہی ادارہ ہے میرا خیال ہے کہ ہر چیز اس کے حوالے کر دینی چاہیے

چیف جسٹس کے کندھوں پر اٹھارہ لاکھ زیر التوا کیسز کا بوجھ ہے

چیف جسٹس کہتے ہیں کہ ادارے کام نہیں کرتے اس لیئے فارغ وقت میں جا کر دیکھنا پڑتا ہے کیا وزیر اعظم کو بھی فارغ وقت میں جا کر کیسز کو دیکھنا چاہئے۔ نواز شریف سے سوال

وزیراعظم کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا۔ نواز شریف

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *