اربوں روپے خرچ کر کے بھی صاف پانی فراہم نہیں کرسکتے: چیف جسٹس

is it legal to buy prescription drugs online from canada لاہور: سپریم کورٹ میں صاف پانی کمپنی از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے صاف پانی کمپنی کے تمام ملازمین اور افسران کی تنخواہوں سمیت تمام مراعات کی تفصیلات طلب کرلیں۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں صاف پانی کمپنی از خود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کی چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پاکستان کو بنے 70 سال ہوگئے اور آپ میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ کمپنی کو چلا سکے۔ صاف پانی کمپنی میں غیر ملکی کنسلٹنٹس کی کیا ضرورت پڑ گئی۔ کیا ہمارا ٹیلنٹ ختم ہو گیا جو کنسلٹنٹس رکھے گئے؟چیف جسٹس نے مزید کہا کہ صاف پانی کی فراہمی کے لیے زمین میں بور کر کے لوگوں کے گھروں میں پانی پہنچائیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ بور کر کے فلٹریشن پلانٹ لگائیں، لوگوں نے بالٹیاں، گیلن، کندھوں پر اٹھائی ہوں اور وہاں سے پانی لے کر آپ کے شکر گزار ہوں۔انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے خرچ کر دیے گئے ہیں۔ پریزینٹیشن وزیر اعلیٰ کے لیے کیا کریں، ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ لوگوں کا جذبہ دیکھیں کہ انہوں نے آپ کو فلٹریشن پلانٹ لگانے کے لیے مفت جگہیں دیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ سنہ 2014 میں آپ نے صاف پانی کمپنی شروع کی۔ کیا تیل ڈھونڈ رہے تھے جو جگہ جگہ بور کرتے پھرتے ہیں؟ کمپنی میں کنسلٹنٹس لگا دیے ہیں حالانکہ یہ کام کیمسٹری کا طالب علم بھی کر سکتا ہے۔عدالت نے کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان پر سرکاری نوکری چھوڑ کر صاف پانی کمپنی کا چیف ایگزیکٹو بننے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کیا آپ بیسویں گریڈ کے افسر ہوتے ہوئے عوام کو صاف پانی نہیں دے سکتے تھے۔ صوبہ بھر میں 4 سال میں 116 فلٹریشن پلانٹ لگائے، جن پر 400 کروڑ روپے خرچ کر دیے گئے۔عدالت نے صاف پانی کمپنی کے تمام ملازمین اور افسران کی تنخواہوں سمیت مراعات کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *