پاکستان میں صحافی ہونا آسان نہیں تحریر شازیہ نئیر

شازیہ نئیر

پاکستان جیسے ملک میں سچ لکھنا کس قدر مشکل کام ہے اور سچ بولنے اور لکھنے والے کو کیا خطرات ہو سکتے ہیں اور اب بھی ہیں یہ سب صرف وہی جان سکتے ہیں جو سچ لکھنے اور بولنے کے بعد یہ سب صعوبتیں برداشت کرتے ہیں ۔ جی ہان صحافی حضرات جو پاکستان میں اپنی زندگی اور اپنے خاندان تک کی زندگی داو پر لگا کر پاکستان کے شہریوں کے لئے سچائی کا کھوج لگاتے ہیں ۔ آج انکی زندگی انتہائی خطرے میں ہے ۔ ہر سال پاکستان میں کئی صحافی اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ اور صحافیوں کے قتل میں ملوث وہ ” نا معلوم ” ہاتھ اور افراد آج تک کبھی سامنے نہیں آ سکے ۔ پاکستان میں اب تک ایک سو بیس  سے زائد صحافی اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ انیس سو ستانوے کے بعد کوئی سال ایسا نہیں گزرا جس میں کسی صحافی کو نشانہ نہ بنایا گیا ہو ۔ جبکہ دو ہزار چھ سے لے کر دو ہزار سترہ تک صحافیوں کے قتل کے واقعات میں  اضافہ ہوا۔  دو ہزار گیارہ اور بارہ میں صحافیوں کے قتل کے گیارہ گیارہ واقعات پیش آئے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان صحافیوں کے لئے  دنیا کا چوتھا خطرناک ترین ملک بن چکا ہے ۔ دو ہزار ایک سے لے کر دو ہزار پندرہ تک صحافیوں کے قتل کے اکہتر واقعات رپورٹ ہوئے ۔

صحافیوں کے تحفظ کے لئے بل تا حال منظوری کے لئے نہی بھیجا جا سکا۔ وفاقی وزیر  مملکت برائے اطلاعات و نشریات کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کا بل جلد منظوری کے لئے بھیجا جائے گا۔ شاید ہماری حکومت وقت اور گزشتہ تمام حکومتوں کے پاس صحافیوں کے تحفظ کے لئے قوانین بنانے کے لئے وقت ہی نہیں ہے ۔ کس قدر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس حکومتوں کو اپنی بات عوام تک پہنچانے کے لئے سب سے زیادہ جس کی ضرورت ہے وہ میڈیا ہے ۔ اخبار اور اسکرین تک اپنی بات پہنچانے کے لئے صحافی ہی وہ واحد راستہ ہے جو حکومتوں کے لئے پل کا کردار ادا کرتا ہے لیکن کسی بھی حکومت کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ صحافی کے تحفظ کے لئے اقدامات کر سکے ۔

عوام کی آواز بننے والے یہی صحافی اپنے فرائض سر انجام دیتے ہوئے  کبھی دہشت گردوں کا نشانہ بنتے ہیں اور کبھی سیاسی جماعتوں کے عتاب کا شکار ہوتے ہیں ۔ کبھی کرپٹ لوگوں کی کرپشن بے نقاب کرنے کے چکر میں اپنی زندگی ہار جاتے ہیں اور کبھی اسی دشمنی میں پابند سلاسل کئے جانے کی مذموم کوشش کی جاتی ہے ۔ یہی صحافی کسی مظلوم کی آواز بننے پر کسی ظالم کی گولی کا نشانہ بن جاتے ہیں، یا ساری زندگی کے لئے معذور ہو جاتے ہیں ۔ انہی صحافیوں کو اپنی آواز بند رکھنے کے لئے کبھی ریاستی دبائو  کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو کبھی تحقیاتی اداروں کا ۔ صحافی کبھی مذہبی انتہا پسندوں کے پیروکاروں کا نشانہ بنتا ہے تو کبھی حقائق کے پیچھتے بھاگتے ہوئے دشمنی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ لیکن آج تک اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہا ہے ۔ آج تک یہ صحافی اپنے تحفظ کے لئے قانون کا انتظار کر رہا ہے ۔

دو نومبر کا دن ہر سال صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ لیکن حاکم وقت کی جانب سے ہر وعدہ صرف وعدہ ہی ہے ۔ صحافیوں کو دی جانے والی تسلی اگلے آنے والے سال تک کے لئے چلتی رہتی ہے ۔ صحافیوں پر ہونے والے حملوں میں اسلام آباد دوسرے نمبر پر ہے جبکہ سندھ پہلے نمبر پر ہے ۔  اب تک قتل ہونے والے صحافیوں میں صرف چند دو کیسوں میں مجرمان کو سزا سنائی گئی لیکن یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان کیسوں میں بھی شفاف تحقیقات نہیں کی جا سکیں ۔ لیکن دیگر تمام واقعات تا حال اپنی شنوائی کے منتظر ہیں۔

۔

شازیہ نئیر صحافی اور قلم نگار ہیں۔ان کا ٹویٹر اکاونٹ

ہے ۔ @shaznayyar

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *