موسمیاتی تبدیلیاں اور ہم تحریر شازیہ نئیر

موسمیاتی تبدیلیاں اور ہم

شازیہ نئیر 

گزشتہ چند برسوں سے درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے نے پاکستانیوں کے ہوش اڑا دئیے ہیں ، ہر آنے والا سال گزرے سال سے زیادہ گرم اور سخت موسم لے کر آ رہا ہے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ اب موسموں کے آنے اور جانے میں بھی تیزی آ گئی ہے اور پاکستان میں جو ایک خوبصورت موسم جسے بہار کے نام سے جانا جاتا ہے کافی حد تک کم ہو گیا ہے ۔ اب پھول کم وقت کے لئے ہی نظر آ پاتے ہیں ۔ اور وہ خوبصورت بہار جو کبھی رنگوں اور خوشبووں کی برسات لایا کرتی تھی کہیں کھو گئی ہے ۔

پاکستان کے شمالی علاقے آج بھی ایک خوبصورت اور پر فضا مقامات میں شمار ہوتے ہیں لیکن وہاں کی آب و ہوا بھی کافی حد تک متاثر ہو چکی ہے ۔ مری جیسا خوبصورت تفریحی مقام بھی ہماری لا پرواہی کے باعث تباہی کے دہانے پر ہے  ۔ اور وہاں کی آب و ہوا بھی بدل رہی ہے ۔ اسلام آباد جیسا خوبصورت شہر بھی موسمیاتی تبدیلی کے باعث انتہائی موسم کا شکار ہو رہا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں  سڑکوں کی تعمیر  کے دوران ہزاروں درختوں کو کاٹا گیا لیکن اسکے بدلے میں درخت لگانے کی رفتار سست  رکھی گئی جسکے باعث علاقے کی آب و ہوا پر منفی اثرات مرتب ہوئے ۔

پاکستان ان دس ممالک کی فہرست میں شامل ملک ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے انتہائی حد تک متاثر ممالک ہیں ۔ اسی کے باعث پاکستان سیلاب ، خشک سالی ، طوفان  اور درجہ حرارت میں اضافہ جیسے مسائل کا شکار ہے ۔ اور اسی حوالے سے ماحولیاتی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے ۔ پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کی سخت ضرورت ہے جن سے ماحولیاتی مسائل پر قابو پایا جا سکے ۔ ہر سال ماحولیات کت عالمی دن پر ہی مہم چلائی جاتی ہے حالانکہ یہ مہم سارا سال ہونی چاہئیے ۔ ان مسائل کے حل کے لئے جہاں حکومت کی ذمہ داری ہے وہیں پاکستان کے عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کریں ۔ خیبر پختون خوا میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بلین ٹری سونامی جیسا منصوبہ شروع کیا گیا اگر اسی طرح کے منصوبے پورے پاکستان میں شروع کر لئے جائیں تو پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے ۔

صرف ایک جماعت یا حکومت پر اکتفا کرنے کی بجائے اگر ہر شہری اپنا فرض اور ذمہ داری سمجھتے ہوئے اپنے حصے کا ایک درخت اگانا شروع کر دے تو وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کو سر سبز و شاداب بنایا جا سکے گا ۔ ہم ہر روز غیر ضروری اشیاء کی خریدادری کے لئے سینکڑوں روپے لٹا دیتے ہیں ۔ لیکن اگر ہم صرف چند روپے لگا کر ماحول کی مطابقت سے صرف ایک درخت لگا لیں تو ہماری آئندہ آنے والی نسلیں ایک سر سبز و شاداب پاکستان میں سانس لے پائیں گی ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *