اسحاق ڈار کی جائیدادوں سے متعلق ہوشربا انکشافات

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ جمہوریت نہیں کرپشن بچائی جارہی ہے۔ نواز شریف کے فرنٹ مین اسحٰق ڈار کی 11 کمپنیاں، دبئی میں 52 محل ہیں اور ڈار کے بیٹوں کے 2 ٹاورز کی مالیت 20 ارب روپے ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایک اور این آر او کی کوشش ہو رہی ہے۔ یہ سب مل کر ملک لوٹ رہے ہیں۔ یہ جمہوریت نہیں نواز شریف کی چوری بچا رہے ہیں۔ یہ جس نظریے کی بات کر رہے ہیں وہ کرپشن ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ آج بتاؤں گا یہ لوگ پہلے لکھ پتی، پھر کروڑ پتی اور پھر ارب پتی کیسے بنے۔ ’1981 سے 2002 تک نواز شریف نے کبھی ٹیکس نہیں دیا۔ 2007 سے 2013 تک شریف فیملی کے اثاثے بڑھ جاتے ہیں۔ جےآئی ٹی میں شریف برادران کی چیرٹی کا ذکر کیا گیا تھا۔ ہجویری چیرٹی میں 70 کروڑ روپے ڈالے گئے لیکن اس کا کچھ پتہ نہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی 11 کپمنیاں ہیں جس میں سےایک ایچ ڈی ایس ہے۔ کمپنی ایچ ڈی ایس کے دبئی میں 52 محل ہیں۔ شریف فیملی کے پاس دبئی اور ترکی کمپنیوں سے پیسے آ رہے ہیں۔ یو کے، عمان اور سوئٹزر لینڈ کی کمپنیوں سے بھی پیسے آرہے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ایل این جی کنٹریکٹ سے متعلق ابھی تک پارلیمنٹ کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ ایل این جی کنٹریکٹ 15 ہزار ارب روپے کا ہے تفصیلات نہیں دی جا رہیں۔ ’کہا جا رہا ہے ایل این جی ڈیل حساس ہے پبلک نہیں کی جاسکتی، ملکی سطح پر جو بھی ڈیل ہوتی ہے اسے پبلک کیا جاتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف مجھےکیوں نکالا کا شور کیوں مچا رہے ہیں یہ سمجھنا ہوگا، نواز شریف کو معلوم ہے منی لانڈرنگ ثابت ہوگئی تو جائیداد ضبط ہوگی۔ ’ان کو پتہ ہے 300 ارب کے علاوہ دیگر اثاثے بھی سامنے آئیں گے۔ اقامہ تو صرف منی لانڈرنگ کے لیے حاصل کیا گیا تھا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ محمد صفدر، حسین شریف، اسحٰق ڈار کے بیٹوں کی کمپنیوں میں ملازم ہیں۔ 1981 سے 2002 تک اسحٰق ڈار نے کبھی ٹیکس نہیں دیا۔ ’ملک کا وزیر خارجہ دوسرے ملک میں کمپنی کا لیگل اسسٹنٹ بنا ہوا ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ عدلیہ پر حملے کیے جا رہے ہیں، ججز سے درخواست کرتا ہوں نوٹس لیں۔ کھلے عام سپریم کورٹ کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ عدالت سے درخواست ہے توہین عدالت کے قانون پر عملدر آمد کروائیں۔ ’سپریم کورٹ کے پیچھے پوری قوم ہے، کسی قسم کا دباؤ برداشت نہ کرے۔ جس طرح یہ لوگ تنقید کر رہےہیں اس طرح کل کوئی بھی تنقید کرے گا‘۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ توہین عدالت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *