میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کی انتہا 

 

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کی انتہا

میانمار میں سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مظالم کے بعد ہزاروں مسلمان ملک چھوڑ کر بنگلہ دیش ہجرت پر مجبور ہو گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق میانمار سے ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی تعداد 90 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔

 

پاکستان نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل اور نقل مکانی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے.ترجمان دفترخارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ میانمار کی حکومت ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لے اور روہنگیا مسلمانوں کے حقوق کے لئے اقدامات کرے۔میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور لرزہ خیز مظام کے خلاف سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مذمتی قراردادیں جمع کروائی گئیں۔ قراردادوں میں اقوام متحدہ کے ذریعے میانمار میں مسلمانوں کی نسل کشی رکوانے کا مطالبہ کیا گیا۔

 

دوسری طرف میانمارکی فوج اور بدھ ملییشیا کے بدترین مظالم کا شکار روہنگیا مسلمانوں کی بنگلہ دیش ہجرت کا سلسلہ جاری ہے، اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں میں جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزارسے زائد ہوگئی ہے۔پناہ کی تلاش میں نکلنے والے متعدد مرد، خواتین اور بچے دریا میں ڈوب گئے تو کچھ کو بارڈز گارڈز نے گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا۔ بنگلہ دیش میانمارکی سرحد پرپہاڑیوں اوردریامیں پھنسےافراد امداد کے منتظر ہیں۔ برما کی آرمی اور بلوائیوں سے بچ کر فرار ہونے والے 30 ہزار روہنگیا مسلمان پہاڑوں کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں جن کے پاس کھانے پینے کا سامان اور ادویات موجود نہیں۔

 

عالمی میڈیا کے مطابق کہ برما کی آرمی کی جانب سے مسلمانوں کو بے گھر کیا جارہا ہے جب کہ بدھسٹ برما کی آرمی کی شہہ پر انہیں قتل کررہے ہیں۔واضح رہے کہ ریاست رخائن میں تقریباً 10 لاکھ مسلمان آباد ہیں جن کا بودھوں کی اکثریتی آبادی کے ساتھ کئی برس سے تنازع جاری ہے جس کی وجہ سےروہنگیا مسلمان شدید مظالم کا شکار ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *