بدصورت پاکستانی میڈیا تحریر: کنول زہرا

بدصورت پاکستانی میڈیا

تحریر: کنول زہرا

ہمارا میڈیا بالغ افراد کے ہاتھوں میں بھی مکمل نابالغ ہے. اگرچہ امید کی ایک کرن “بول” کی صدا سے ابھری تھی تاہم  وہ بھی مانند پڑ گئی کیونکہ “بول” اپنے اس نکتہ نظر کے بالکل بھی ہم قدم نہ نظر آیا جس کا وہ پرچار کیا کرتا تھا. “بول” کی باتیں پھر کبھی سہی …صحافت میں مجھے 5 سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے. زمانہ طالب علمی میں کامیابی کے سپنے سونے نہیں دیتے تھے اور اب ناکامی کی تلخیاں کہتی ہیں کہ سو جا. صحافی سیاست دانوں، فوجی جرنل سمیت کسی پر بھی نکتہ چینی کرنے سے نہیں ڈرتا جو کہ اچھی بات ہے اور یہ ہی آزادی صحافت ہے. اس پر بھی پاکستان کو آزادی صحافت کے لئے آئیڈیل نہیں سمجھا جاتا جبکہ ہم سب باخبر ہیں کہ “پانامہ” کا ہنگامہ بپا کرنے والی خاتون صحافی کا کیا انجام ہوا ہے، تو بھائی صاحب مان لیجئے سچ سب کو ہی کڑوا لگتا ہے صرف پاکستان کو ملامت مت کیا کریں. وطن عزیز کے آزاد میڈیا کا صحافی  عدالتی معاملات کی باریکیوں پر بھی خوب دل کی بھڑاس نکل لیتا ہے ہے کیونکہ اب صحافت “اینکرز” کی سرخی پاؤڈر کا نام ہے. اس لئے ہی خبریت میک اپ کی “سرخی” کی نظر ہوگئی ہے. واضح رہے میک اپ مرد صاحبان بھی کرتے ہیں جبکہ خواتین کی  صحافت تو  چوتیس ، چھبس اور چھتیس میں سمٹ آئی ہے. یہاں یہ کہتی چلوں کہ یہ میں ہوائی فائر نہیں کررہی بلکہ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے. میں  ( گناہ گار) کنول زہرا جسمانی حساب سے فربہ ہوں خیال رہے جسمانی حساب سے موٹی ہوں دماغی طور پر نہیں ہوں. آجکل پھر بے روزگار ہوں. ایک میڈیا ہاؤس سے  انٹرویو کال آئی  میں خوشی خوشی اپنے “کام” کی فائلز لیکر مقررہ  مقام پر مقررہ وقت پر پہنچی. اپنی باری کے انتظار کے بعد جب انٹرویو روم میں داخل ہوئی تو یوں لگا جیسے “میاں صاحب” کی طرح میں بھی احتساب عدالت میں ہوں. سوالات ایسے  ہوئے جیسے  میرا نام اسحاق ڈار ہو جبکہ وہ لوگ سی وی دیکھ چکے تھے جس میں میرا نام کنول زہرا ہی لکھا تھا. معذرت کیساتھ مجھے کہنے دیں، قابل وہ نہیں ہوتا جو کسی کی تضحیک کرئے بلکہ قابل وہ ہے جو سامنے والے کو عزت دیکر اس کے دل میں اپنا مقام پیدا کرئے. وہاں انٹرنیشنل میڈیا کی باتیں ایسے ہوئیں جیسے سارے کہ سارے BBC والے ہیں جبکہ کون کون کہاں سے ہے اور کتنے میڈیا ہاؤسز کی خاک چھان چکا ہے سب کو ہی پتہ ہے. بہرحال انٹرویو سے واپسی کے بعد مجھے حسب توقع پتہ چلا کہ کنول زہرا آپ کی کوئی گنجائش  نہیں کیونکہ آپ میں کوئی اسپاک نہیں ہے. پوچھا بھئی  کیوں.. جواب میں خاموشی.کہا کنول کا کام دیکھا کہا نہیں کام تو نہیں دیکھا البتہ ان کا جسم مزے کا نہیں ہے بہت لمبی چوڑی ہیں. کہا اس سے نیوز روم  کے لئے کام لینا ہے یا ذاتی کمرے کی رونق بڑھانی ہے جواب میں طویل خاموشی… تو جناب یہ ہے ہمارا وہ میڈیا جو وہ “سچ” دیکھایا تو جاتا ہے تاہم “سچ” ہوتا نہیں ہے. ہم سب انٹرنیشنل میڈیا کی مثالیں   دیتے ہوئے ذرا نہیں گبھراتے ہیں، تو جناب  اس وقت کیوں ہماری آنکھیں اندھی  کیوں ہوجاتی ہیں جب بیرونی ملک کا میڈیا بھاری بھرکم خواتین کو “کام”کی بنیاد پر اپنے میڈیا ہاؤس کا مکین بناتا ہے. وہاں کہ مرد بھی چوبیس، چھبیس اور چھتیس کی اکائیوں کو اپنی بالش سے ناپنے کی چاہ رکھتے ہونگے تاہم ذاتی روم کی رونق کی خواہش کو دبا کر نیوز روم کو ٹیلینٹ دیا جاتا ہے کیونکہ خبر اسمارٹ یا موٹی نہیں ہوتی ہے. خبر صرف خبر ہوتی ہے.اب اگر کوئی یہ کہے کہ جو لوگ دیکھیں گے وہ ہی دیکھایا جائیگا تو جناب ایسا نہیں ہے میڈیا جو دیکھاتا ہے لوگ وہی دیکھتے ہیں بس اپنی چوتیس، چھبیس اور چھتیس کو اپنے ہاتھوں سے چھونے کی آرزو کودبانا ہوتا ہے کیونکہ صرف اس میں ہی اسپاک نہیں ہوتا ہے آپ کا قلم کتنا زورآور ہے صحافت میں اس کو اسپاک کہتے ہیں.

 

 

سیدہ کنول زہرا.. فری لائنس صحافی.. سیاسی و دفاعی موضوعات پر لکھتی ہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *