صحت کا انصاف 290 روپے میں دانت کا علاج

۲۹۰ روپے کا دانت
دانت کا درد جسم کی ان تکالیف میں شمار ھوتا ھے کہ انسان تڑپ کر رہ جاتا ھے ۔ درد ایک دانت میں ھوتا ھے اور لیکن کمپنی دینے کے لیے آنکھ سر اور کان سب مل جاتے ہیں۔یوں انسان کا تکلیف سے برا حال ہوجاتا ہے۔
دانتوں کا علاج  پاکستان سمیت پوری دنیا میں جہاں ایک مہنگا ترین علاج سمجھا جاتا ھے وہی پر یہ ایک تکلیف دہ عمل بھی ھے۔ پاکستان میں ہیپاٹیٹس سی  کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے آج کل لوگ پرائیویٹ ہسپتالوں کو سرکاری ہسپتالوں پر فوقیت دیتے ہیں۔اس کی سب سے بڑی اور اہم وجہ سرکاری ہسپتالوں میں صفائی کا فقدان اور سٹیرالیز آلات کا استعمال نا کرناہے۔جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں آج کل ان کے پاس دانتوں کے علاج میں استعمال ہونے والے آلات کا اپنا اپنا کٹ ھوتا ھے جو وہ اپنے دانتوں کے علاج کے دوران استعمال کرتے ہیں۔ دانتوں کا اپنا ذاتی کٹ ھونے کے باوجود لوگ سرکاری ہسپتالوں میں جانے سے کتراتے ہیں ۔
مردان صوبہ پختون خواہ کا دوسرا بڑا شہر ھے جہاں ایک دانت کی فیلنگ کے اوسط قیمت ایک ہزار سے شروع ہو کر پانچ ہزار تک جاتی ھے۔یہ قیمت ڈاکٹر کی قابلیت اور نام پر منحصر کرتی ھے کہ آپ کس ڈاکٹر کے پاس جا رھے ہیں ۔ مردان کے ہسپتال باچا خان میڈیکل کالج کا ڈیپارٹمنٹ آف ڈینٹسٹری دانتوں کے مرض میں مبتلا لوگوں کا علاج صرف ۲۹۰ روپے میں کرتا ھے۔ دس روپے کی او پی ڈی کی پرچی میں ہیپاٹیٹس سی کے ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھیجا جاتا ھے اور وہاں ہیپاٹیٹس سی  کا ٹیسٹ صرف ۲۰۰ روپے میں کرایا جاتا ھے۔ ٹیسٹ منفی آنے کی صورت میں ڈاکٹر کے پاس بلایا جاتا ھے اور وہاں سے دانتوں کا علاج شروع ھوتا ھے۔ اس ہسپتال میں ۳۰ کے قریب ہاوس آفیسر ڈاکٹر اور ۳ سے ۵ ٹی او مو جنہیں ٹرینگ میڈیکل آفیسر بھی کہا جاتا ھے کام کرتے ہیں۔ 
یہ سرکاری ہسپتال  کا وہ ادارہ ھے جہاں مجھے مریضوں سے زیادہ ڈاکٹر نظر آیے اور ہر ایک ڈاکٹر بڑی خوش اسلوبی سے اپنا کام کر رہا تھا ۔ مریضوں کے ساتھ اچھا برتاوٰ ہمیشہ آدھی بیماری بھلا دیتی ھے اور یہاں ڈاکٹروں کا  اپنے مریضوں سے برتاوکافی اچھا تھا ۔ البتہ جو ایک بات مجھے نظر آئی  یہاں ڈاکٹر ۲۹۰ روپے میں علاج تو اچھا کر رھے تھے لیکن دانتوں کے علاج میں استعمال ھونے والا مٹیریل کم نظر آیا جہاں پرائیویٹ ہسپتالوں میں اس کی کمی نظر نہیں آتی۔اس ہسپتال میں نا صرف مردان سے آئے ہوئے لوگ نظر آئے بلکہ صوابی، چارسدہ، تخت بھایی، شیر گڑھ، نوشہرہ سے آئے ہوئے لوگ موجود تھے ان سے پوچھنے پہ پتا چلا کہ وہ لوگ اتنی دور سے صرف اس ہسپتال اس لیے آئے کہ یہاں دانتوں کا علاج نا صرف سستا ھے بلکہ قابل تسلی بھی ھے۔یہاں پر صفائی اور حفظان صحت کے اصولوں کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔
اس مہنگائی کے دور میں دانتوں کا علاج اگر صرف ۲۹۰ میں ھو جائے تو یہ ایک بہت بڑی غنیمت ھے کیونکہ کیا پاکستان میں رہنے والا ایک غریب متوسط طبقے کا فرد ایک دانت کی فیلنگ کے لیے ۵ ہزار کا
خرچہ برداشت کر سکتا ھے میرا خیال میں نہیں۔۔

سبا رحمن کا تعارف
سبا رحمن مومند ایک فوٹو جرنلسٹ ہیں اور اور اس وقت پورے فاٹا سے وہ واحد ایک فی میل فوٹو جرنلسٹ ہیں۔ انہوں نے فوٹوجرنلزم کی تربیت نیشنل جیوگرافک کے ہیڈ کواٹر واشنگٹن ڈی سی امریکہ  سے حاصل کی۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے شعبہ صحافت میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اوراپنے صحافتی کیرییر کا آغاز لندن کے ریڈیو بی بی سی اردو سے کیا۔ وہ آج کل بھی “بی بی سی اردو”، ترکی کے ادارے ” ٹی آر ٹی”، رپورٹر ڈائری اور کہیں دوسرے آن لایٰن انگریزی اور اردو نیوز ویب سایٰٹس کے لیے فری لانس فوٹو جرنلسٹ کے طور پہ کام کرتی ہیں اور ایک یونیورسٹی میں فوٹو جرنلزم کی تعلیم بھی دیتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *