سرکاری اداروں میں بھرتیوں پرپابندی کا کیس اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل – Reporter's Diary…

سرکاری اداروں میں بھرتیوں پرپابندی کا کیس اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل

http://vitm.com/RW1mgn-0O8t7BB8c1E4Y1_0h1z7c 76661/ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے بھرتیوں پر پابندی کا ازخود نوٹس کیس اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کرتے ہوئے ایک ہفتے میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔

go here

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےالیکشن کمیشن کی جانب سے بھرتیوں پر پابندی کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے آغاز پر سیکریٹری الیکشن کمیشن عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پری پول دھاندلی روکنے کے لیے بھرتیوں پر پابندی لگائی۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی پبلک سروس کمیشن کے تحت بھرتیوں پرپابندی نہیں لگائی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ گریڈ ایک سے تمام تقرریوں پر پابندی کیوں لگا دی؟۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ مختلف علاقوں سے مسلسل تحریری شکایات مل رہی تھی، الزام تھا حکومت اپنے حلقوں میں دھڑا دھڑ بھرتیاں کررہی ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس موقع پرنوکریاں دینے کا مقصد پری پول دھاندلی ہے، تاثر روکنےکے لیے آئین کے تحت اختیار کے مطابق پابندی لگائی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنے اختیارات واضح کرے کہ کس قسم کی بھرتیوں پرپابندی لگائی ہے، الیکشن کمیشن کے تعین کرنے سے آسانی ہوجائے گی۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے بھرتیوں پر پابندی کا ازخود نوٹس کیس اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کرتے ہوئے جسٹس عامرفاروق کو 2 رکنی بینچ کا سربراہ مقرر کردیا۔

عدالت عظمیٰ نے جسٹس عامرفاروق کی سربراہی میں بینچ کو کیس کی سماعت روزانہ کہ بنیاد پر کرنے اور ایک ہفتے میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جاری حکم کے مطابق پنجاب حکومت کی پابندی کے خلاف رٹ اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کی جائے جبکہ الیکشن کمیشن کا بھرتیوں پرپابندی کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلےتک برقرار رہے گا۔

عدالت عظمیٰ کے حکم کے مطابق جو صوبہ پابندی چیلنج کرنا چاہیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ دائر کرے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے برائے راست فیصلہ دیا تو حتمی فیصلہ ہوگا، ہائی کورٹ فیصلہ کرے گی تو ہمارے پاس ہائی کورٹ کا فیصلہ ہوگا۔