دہشت گردی کے خلاف جنگ حوصلے کے ساتھ لڑنا ہوگی چیف جسٹس ٓاف پاکستان

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کوئٹہ میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ سانحہ سول اسپتال کی تعزیت اور مذمت کے لیے الفاظ نہیں، سانحہ کوئٹہ کے شہدا تاریخ رقم کرگئے، بزدل دہشت گردوں نے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا، سانحہ کوئٹہ ایک واقعہ نہیں، پشاور میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو شہید کیا گیا، ہم اپنے جانے والوں کو نہیں بھول پاتے۔انہوں نے کہا کہ یہ ملک قربانیوں کے بغیرحاصل نہیں کیا گیا، بے شمار لوگ ملک کی تخلیق کےدوران بے گھر اور شہید ہوئے، دشمن نہیں چاہتا کہ علیحدگی کے بعد بھی پاکستان خوشحال اور پر امن ملک ہو۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دہشت گردی پاکستان کو کمزور کرنے اور امن کے فقدان کی ایک سازش ہے، اگر ہم نے اس سازش کو کامیاب ہونے دیا تو ہم اپنی نسل کو کچھ نہیں دے سکیں گے۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ دہشت گردی کے محرکات لمبی بحث ہیں، ہمیں اس جنگ کو حوصلے کے ساتھ لڑنا ہے، ہمیں اس جنگ سے کمزور نہیں پڑنا،  یہ جنگ من حیث القوم لڑنی ہے اور  ہر شخص نے اپنا حصہ ڈالنا ہے، اداروں کو بھی اپنا حصہ ڈالنا ہے، انصاف جب عدلیہ میں آتا ہے تو عدلیہ کو بھی اپنا حصہ ڈالنا ہوتا ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی بساط اور ذمہ داری کے مطابق اس میں حصہ ڈالیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *