سڑکیں ، دھرنے اور عوام ” شازیہ نئیر”

 

 

 

 

 

 

شازیہ نیئر

بس ہماری قسمت میں یہی خواری لکھی ہوئی ہے ۔ جب کہیں جانے کی ضرورت پڑ جائے پبلک ٹرانسپورٹ کیوں غائب ہو جاتی ہے ۔ میٹرو سٹیشن سے نکلتے ہوئے خاتون انتہائی غصے میں تھی۔ اور وجہ تھی ڈی چوک میں ہونے والا دھرنا ۔ ختم نبوت قانون میں ترمیم پر احتجاج کرتے ہوئے علماء کرام نے بنیادی انسانی حقوق کو بھی اپنے پاوں تلے روندتے ہوئے گزشتہ چھ دنوں سے نہ صرف ڈی چوک کو بند کر رکھا ہے بلکہ اسکی وجہ سے انتطامیہ نے میٹرو کو بھی احتیاطی تدابیر کے طور پر بند کر رکھا ہے جس کے باعث راولپنڈی اسلام آباد کے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے ۔ اسلام میں حقوق اللہ سے پہلے حقوق العباد پر زور دیا گیا ہے لیکن جب بھی کوئی بات منوانی ہو یا یا ھقوق کی جنگ لڑنی ہو سب سے پہلے بنیادی انسانی حقوق ہی سلب کر لئے جاتے ہیں ۔ علماء کرام نے یہ بھی نہیں سوچا کہ کتنے کالج جانے والے طلباء کو میٹرو بند ہونے سے پریشانی کا سامنا ہو گا۔ کتنی ہی دفاتر آنے والی خواتین کو میٹرو کی عدم دستیابی سے مہنگی ٹیکسی برداشت کرنا پڑے گی ۔ پولی کلینک ہسپتال جانے والوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ پولی کلینک کے بلکل سامنے تو دھرنا جاری ہے ۔ مریضوں کو بلیو ایریا سے دوگنا راستہ طے کر کے ہسپتال تک پہنچنا پڑ رہا ہے ۔ لیکن اس سے علماء کا کیا کام ۔ وہ تو بیٹھے ہیں جب تک حکومت انکے مطالبات مان نہیں لیتی ۔ دوسروں کو نیکی اور ایمان کا درس دینے والے حضرات یہ تک بھول گئے ہین کہ انکے اس اقدام کے باعث گزشتہ کتنے دنوں سے ایک عام آدمی مصائب برداشت کر رہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ترمیم ایک عام آدمی نے کروائی ہے جسے سزا دی جا رہی ہے ۔ سڑک کے بیچوں بیچ بیٹھے علماء سے صرف چند باتیں پوچھنا ہیں کہ ملک کے بگڑتے حالات کو علماء نے کتنا سدھارنے کی کوشش کی ہے ۔ کیا کبھی ان میں سے کسی ایک نے کبھی دال کی اور سبزی کی بڑھتی قیمت پر صدائے احتجاج بلند کی ۔ کیا ان میں سے کسی نے کرپشن اور نا انصافی پر اپنی آواز اٹھائی ، کیا ان میں سے کسی کو خیال آیا کہ کبھی دہشت گردی جیسے ناسور پر کوئی بیان ہی دے دے ۔ کبھی دہشت گردوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر لیں ۔ کبھی ان علماء میں سے کسی نے غیرت کے نام پر قتل ہوتی لڑکی کے قاتلوں کو گنہاگار ٹھہرایا ۔ کیا کبھی ان میں سے کسی نے خواتین کے براب حقوق کے لئے آواز اٹھائی ۔ یقینی طور پر کبھی نہین بلکہ انکو یہ مسائل نظر ہی نہیں آئے کبھی ۔ میں یہ ہرگز نہیں کہتی کہ علماء ایک غلط مقصد کے لئے دھرنا دئیے بیٹھے ہیں ۔ بلکہ اگر یہ دھرنا کسی ایسے مقام پر دیا جائے جہاں ایک عام آدمی کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے تو کیا برا ہے ۔ اپنی بات ضرور منوائین لیکن خدارا ایک عام انسان کی پریشانیوں میں اضافہ کئے بغیر بھی بہت سی باتیں منوائی جا سکتی ہیں ۔ یہ کیا کہ کبھی علماء کبھی ینگ ڈاکٹرز کبھی اساتذہ اور کبھی معاشرے کا کوئی اور طبقہ اپنی بات منوانے اور اپنے مطالبات پورے نہ ہونے کی سزا ایک عام آدمی کو دیتے ہیں ۔ کبھی سڑکیں بند کر کے اور کبھی احتجاج میں توڑ پھوڑ کر کے۔ ان احتجاجیوں نے کبھی عام آدمی کی پریشانی کو نہیں سمجھا اور نہ ہی کبھی عام آدمی کے مسائل پر توجہ دی ۔

شازیہ نئیر صحافی اور قلم نگار ہیں۔ان کا ٹویٹر اکاونٹ

ہے ۔ @shaznayyar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *