محتاج ] تحریر ڈاکٹر شہزاد بسرا ]

see  

follow site

dating citas esporadicos  

dakar rencontre hot  

http://fbmedical.fr/aftepaes/7873  

go to site  

http://asiabettors.com/?prestiee=rencontre-femme-d%27un-jour-gratuit&f0e=3b  

best binary options trading platform rating  

see url  

http://halilbalim.com/?frimol=sitios-de-citas-mexico&b4c=70  

source url  

site de rencontre avec femme arabe  

 

 

 

محتاج

تحریر

شہزاد بسراء

”لنگڑا محتاج ہوں اللہ کے نام پر کچھ دو“۔

چوک میں اشارے پر رکھتے ہی ایک موٹا تازہ فقیر لنگڑاتا ہوا میری گاڑی کے پا س آکے صدائیں بلند کرنا شروع ہوگیا اور یہ اکثر ہوتا ہے یونہی کہیں گاڑی رُکے کوئی نہ کوئی فقیر آدھمکتا ہے اور آپ یا تو نظر انداز کردیتے ہیں یا کچھ 5،10دے کے جان چھڑا لیتے ہیں۔ میں نے ا س کو نظر انداز کیا کہ چلا جائے مگر اس نے گاڑی کو اتنے زور زور سے ہاتھ مارنا شروع کردیا کہ میں نے غصے میں شیشہ نیچے کیا اور کہا کہ ہٹے کٹے ہوکیا ڈھونگ رچا رکھا ہے۔ وہ آگے سے بولا لنگڑا محتاج ہوں۔اللہ کے نام پر کچھ دے دو۔دُعا دوں گا اللہ تجھے محتاج نہ کرے۔ میں نے بادل نخواستہ جان چھڑانے کے لیے 10روپے پکڑا کر جلدی سے شیشہ بند کردیا مگر اُس کے الفاظ بار بار میرے ذہن میں گھومنے لگے۔ لفظ ”محتاج“ تو جیسے میرے ذہن میں چپک کر رہ گیا اورمیں ذہنی کشمکش میں سوچنے لگا کہ محتاج ہوتا کیا ہے اور کیا میں بھی محتاج ہوں؟۔

جب ہم بچے تھے تو نہ خودکھا پی سکتے تھے اور نہ ہی واش روم کرسکتے تھے۔ ہم اپنی ماں کے محتاج تھے۔پھر کچھ بڑے ہوئے کھانا پینا تو خود شروع ہوگیا پر تھوڑی بہت محتاجی تو کچھ عرصہ رہی۔ خودمختار ہوتے گئے۔سکول کالج یونیورسٹیوں میں پہنچے تو محتاجی کم ہوتی گئی۔ اپنا کھانا پینا اپنے کپڑے پہننا سب کچھ۔ شاپنگ اپنی۔تعلیم کے لیے تھوڑے سے اخراجات کے لیے والدین کے محتاج رہے۔جب نوکری شروع کی تو پھر خود کمانا شروع کردیا اور یہ سمجھے کہ شاید محتاجی ختم ہوگئی۔کیا وہ محتاجی ختم ہوگئی؟کب تک رہے گی؟کچھ حضرات ایسے بھی ہوتے ہیںجو ساری عمر محتاج رہتے ہیںاور پانی بھی پینا ہو تو حکم چلاتے ہیں کہ پانی کا گلاس ان کو پیش کیا جائے۔غالباًان کے ہاتھ پاﺅں جو ٹوٹے ہوتے ہیں اور خو د کو مردانہ اکڑ میںالٹا خود کو محتاج کیے رکھتے ہیں اور اٹھ کر ڈسپنسرسے یا فریج سے پانی تک نہیں پی سکتے۔اسی کو خودپہ عائد محتاجی (Self Imposed Dependence)۔ جوب آ ں غزل کچھ بیویاں بھی ایسی ہوتی ہیں جو جواباً کہتی ہیں کہ میں کیوں اٹھوں۔ آپ اٹھ کر خود بھی پئیں اور مجھے بھی پانی پلادیں۔شوہر نامدار اپنی مردانگی پر اس سخت چوٹ پر تلملا اٹھتا ہے اور غصے سے کہتا ہے کہ میں تھپڑ رسید کروں گا۔جواباًبیوی کہتی ہے کہ تھپڑ مارنے کے لیے جب اٹھو گے تو میرے لیے پانی بھی لیتے آنا۔

میں کھائے پیئے بغیر تو کچھ دن زندہ رہ سکتا ہوں لیکن سانس لیے بغیر تو شاید میں ایک منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتا ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایک نارمل انسان (ایتھلیٹ یا بیمار نہیں) ایک منٹ میں چھ سے سات لٹرہوا سانس کے ساتھ اپنے اندر لے جاتا ہے۔ اس ہوامیں 20فیصد کے قریب آکسیجن ہوتی ہے جس کا تقریباً 5فیصدکے قریب حصہ جسم جذب کرلیتا ہے جبکہ باقی ماندہ آکسیجن سانس کے ساتھ باہر چلی جاتی ہے۔یوں ایک منٹ میںتقریباً0.4لٹر آکسیجن ایک نارمل انسان کی ضرورت ہے۔اس لحاظ سے پورے دن میں تقریباً ساڑھے پانچ سولٹر خالص آکسیجن ایک انسان کی ضرورت ہے ۔ یہ آکسیجن آتی کہا ں سے آتی ہے؟ پودے ہمارے لئے آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ایک درخت تقریباً0.14لٹر آکسیجن فی منٹ ہوا میں چھوڑتا ہے۔ تو اگر0.4کو0.14سے تقسیم کریں تو یہ تقریباًاڑھائی درخت بنتے ہیں، تقریباً تین درمیانے سائز کے درخت ایک انسان کو مسلسل آکسیجن مہیا کرتے ہیں ۔ اگرایک انسان کی عمر 60سے80سال ہو تولاکھوںکروڑوں لٹر آکسیجن درکار ہو گی۔ اچھے تن آور بڑے درخت جیسے پیپل،برگد وہ تو ایک درخت کئی لوگوں کی آکسیجن کے لیے کافی ہوتے ہےں۔ جبکہ درمیانے درجے کے کم ازکم تین درخت مجھے سانس لینے اور زندہ رہنے کے لیے مسلسل چاہئیں۔

تو کیامیں نے اپنے حصے کے تین درخت لگا لیے ہیں؟

یا میری محتاجی ابھی ختم نہیں ہو؟

میرے حصے کے درخت کس نے لگانے ہیں ؟

اگر کسی اور نے لگانے ہیں تو پھر تو میں محتاج ہوں اور میرے بھی ہاتھ پاﺅں ٹوٹے ہوئے ہیں۔ Self Imposedمحتاجی ہے ۔ مجھ پر تواورلوگوں کا بھی انحصار ہے۔میری فیملی میں 5،6لوگ تو ہیں ان سب کے لیے فی کس 3کے حساب سے کم ازکم 15سے20درخت میری فیملی کو مسلسل آکسیجن کے لیے درکار ہے۔کیا میں نے اپنی فیملی کے لئے درخت لگا لیے ہیں؟کون لگائے گا میری لیے؟ کیا یہ گورنمنٹ لگائے گی جس کو گالیاں دیتے میرا دن رات گزرتا ہے؟ کیامیرے ہمسائے میرے لئے لگائیں گے؟ کیا میرے محلے والے لگائےں گے؟ میری گلی میں تو 100لوگ رہتے ہیں اور اُن کی ضرورت کے لئے کم از کم300درخت چاہیے۔کیالگالیے ہیں انہوں نے؟

میرے شہر کی آبادی تقریبا 30لاکھ ہے۔یہاں کم از کم ایک کروڑ درخت چاہئیں۔ کیالگالیے ہم نے؟

یہ کافر ہی لگاتے ہیں۔ جو ساری انسانیت کے لئے پلان کرتے ہیں کہ دنیا میں سات ارب کی آبادی ہے اس آباد ی کو کتنے درخت چاہئیں؟ لیکن میں نے اپنے حصے کے کیوں نہیں لگائے؟ میں نے اور کتنا بڑا ہونا ہے؟ نوکری مل گئی، گھر بنا لیا۔ سب آسائیشیںمل گیئں پر میں اپنے حصے کے تین درخت نہیں لگا سکا۔ اپنے بیوی بچوں کے تین درخت نہیں لگاسکا۔ مجھ کلمہ گوسے تو ہندوﺅں کا وہ گاﺅں اچھا ہے جہاں جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے نام کے 5درخت سب سے پہلے لگاتے ہیں، بچے کا نام بعد میں رکھتے ہیں۔ میں صرف احادیث سن کر واہ واہ کرکے سبحان اللہ کہہ کر گھر چلا جاتا ہوں ۔

کون لگائے گا میرے حصے کے درخت؟

ابھی تو صرف آکسیجن کی بات کی ہے ۔میرے لیے جو دن میں تین دفعہ کھانا پکتا ہے تو وہاں جو آکسیجن جلتی ہے وہ میرے سانس لینے سے بھی زیادہ ہے تو ایک دن میں کم از کم 5درخت جتنی آکسیجن دیتے ہیں میری کھانے کے لیے۔ یہ جو میرے گھر دفتر میں میرے لئے فرنیچر ہے ،جو کاغذ میں استعمال کرتا ہوں یہ سب کہاں سے آئے ہیں؟ یہ درخت کٹے ہیں تو بنے ہیں ۔ میری ضروریات کے لئے درخت کہاں سے آرہے؟ میں تو محتاج ہوں۔ کب میری محتاجی ختم ہوگی؟۔میں کس بل بوتے پہ کہتا ہوں کہ میں محتاج نہیں ہوں۔ مجھے سے تو کم محتاج وہ سڑک پر کھڑا فقیر ہے جس کی ٹانگ ٹوٹی ہے اور میں ایئر کنڈیشنر گاڑی میں بیٹھ کر سمجھتا ہوں کہ میں independentہوں ۔اس سے بڑا محتاج میں ہوں۔

ہم ایئر کنڈیشنر کمروں میں بیٹھ کرکہتے ہیں کہ ان پڑھ لوگ کو دوسروں کا ادراک نہیں انہیں نہیں پتہ کہ بہتر معاشرے کے لئے کیا کرنا چاہئے تومیں تو پڑھا لکھاہوں۔ایک پڑھا لکھا شخص تو غالبا صرف اپنا نہیں، دوسروں کا بھی سوچتا ہے۔تو میں پڑھے لکھے نے اپنے حصے اور دوسروں کے حصے کے کتنے درخت لگالیے؟ ذمہ داری میری ہے کسی اور کی نہیں۔جو میرا کام ہے اگر میں محتاج نہیں ہونا چاہتا اگر میں Self Sufficientہونا چاہتا ہوں تو میں نے ہی کرنا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی کرنا ہے۔ کوئی آکے میرے لیے نہیں کرے گا۔

میں کیوں گھبراﺅں میں کیوں پریشان ہوں، میں بس اپنے حصے کا کام کروں اور باقی اللہ جانے۔کم از کم اپنی آکسیجن تو پوری کروںپھرباقیوں کے لئے بھی کوشش کروں، باقی کام اللہ پہ چھوڑ دوں۔

تو محنت کر محنت دا صلہ جانے خدا جانے

تو دیوا بال کے رکھ چا، بادِ صبا جانے خدا جانے

خزاں دا خوف مالی کو بزدل کرنہیں سکدا

چمن آباد کر ہوا جانے خدا جانے

مریض عشق خو دکو کردوا دل دی سمجھ دلبر

مرض جانے ، دوا جانے ، شفا جانے، خدا جانے

جو مر کے زندگی چاہنا اے فقیری ٹوٹکا سن گھن

وفا دے وچ فنا تھی ونج، بقا جانے خدا جانے

اے پوری تھیوے نہ تھیوے بیکار نہیں ویندی

دُعا شاکر تو منگی رکھ دعا جانے خدا جانے

ہمیں شروع سے نیکی کا بہت سطحی سا درس دیا گیا ہے۔معذرت کے ساتھ شاید بہت لوگوں کو تکلیف ہو۔مطلب نیکی صرف یہ ہے کہ شلوار ٹخنے سے کتنی اونچی ہے اور داڑھی کی لمبائی کتنی ہے اور کاروبار اور معاملات میں جو جی چاہے خرابیاں کروں ،ہرگناہ کرو ں مگر سال کے سال ایک حج عمرہ کرآﺅں تو زیرو میٹر ہو جاﺅں گا۔ اللہ کے نبی نے فرمایا۔

”اگر کسی کے ہاتھ میں ایک بیج ہے وہ لگانے لگا ہو اور اسے خبر ملتی ہے کہ ابھی قیات برپا ہوجائے گی اور ساری زندگی فنا ہوجائے گی تو بھی اسے پودا لگانے دو“

” اور جس شخص نے ایک پودا لگایا ۔قیامت تک کسی انسان جانور چرند پرندنے اس سے فائدہ اٹھایا وہ اس کے حق میں صدقہ جاریہ ہے“۔

آج میں پودا لگاتا ہوں اورپوداکوئی اسی وقت اکھاڑ کر لے جاتا ہے پھر بھی صدقہ جاریہ ہے اس پودے کی لکڑی کو کوئی استعمال کرے گا ، اس پودے کو کیڑے مکوڑے، پرندے، جراثیم ( کروڑوں اربوں) استعمال کریں گے۔ بہت سے لوگ یہ گنتی کرتے رہتے کرتے ہیں کہ یہ عمل کریں تو اتنا ثواب ملے گا ۔یہ اللہ کی توہین کرنے والی بات ہے کہ اللہ گن کے ثواب دیتا ہے۔ اللہ کا ثواب بے حساب ہے ۔اللہ نے کوئی حساب نہیں رکھا کہ اتنی دفعہ یہ پڑھ لو تو اتنا ثواب ملے گا۔یہ کرلو اتنا مل جائے گا۔ اللہ کے نبی فرمادیا کہ ایک درخت لگاﺅ تو کوئی انسان چرند پرند فائدہ اٹھائے تو صدقہ جاریہ ہے۔اب کرو حساب۔اگرمیں نے پودا لگایا توکیا وہ آکسیجن صرف میرے اندر ہی جاتی ہے؟اُس کی آکسیجن سے کتنے لوگ اور دیگر جاندار سانس لےتے ہیں؟ ایک درخت سے کتنے کیمیائی اجزاءزمین اور فضا میں جارہے ہیں کوئی حساب کر سکتا ہے؟۔کتنے پرندوں، چرندوں نے استعمال کیا؟ اربوں کیڑے اور جراثیم ہیں جو اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کرو حساب۔یہ صدقہ جاریہ ہے۔ اس ایک پودے سے پتہ نہیں کتنے درجن بیج نکلے جو آگے پودے بن گئے ہیں۔یہ تو نہ ختم ہونے والا صدقہ جاریہ ہے یہ تو کبھی ختم ہی نہیں ہوسکتا۔اس کی کوئی گنتی ہی نہیں ۔انسانی ذہن گن ہی نہیں سکتا کہ ثواب کی مقدار کتنی ہے اور اللہ نے کتنا دینا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق آئندہ 50،100سال کے بعد اس علاقے میںجنگلات کے خاتمے کی وجہ سے گرمی کی شدت اتنی زیادہ ہوجائے گی کہ انسانوں کے لیے ےہاں رہنا ناممکن ہوجائے گا۔ اس کا حل صرف اور صرف شجرکاری ہے۔اگر ہم نے نہ کیاتو کسی اور نے بھی نہیں کرنا۔ کوئی آپ کے لیے نہیں کرتا جو آپ نہ کرنا ہے خود ہی کرنا ہے۔میں آج ہی اپنے، اپنے خاندان اور اِس زمین کی بقا کے لئے درخت لگانے شروع کرتا ہوں۔

————————————

 

ڈاکٹر شہزاد بسرا زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں تدریس سے منسلک ہیں اور پاکستان میں متبادل فصلوں پر کام کررہے ہیں  

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *