فاٹا کی سبا رحمان کا سفر نامہ امریکہ

سبا رحمن مومند سفرنامہ امریکہ آخری قسط

آج کی قسط میں آپ کو بتاوں گی کہ میں امریکہ میں کن کن پاکستانیوں اور امریکن لوگوں سے ملی۔ کیا امریکا میں رہنے والی پاکستانی زیادہ ملنسار ھوتے ہیں اور کیا امریکہ واقعی ایک ایسا ملک ھے جہاں اگر زندگی موقع دے تو ضرور جانا چاہیے۔ امریکہ میں قیام کے دوران مجھے اپنے کچھ سینیرٰ دوستوں سے ملنے کا موقع ملے جو کہ امریکہ کے بین الاقوامی اداروں میں کام کرتے ہیں۔ امریکہ میں آپ کو کویٰ پاکستانی مل جایے تو یقین جانیے کوئی نا کوئی رشتہ نکل ہی آتا ھے۔ امریکہ کے بارے میں لوگوں کے کافی مختلف خیالات ہیں کیونکہ ہاتھ کی پانچوں انگلیاں برابر نہیں ھوتیں اسی طرح ہر انسان کی سوچ دوسرے سے مختلف ھوتی ھے۔ میری ذاتی رائےے ہے کہ امریکا بلکل بھی برا نہیں جتنا کہ کچھ لوگ بیان کرتے ہیں۔امریکی لوگوں کے ساتھ کام کر کہ ایک بات یقینی طور پر کہہ سکتی ھوں کہ وہ اپنے کام کے بارے میں پرسسٹنٹ ہیں اگر آپ ان سے کام سیکھنے کے خواہش مند ہیں تو آپکو وہ کام بہت خوشی سے سیکھاتے ہیں۔ میں سمجھتی ھوں اگر آج امریکہ ہم سے آگے ھے تو اسکی کچھ خاص وجوہات ہیں جیسا کہوہ اپنے کام کے بارے میں بہت سنجیدہ ہیں۔ وہ ایک ہی کام کو مختلف زاویوں سے کرنے اور دیکھنے والے لوگ ہیں ھماری طرح نہیں کہ لکیر کے فقیر رہیں وہ وہی کام اپناتے ہیں جس کو وہ کرنا چاہتے ہیں نا کہ ھماری طرح جو کہ بچوں کے ذہن میں بچپن سے ایک ہی بات ڈال دیتے ہیں کہ یا ڈاکٹر یا انجینیر۔وہ اپنی رائے دوسروں پر مسلط نہیں کرتے۔ ان سب خوبیوں کے ساتھ ساتھ امریکی کلچر میں کچھ خامیاں بھی یقینا ہیں جیسے کہ ھمارے ہاں بڑوں کا بہت احترام کیا جاتا ھے گھر کے بڑے کے حیثیت دی جاتی ھے لیکن امریکہ میں یہ کم ہے اور لوگ خاندانی ماحول سے الگ رہنا پسند کرتے ہیں۔تعلیمی حوالے سے ہم امریکہ سے پیچھے ہیں کیونکہ فوٹو جرنلزم کی جس تعلیم کو میں آج سے ۳ سال پہلے امریکہ حاصل کرنے گی تھی وہ پاکستان میں اب بھی نہیں پڑھاہی جاتی۔فوٹوجرنلزم آج صحافت کے ہر شعبے چاھے وہ ٹی وی،ریڈیو ھو یا اخبار تصاویر اسکا ایک اھم اور لازمی جز بن گیا ھے۔ اگر میں آج کی سبا اورکل کی سبا میں فرق کروں تو شاہد بہت فرق ھو گا کیونکہ میں سمجھتی ھوں عقل اور شعور صرف کتابوں میں ہی نہیں ھے بلکہ عقل و شعور سفر میں بھی آتا ھے ۔ سفر آپکو وہ کچھ سیکھاتا ھے جو کہ شاہد کتابیں آپ کو نہیں سیکھا پاتیں۔ سفر میں آپ ایسے لوگوں سے ملتے ہیں جن کی زبان، صحافت، اقدار، طور طریقے اور رہن سہن آپ سے مختلف ھوتا ھے لیکن کچھ وہ آپ سے سیکھتے ہیں اور کچھ آپ ان سے سیکھتے ہیں۔کل کی سبا صرف ایک عام صحافی لڑکی تھی لیکن امریکہ کا سفر کرنے سے وہ ایک عام لڑکی آج ایک پروفینشنل فوٹو جرنلسٹ ھے جسکی تعلیم امریکہ کے ادارے نیشنل جیوگرافک نے اسے دی۔میں اب    رپورٹرز ڈائری کے قارئین سے اجازت چاہتی ہوں انشاءاللہ پھر ایک نئی فوٹو ڈائری کے ساتھ جلد حاضر ہوں گی۔

 

سبا رحمن کا تعارف سبا رحمن مومند ایک فوٹو جرنلسٹ ہیں اور اور اس وقت پورے فاٹا سے وہ واحد ایک لڑکی فوٹو جرنلسٹ ہیں جو کہ فوٹو جرنلزم جیسے شعبے سے وابستہ ہیں اور انہوں نے اپنی یہ تعلیم نیشنل جیوگرافک کے ہیڈ کواٹر واشنگٹن ڈی سی امریکہ میں ماہر فوٹو جرنلسٹ سے حاصل کی۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے شعبہ صحافت میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اوراپنے صحافتی کیریر کا آغاز لندن کے ریڈیو بی بی سی اردو سے کیا۔ وہ آج کل بھی “بی بی سی اردو”، ترکی کے ادارے ” ٹی آر ٹی”، رپورٹرز ڈائری  اور دیگر نیوز ویب سایٹس کے لیے فری لانس فوٹو جرنلسٹ کے طورپہ کام کرتی ہیں اور ایک یونیورسٹی میں جرنلزم کی تعلیم بھی دیتی ہیں۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *