دھرنے کے شرکاء

سوشل میڈیا پر گالم گلوچ سے بھری پوسٹ پڑھتے ہوئے حیران و پریشان تھی کہ ہمارے سوشل میڈیا والوں کو کیا ہو گیا ہے جب تحریر کے اختتامی الفاظ میں خادم رضوی صاحب کی منہ سے نکلے الفاظ لکھا دیکھا تو باقی صرف افسوس ہی بچا ۔ فیض آباد انٹر چینج پر گزشتہ کئی روز سے دھرنا جاری ہے اوردھرنے کے شرکاء کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ختم نبوت کی آئنی ترمیم کو اصل شکل میں بحال کیا جائے اور اس گستاخی کے مرتکب کو سامنے لایا جائے۔ بلاشبہ اس معاملے پر تمام مسلمان پاکستانیوں کی دل آزاری ہوئی لیکن احتجاج کا یہ کیا طریقہ ہے کہ گھر کی ماں ، بہن ، بیٹیوں کو گندی گالیوں سے نوازا جائے اور سننے والے ان گالیوں پر داد و تحسین کے نعرے لگائیں۔ اگر کھلے الفاظ میں کہا جائے تو یہ جہالت کی بدترین قسم ہے کہ آپ اللہ کے محبوب کی محبت میں بیٹھے ہیں لیکن اس محبوب کی تعلیمات سے کوسوں دور ہیں۔ کیسے کھلے عام مقدس رشتوں کے لئے توہین آمیز ، غیر اخلاقی اور شرمناک الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ شرکاء سے معزرت کے ساتھ کیا آپ کی تعلیمات اسلام کی خدمت کے لئے ہیں یا اسلام کی بدنامی کے لئے۔ یہ دھرنا دیکھ کر مجھے کچھ عرصہ قبل ممتاز قادری کے لئے پارلیمینٹ کے سامنے ہونے والا دھرنا یاد آگیا ۔ جس میں بیٹھے ہوئے باریش اور معتبر افراد بھی کچھ ایسی ہی زبان استعمال کر رہے تھے۔  جس سے عام عوام یہ سوچنے پر مجبور ضرور ہوئی تھی کہ آیا یہ لوگ اس قابل ہیں کہ ان سے اپنے دین کی تعلیم حاصل کی جائے۔ جو لوگ ماں اور بہن بیٹی جیسے رشتوں کے تقدس کی بیچ چوراہے دھجیاں اڑاتے ہوں ان سے تو کوسوں کا فاصلہ ہی بہتر ہے۔  پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے ہونے والے ممتاز قادری کے حمایتی دھرنے اور ختم نبوت کے قانون میں ترمیم واپس اصل حالت میں بحال کرنے کے لئے ہونے والے دھرنے میں کچھ زیادہ فرق نہیں  دونوں دھرنوں کے شرکائ نے زندگی سے جڑے مقدس رشتوں کے لئے نازیبا الفاظ کا ایک سا استعمال کیا ہے۔ اگر انکا مقصد نیک ہے تو نیکی میں گالی کی گنجائش پیدا ہو ہی نہیں سکتی۔  اور جہاں گالم گلوچ ہو وہاں نیکی باقی نہیں رہ سکتی۔ گندی زبان استعمال کر کے نیکی کا پرچار کرنے والوں کو جان لینا چاہئیے کہ جہالت کے دور کی یاد تازہ کر دیتے ہیں جہاں کسی رشتے کا کوئی احترام نہیں تھا۔ دھرنے میں ناشائستہ زبان استعمال کرکے ہر رشتے پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے۔

۔

۔

شازیہ نئیر صحافی اور کالم نگار ہیں۔ان کا ٹویٹر اکاونٹ

ہے ۔ @shaznayyar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *