تمہں وطن کی ہوائیں سلام کرتی ہیں۔

تمہں وطن کی ہوائیں سلام کرتی ہیں۔

تحریر کنول زہرا

میراقلم، میری حیات

اگرکسی سے پوچھاجائے کہ کیا جنگ مثبت حل ہے تو یقیناًاس کا جواب نفی میں ہوگا۔جنگ مسائل کا حل نہیں بلکہ مسائل کا انبارہے۔بد قسمتی سے اس کا اندازہ دو عالمی جنگوں کے بعدہوا البتہ اندازہ ہونے کے باوجودجنگ بندی کا سلسلہ نہ ہوسکا۔ ماضی میں جنگیں سرحدوں پر لڑی جاتی تھیں جبکہ دور جدید میںیہ سلسلہ بھی جدت اختیار کرگیا ہے اب جنگ غیر روایتی طور پر لڑی جاتی ہے۔ اگرچہ درمیان میں سردجنگ کا سلسلہ بھی رونما ہو اجس کی واضح مثال 1990 میں سوویت یو نین کا ٹکڑے ٹکرے ہونا ہے۔بعد ازاں غیر روایتی جنگ کا آغازہوا۔جس سے وطن عزیزطویل عرصے سے نبردآزما ہے ۔ اس جنگ میں روایتی ہتھیار یاسرحدی جنگ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ’سوچ‘ کی تبدیلی کا عمل دخل ہوتاہے۔بدقسمتی سے ہمارے یہاں انتہاپسندی کا رجحان عروج پر ہے۔ جس کے باعث ملک انتشار کا شکار ہے۔اسی انتشار کے سبب قوم کے لاتعداد بیٹے جان کی بازی ہارگئے جبکہ مسلح افواج نے احسن طریقے سے اپنی خدمات پیش کیں جس میں قوم کے بہادر فرزندوں نے جان کے نذرانے بھی پیش کیے۔ملک کو خانہ جنگی کی کیفیت سے نکانے کے لئے

پاک فوج کا وقت فوقنا آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔ ذیل مین اس کی مختصر تفصیل موجود ہے۔

2006

سے تاحال13 فوجی آپریشنز ہو چکے ہیں

-آپریشن المیزان 2002-2006 (فاٹا)

-آپریشن راہ حق نومبر 2007 (سوات)

-آپریشن شیر دل سپتمبر 2008 (باجوڑ)

-آپریشن زلزلہ 2008-9 (ساؤتھ وزیرستان)

-آپریشن صراط مستقیم 2008 (خیبر ایجنسی)

-آپریشن راہ راست مئی 2009 (سوات)

-آپریشن راہ نجات اکتوبر 2009 (ساؤتھ وزیرستان)

-آپریشن کوہ سفید جولائی 2011 (کرّم ایجنسی)

-آپریشن ضربِ عضب June 2014

-آپریشن کراچی تا حال جاری

– لاتعداد کومبنگ آپریشن (پورا پاکستان)

-آپریشن ردفساد 2017 (پورا پاکستان)

خیبر4 آپریشن

ان آپریشنز کی تفصیلات کچھ یوں ہیں،

گذشتہ سال ماہ فروری میں ملک میں اچانک دہشت گردی نے زور پکڑاور گیارہ روز میں دس بم دھماکے رپورٹ ہوئے بعد ازاں پاکستان آرمی اور فضائی  نے آپریشن رد الفساد کے نام  سے کاروائی کا آغاز کیا۔ جو تاحال جاری ہے جس کے نتجیے میں  بہت سی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ یہ آپریشن موجودہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی سربرائی میں ہورہاہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے مطابق

22

 فروری سے تاحال پورے پاکستان میں ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد  آپریشن کیے جا چکے ہیں۔

آپریشن راہ نجات

نومبر 2007 سوات میں پاک فوج کی جانب سے مبینہ شّدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کئےجانے والے آپریشن کو آپریشن راہ حق کا نام دیا گیا۔

واضح رہے کہ اس تنظیم کو حکومت پاکستان پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی ہے۔جس میں15 سپاہی شہید ,3 پولیس شیہد ، 290 افراد لقمہ اجل بنے اور 143 مشتبہ افراد گرفتار ہوئے۔

آپریشن شیر دل

خیبر پختونخوا میں ’جنگِ باجوڑ‘ جسے آپریش شیر دل کا نام دیا گیا تھا، اس کا آغاز ہوا، یہ پاکستان کے باجوڑ کے علاقے میں ہونے و الی فوجی کارروائی تھی جس میں فرنٹیئر کور اور پاکستان آرمی کے جنگجو برگیڈ نے حصہ لیا تھا۔

باجوڑ آپریشن

باجوڑ کے علاقے پر 2007 کے اوائل سے ہی طالبان نے قبضہ کر لیا تھا اور کہا جاتا تھا کہ القاعدہ کا بنیادی کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز یہاں قائم تھا جس سے شمال مشرقی افغانستان بشمول کنڑصوبہ میں ہونے والی کاروائیاں کنٹرول کی جاتی تھیں۔ باجوڑ اب طالبان سے پاک ہو چکا ہے۔

 پاکستانی فوج نے 1000 سے زیادہ جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعوٰی کیا جن میں القائدہ کا مقامی رہنما مصر کا باشندہ ابو سعید المصری بھی شامل تھا۔ فوج کے 82 جوان شہید ہوئے۔

آپریشن زلزلہ

2008 میں آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی کی زیر نگرانی ساؤتھ وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ 2009 کی پاکستان سکیورٹی رپورٹ کے مطابق 2008 میں 313 کے مقابلے میں 2009 میں سکیورٹی فورسز نے 596 آپریشنل حملے کیے اور اس سال میں 12866 شدت پسند گرفتار کیے گئے۔ ان میں 75 القاعدہ کے اراکین اور 9736 مقامی طالبان اور دیگر کالعدم تنظیموں کے اراکین شامل تھے۔

آپریشن راہ راست

پاک فوج کی جانب سے سوات اور اس سے ملحقہ علاقوں میں مبینہ شدّت پسندوں اور طالبان کےخلاف کیا جانے والی فوجی کارروائی کو آپریشن راہ راست کا نام دیا گیا ہے۔

آپریشن راہ نجات

جون 2009ء میں پاک فوج کی جانب سے وزیرستان میں کمانڈر بیت اللہ محسود کے گروپ کے خلاف کی جانے والی فوجی کارروائی کو آپریشن راہ نجات کا نام دیا گیا۔ اس آپریشن کا باقاعدہ آغازپاک فوج کے جنرل ہیڈکواٹرز پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد ہوا. ۔اس کارروائی میں پاک فضائیہ
بھی پاک فوج کے ہمراہ حصہ لے رہی ہے۔ سرکاری ذرا‏ئع کے مطابق یہ آپریشن تحریک طالبان پاکستان کے مکمل خاتمے تک جاری رکھا جا‌ئے گا۔

آپریشن کوہ سفید

2008

میں آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی کی زیر نگرانی ساؤتھ وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف

 کارروائی کی گئی۔پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ 2009 کی پاکستان سکیورٹی رپورٹ کے مطابق 2008 میں 313 کے مقابلے میں 2009 میں سکیورٹی فورسز نے 596 آپریشنل حملے کیے اور اس سال میں 12866 شدت پسند گرفتار کیے گئے۔ ان میں 75 القاعدہ کے اراکین اور 9736 مقامی طالبان اور دیگر کالعدم تنظیموں کے اراکین شامل تھے۔

آپریشن شمالی وزیرستان

شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملوں کے بعد عسکریت پسند شمالی وزیرستان سے بھاگ کر کرّم اور دیگر علاقوں میں پناہ لے رہے تھے لٰہذا کارروائی عمل میں آئیں۔

فوجی آپریشن کرّم کے ایک عسکریت پسند کمانڈر فضل سعید حقانی کے حقانی گروپ کو چھوڑنے کے اعلان کے چند روز بعد شروع ہوا ہے۔ فضل سعید حقانی کا مرکزی حقانی گروپ سے تعلق نہیں تھا تاہم وہ حقانی گروپ کے قریب سمجھا جاتا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسزاور شہریوں پر حملوں کے پاکستانی

 خلاف ہے۔

آپریشن ضربِ عضب

جون، 2014 کو وزیرستان میں شروع کیا گيا عسکری آپریشن ہے۔اس عسکری کارروائی کو ضرب و عضب کا نام دیا گيا ہے، عضب کا مطلب ہے کاٹنا، تلوار سے کاٹنا، عضب محمد صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی تلوار کا نام بھی تھا۔جس میں تین ہزار سے زائد دہشت گردوں کو واصل جہنم کیا جبکہ ایک ہزار سے زائد شر پسندوں کو گرفتار کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آرآصف غفور کے مطابق آپریشن ضرب و عضب کے نیتجے میں پولیس، ایف سی اور آرمی کے جوانوں کو ملا کر 189 شہادتیں عمل میں آئی ہیں، 9,450 افراد دہشت گردیکی نذر ہوئے۔

کراچی آپریشن

شہر قائد کی دگرگوں تھی ، معاشی حب کی صورت حال بہتر بنانے کے لئے بلا تفریق کارروائی کی اور شہر قائد کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے جوان مردی کی مثال قائم کی.اگرچہ اس آپریشن کو متنازعہ بنانے کی بہت کوشش کی گئی اور کی جاری ہے تاہم یہ آپریشن کامیابی سے جاری ہے اور کراچی میں قیام امن ممکن ہوا ہے۔

کراچی میں قیام امن کے حوالے سے 2015کے اختیام پر اس وقت کے ڈی جی رینجرزسندھ میجرجنرل بلا ل اکبر نے میڈیا کو بتایا کہ ہم نے 2015میں 5,795ٹارگٹ آپریشن کئے ہیں۔34,8978کا سامان جنگ مختلف کاروائیوں میں ری کور کیا ہے۔4950مشکوک افراد کو پولیس کے حوالے کیا ہے۔10353مشکوکافراد گرفتار کیے ہیں۔7,312جنگی سامان مختلف کاروائیوں کے دوران ری کور کیا ہے۔334ٹارگٹ کلرگرفتار کیے ہیں۔350دہشتگردوں کو لقمہ اجل بنایا ہے اور 224جرائم پیشہ عناصر کوتصادم کے دوران عبرت کا نشانہ بنایا ہے جبکہ سندھ رینجرزکی حالیہ پریس ریلیز کے مطابق5ستمبر 2013سےشروع ہونے والے ’کراچی آپریشن‘ میں تا حال 848 ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کیا جاچکا ہے جنھوں نے7224افراد کو قتل کیا تھا۔جبکہ ترجمان سندھ رینجریز کے مطابق رواں سال 8266آپریشن کیے گئے ہیں ۔13556گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔9992اسلحہ ری کور ہوا کیا ہے ۔555523گولہ باردو کاسامان برآمد کیا ہے ۔ترجمان رینجریز کا کہنا تھا کہ ان کارائیوں کے نیتجے میں 32رینجریز کے جوان شہید جبکہ 89زخمی ہوئے ہیں.چار ہزار سے زائد ٹارگٹ کلرز کو حراست میں لیا، پانچ سو کے قریب دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اُترا، یہ آپریشن سندھ رینجرز کے ذریعے 2013 میں شروع ہوا اور تاحال کامیابی کے ساتھ جاری ہے اس کی واضح مثال یہ ہے کہ اب کراچی میں نہ ہڑتال ہوتی ہے نہ معمول کی خون ریزیتواتر کے ساتھ ہونے والے فوجی آپریشنز کا یہ سلسلہ تاحال  میجر جنرل محمد سعید کی سربراہی میں جاری ہے، قوم کے بہادر سپوت ملک و ملت کی حفاظت کے لئے کوشاں ہیں.

واضح رہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وطن عزیز کا تقریبا  80  سے زائد ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے جبکہ 10 لاکھ کے قریب لوگ مالی طور پرمتاثر ہوئے، 70 ہزارلوگ شہید ہوئے ہیں، اور 49،081 افراد زخمی ہوئے ہیں.

خیبر4 آپریشن

خیبرایجنسی باڑہ، لنڈی کوتل اورجمرود، تین تحصیلوں پرمشتمل ہے جس کا زیادہ ترحصہ اکتوبرسنہ2014ء سے جولائی سنہ 2015ء میں آپریشن خیبر-1اور آپریشن خیبر-2کے دوران دہشت گردوں سے پاک کرالیا گیا تھا۔

یہ علاقہ اپنی آٹھ گزرگاہوں کے ساتھ 256 مربع کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ جس کے پہاڑی سلسلوں کی اونچائی سطح سمندر سے 12000 سے 14000 فٹ کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔

یہ آپریشن رواں سال 15 جولائی کو شروع ہوا اور ماہ آزادی (اگست) میں کامیابیوں کیساتھ اپنے منطقی انجام تک پہنچا۔

آپریشن خیبر فور کی تفصیلات کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے دوران 52 دہشت گرد ہلاک جبکہ 31 دہشت گرد زخمی اور چار نے ہتھیار ڈال دیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی بتایا کہ آپریشن خیبر فور میں پاک فوج کے 2 سپاہی شہید اور 6 زخمی ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے برآمد کیے جانے والے سامان میں بارودی سرنگ بنانے والا سامان ملا ہے جس پر ’میڈ ان انڈیا‘ لکھا ہوا تھا۔

مادر وطن کی سرحدوں کے محافظ ’مرد آہن‘ پاک فوج کے سپاہی آئے دن دفاع وطن کے خاطر اپنا آج قربان کرنے سے ذرا نہیں گھبراتے ہیں۔ ان ہی چاک و چوبند جوانوں نے

3

مارچ

2016

کو انڈین نیوی کا حاضر سروس افسر  کمانڈر کل بھوشن یادیو کو ایران کے ذریعے سے پاکستان  (بلوچستان) کے اندر داخل ہوتے ہوئے اپنی تحویل میں لیا۔ بعد ازاں اس نے ایک اقبال جرم کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ وہ انڈین خفیہ ایجنسی ’را‘ کا تربیتی یافتہ ہے۔ اسے ’حسین مبارک پٹیل‘ کا نام دیکربلوچستان اور کراچی کے حالات خراب کرنے کے لئے پاکستان بھیجا گیا تھا۔ ہمارے جوانوں نے ’ہندوستانی ہتھکنڈے‘کو دنیا کے سامنے کیا اور بتایا کہ کس طرح ایک ملک دوسرے ملک کا امن خراب کرنے کے لئے غیرروایتی اقدامات کرتاہے جوکہ یقینا غیر اخلاقی بھی ہیں۔ بھارت کب سے پاکستان سے غیرروایتی جنگ میں مصروف ہے اس راز پر سے پردہ تو موجودہ بھارتی وزیراعظم اپنے ’چناو‘ کی کمپنگ میں معتدد بار کرچکے ہیں جبکہ بھارتی وزیردفاع اور چیف آف آرمی اسٹاف بھی اپنے ان کرتوت کا اظہار کرچکے ہیں جس کے پیش نظر پاکستان کا اندرونی امن بری طرح متاثر رہا ہے تاہم اب جاکر کسی َحد تک امن کا قیام ممکن ہوا ہے جس کی کامیابی کا سہرا ہمارے دفاعی ادارے کو جاتا ہے۔ اللہ کے فضل سے پاکستان میں بسنے والی ’مائیں‘ وطن کی سلامتی پر اپنی گودیاں اُجرنے سے ذرا نہیں گھبراتی بلکہ ایک کے بعد دوسرے اورپھر تیسرے بیٹے کو بھی وطن عزیز کی سربلندی کے لئے قربان کردیتی ہیں۔

دوسری جانب سرحد کے اس پار کی ماوں کی حالت ان کا میڈیا دیکھا چکا ہے۔ کل بھوشن کے پکڑجانے اور اعتراف جرم کے بعد بھارت حواس باختہ ہوگیا اور پاکستان کے بیٹوں کو غفلت زدہ اور کل بھوشن کو افسانوی کردار بنانے کے لئے گذشتہ  ستمبر کی 29 کو ’سرجیکل اسٹرائیک‘ کا دعوی کرکے اپنی جگ ھنسی کروائی۔

پاک فوج کوئی عام فوج نہیں ہے۔ ہمارے جوان مادر وطن کی سربلندی کے لئے محدود بجٹ میں زیادہ ہمت و طاقت سے اہلیان وطن کے مسائل حل کرنے میں متحرک ہوتے ہیں۔ملک میں قحط پڑے، زلزلے آئیں ، کہیں آگ لگ جائے، موسمی تندیلی کے باعث شدید گرمی پڑے یا بارشیں ہوں دھرتی کے سپوت ہر وقت مادر وطن کی خدمت کے لئے پیش پیش ہوتے ہیں۔ حد ہے کہ وطن میں دیر پا امن کے قیام اور ’کرکٹ کی واپسی‘ تک  کا سہرا ان ھی دھرتی کے بیٹوں کے سر جاتا ہے۔علاوہ ازاں ملک میں تعلیم تربیت، صحت کے مراکز کی بہتر حالت بالخصوص نواجوانوں کی بہتر اصلاح کے لئے بھی کوشاں ہیں  جس کی جھلک وفاقی درالحکومت اسلام آباد میں آئی ایس پی آر کی جانب سے منعقدہ سیمنار ’ ملک کی فلاَح و بہبود میں ’نوجوانوں کا کردار‘ جس میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے ملک کے جوانوں کو بہتر کل کہااور ملک کی ترقی میں ان کے کردار کی اہمیت کہ اجاگر کر کے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کراچی آکر کرشہر قائد کے نوجوانوں سے جامعہ کراچی میں طویل نشیت بھی مقرر کی۔  جس میں انتہاپسندی سے گزیز کرنے پر زور دیا۔ دوسری جانب ملک کی معاشی ابتری کے خاتمے کے لئے بھی پاک فوج کے جوان متحرک ہیں۔ جس کی واضح مثال ’سی پیک‘ ہے اور چند ماہ قبل کراچی میں مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے زیر اہتمام معیشت اور سلامتی کے موضوع سے سیمنار کا انعقاد کیاگیا جس میں   تاجر برادری بڑی تعداد میں شرکت  کی جن سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خطاب کیا۔ یہ  سطروں پڑھنے والوں کو یاد ہوگا جب قمر باجوہ پہلی بار کراچی مزار قائد پر حاضری دینے کے لئے آئے تھے اس دوران ان کی ملاقات تاجربرداری سے ہوئی تھی جنھوں نے آرمی چیف سے کچھ اظہار تشویش کیا تھا۔  پاک فوج نےصوبہ بلوچستان کی فلاح و بہبود کے لئے بھی ایک ایسے کی مکالمے کی نشیت مقرر کی جبکہ آرمی چیف قمر باجوہ نے ’خوشحال بلوچستان‘ کے منصوبے کا بھی اعلان کیا۔  اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ خوشحال بلوچستان ہی خوش حال پاکستان ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور کے مطابق اس منصوبے پر کام کرنے کا مقصد صوبے میں دیرپااستحکام لانا ہے، جس کے تحت  بلوچستان کی سیکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور سماجی اور اقتصادی ترقی کے ذریعے صوبے میں دیرپا استحکام لایا جائے گا۔

کچھ سازشی عناصر کی سوچ کی وجہ سے ملک میں آئے دن جمہوریت کا بستر گول افوائیں گرم کی جاتی ہیں۔ پاک فوج کے چیف  نے چند روز قبل سینٹ کے بند کمرہ اجلاس میں سینٹرز کے سامنے بند کمرہ چار گھنٹوں پر مشتمل تفصیلی بریفینگ دیکر  اس تاثر کو زائل کیا۔

پاکستان فوج کی جانفشاں خدمات کا پڑوسی ملک بھی مداح ہے اکتوبر

2016 میں سابقہ انڈین آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے اقوام متحدہ کے امن مشن میں ایک خطاب میں اعتراف کیا کہ پاکستانی فوج دنیا کی نمبر ایک فوج ہے۔ اپنے خطاب میں جنرل بکرم سنگھ کا کہنا تھا کہ وہ دل سے اقرار کرتے ہیں کہ پاکستانی فوج دنیا کی سب سے بہترین فوج ہے اور یہ کہنے میں انہیں ذرا بھی عار نہیں  ہے۔

اس تحریر میں پاک فوج کی چند خدمات کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ دھرتی کے سپوتوں کی خدمات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ ہمارے جوان جوان کبھی مادر وطن کے سبز ہلالی پرچم میں لیپٹ کر کبھی غازی بنکر پاکستان کے انچ انچ کی رکھ والی کر رہے ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *