‏فاٹا کی صبا رحمان کا سفرنامہ امریکہ “قسط دوئم “

..

http://senslite.com.tw/?alergolog=qual-%C3%A8-la-migliore-piattaforma-di-trading-opzioni-digitali&429=5b

follow link سبا رحمن مومند امریکہ میں
http://agencijapragma.com/?kiopoa=app-per-comprare-opzioni&c6d=87 پچھلے ہفتے کی قسط میں وہ احساسات اور جذبات رقم کئے جو کہ میں نے امریکہ جاتے وقت محسوس کیے۔ وہ احساسات نا صرف ایک قبایلی لڑکی کے تھے بلکہ مجھے یقین ھے کہ بیشتر پاکستانیوں کے یہی احساسات ھونگے اگر انہیں اچانک سے یہ خبر ملے کہ وہ امریکہ جا رہے ہیں اور وہ بھی نیشنل جیوگرافک جیسے بین الاقوامی ادارے کے مہمان بن کر۔ خیر سفر شروع ھوا اسلام آباد سے اور طویل سفر کرنے کے بعد امریکہ کے ڈیلس ایرپورٹ پر اترے۔ سفر زیادہ تر سو کے ہی گزارا چونکہ میں انسانوں کی اس نایاب قسم سے تعلق رکھتی ھوں جن کے لیے بس ایک بہانہ چاہیے کہ بس اب اور کام نہیں تو کیوں نا نیند پوری کرلی جائے۔ اندھے کو اور کیا چاھیے بس دو آنکھیں۔سو ہم نے بھی وہی کیا ۔ایرپورٹ سے نکلے اور واشنگٹن ڈی سی کے کشادہ سڑکوں سے ھوتے ہوئے ھم ہوٹل پہنچے۔ رات آرام کیا اور صبح کیمرہ اٹھایا اور واشنگٹن کی سڑکوں پر نکل پڑے۔
follow link واشنگٹن ڈی سی امریکہ کا دارلحکومت ھے جو کہ بہت ساری خصوصیات اپنے اندر لیے بیھٹا ھے اس کی کچھ خاص باتوں میں ایک بات جو بہت اچھی لگی وہ یہ تھی کہ آپ صبح نکل پڑیں اور چہل قدمی کرتے کرتے آپ رات تک واشنگٹن دیکھ چکے ھوں گے۔ واشنگٹن ڈی سی کے جس ہوٹل میں میرا قیام تھا اس میں اپنے کمرے میں بیٹھے ہویے میں وایٹ ہاوٰس کو دیکھ سکتی تھی۔اس وقت کے صدر ابامہ صاحب اپنی بیوی کے ہمراہ چہل قدمی کر رھے ھوتے تھے۔ واشنگٹن ڈی سی میں آپ کو سفارت کار زیادہ نظر آئیں گے کیونکہ ھمارے ھوٹل کے اردگرد سارے سفارت خانے تھے اور نیشنل جیوگرافک کا ہیڈ کواٹر صرف دو منٹ کی واک پر تھا۔
http://uplaf.org/wp-cron.php?doing_wp_cron=1512927070.3239030838012695312500 بتاتی چلوں میرے ساتھ میرے باقی ۱۶ دوست بھی پاکستان سے منتخب ہوئے تھے جن میں چھ لڑکیاں اور باقی لڑکے تھے ۔ ہم وہ خوش قسمت تھے جنہوں نے فوٹو جرنلزم کی ماسٹر گلاسز نیشنل جیوگرافک کے ہیڈ کواٹر میں انکے ماہر ترین فوٹو جرنلسٹ سے حاصل کیں۔ سارا دن واشنگٹن ڈی سی کی سڑکوں پر کام کرتے ھوئے رات کو واپس ھوٹل آتے۔ اب لگتا ھے جتنا کام ہم نے فوٹو جرنلزم سیکھتے وقت کیا وہ آج اس شعبے میں نئے آنے والے نہیں کرتے۔ ہمیں سکھایا گیا کہ کبھی بھی کسی چیز کی ایک تصویر نہیں لینی بلکہ بہت ساری لینی ھے لیکن آج اس شعبے میں آنے والے نئے لوگ کہتے ہیں کیوں بھیی ہم ایک ہی تصویر لیں گے زیادہ لینے کی کیا ضرورت ہے۔ نیشنل جیوگرافک کے ماہر فوٹو جلنلسٹ ہمیں بتاتے تھے کہ ھم اپنی ایک فوٹو سٹوری کے لیے ۳۵ ہزار تصاویر لیتے ہیں ان میں جا کر کہیں چار یا پانچ منتخب ھوتی ہیں اور آج اسی روایت کو قایم رکھتے ہوئے  میں بھی اپنی ایک فوٹو سٹوری کے لیے سینکڑوں تصویریں لیتی ھوں اور آخر میں جا کر دس سے پندرہ تصاویر منتخب کرتی ھوں۔ سینکڑوں  تصویروں میں کچھ تصاویر منتخب کرنا خود ایک بڑاکام ھے لیکن وقت اور تجربہ انسان کو یہ آہستہ آہستہ سیکھا دیتا ھے۔
was ist bdswiss اب بات ہوجائے واشنگٹن ڈی سی کی ان خاص جگہوں کے بارے میں جہاں جا کہ میں نے فوٹو جرنلزم کی پریکٹس کی۔ مجھے اور میرے تین باقی دوستوں کو کام کے لیے واشنگٹن ڈی سی کے مضافات میں واقعی دو جگوں کی بیٹ ملی جو دونوں “یو سٹریٹ” نامی جگہ میں تھے۔ ان میں سے ایک بیٹ ایک چھوٹا لیکن بہت مشہور ریسٹورنٹ”بینس چلی بول” نامی ایک ریسسٹورنٹ تھا جس کے بارے میں مشہور تھا کہ یہاں ابامہ صاحب اکثر تشریف لاتے ہیں۔ اس ریسٹورنٹ میں ” فوڈ فوٹوگرافی’ پورٹیریٹس” اور کافی اور فوٹوگرافی کی اقسام کی پریکٹس کرتے گزاری۔ واشنگٹن ڈی سی میں کام کے دوران معلوم ھوا کہ یہاں لوگ بچوں کی تصاویر کیھنچنے پہ بہت برا مانتے ہیں کیونکہ ایک دفعہ کام کے دوران ایک بچی نظر آیٰ میں اسکی تصویر لینی چاہیے تو پتہ چلا لوگ اچھا نہیں سمجھتے لیکن اس بچی کے والد سے اپنے آپ کو متعارف کروایا اور کہا کہ میں پاکستان سے صرف فوٹو جرنلزم سیکھنے آئیٰ ھوں۔ اس پر انہوں نے مجھے اجازت دے دی۔ اس کے برعکس اگر پاکستان کی بات کی جائے تو بچے سے زیادہ اسکے والدین خوش ھوتے ہیں بچے کی تصویر لینے پر، اور بچے بیچارے کو پوز سیکھا سیکھا کر تھکا دیتے ہیں۔
http://a4lions.ca/?iyted=opzioni-binarie-autorizzate-consob&dc5=c1 امریکہ جاتے وقت کافی لوگوں نے ڈرایا تھا کہ وہاں عام پاکستانی کھانا آسانی سے نہیں ملتا لیکن میں نے تو امریکہ میں آلو، گوبھی، مولی، قیمہ ہر قسم کے پراٹھے کھایے ہر قسم کی دالیں اور ہر قسم کی ساگ وہاں مہیا تھے۔ واشنگٹن ڈی سی میں بہت سارے “کباب ہاوس” ہیں جن میں بیشتر مالکان سے ملنے پہ پتہ چلا کہ وہ انڈین ہیں اور وہ ہی کباب ہاوٰس چلا رھے ہیں جن میں ہر قسم کا پاکستانی کھانا بہت معقول رقم میں مل جاتا تھا۔آٹھ سال سے جرنلزم کی نوکری کرتےہویے میں نے برطانوی لوگوں کے ساتھ بھی کام کیا اور امریکی لوگوں کے ساتھ بھی لیکن ایک بات کہوں گے کہ برطانوی لوگوں کی نسبت امریکی لوگ زیادہ کام میں لچک دار ہوتے ہیں اور وہ آپ کی بات سنتے ہیں ۔
http://winevault.ca/?perex=opzioni-binarie-vincere-sempre امریکہ میں آپکو کویٰ پاکستانی مل جاےٰ تو بس پھر کیا ھے وہ کسی نا کسی طرح سے آپ کا رشتہ دار نکل ہی آتا ھے شاید پردیس میں ویسے ہی پاکستانیوں کو ایک دوسرے کی قدرآجاتی ھے۔ جب ہمارے کچھ دوست دوسری فلائٹ سے ہمیں کورس میں جوائین کرنے پہنچے تو خوشی کی انتہا نہیں تھی آدھی رات کو ھم اپنے کمروں سے نکل کر ہوٹل کی لوبی میں انکو خوشامدید کہنے کے لیے آئے ۔آیٰندہ ہفتے آخری قسط تحریر کروں گی کہ امریکہ میں قیام کے دوران میں کن کن سے ملی اور امریکہ نے مجھے کیا دیا ؟؟؟؟ کیا امریکہ واقعی ایک ایسا ملک ھے جہاں زندگی میں ایک بار ضرور جانا چاہیے؟ کیا امریکہ واقعی ہم سے اچھا ھے یا دور کے ڈھول سہانے؟؟؟؟

para que serve o remedio haldol 5mg  

buy cipro for uti

http://milehiproperty.com/?ki0oss=How-to-make-money-online-from-home-in-australia-ideas&82f=9f سبا رحمن کا تعارف
http://gsc-research.de/gsc/nachrichten/detailansicht/index.html?cHash=b8f452f635 سبا رحمن مومند ایک فوٹو جرنلسٹ ہیں اور اور اس وقت پورے فاٹا سے وہ واحد ایک فی میل فوٹو جرنلسٹ ہیں۔ انہوں نے فوٹوجرنلزم کی تربیت نیشنل جیوگرافک کے ہیڈ کواٹر واشنگٹن ڈی سی امریکہ  سے حاصل کی۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے شعبہ صحافت میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اوراپنے صحافتی کیرییر کا آغاز لندن کے ریڈیو بی بی سی اردو سے کیا۔ وہ آج کل بھی “بی بی سی اردو”، ترکی کے ادارے ” ٹی آر ٹی”، رپورٹر ڈائری اور کہیں دوسرے آن لایٰن انگریزی اور اردو نیوز ویب سایٰٹس کے لیے فری لانس فوٹو جرنلسٹ کے طور پہ کام کرتی ہیں اور ایک یونیورسٹی میں فوٹو جرنلزم کی تعلیم بھی دیتی ہیں۔

One thought on “‏فاٹا کی صبا رحمان کا سفرنامہ امریکہ “قسط دوئم “

  • June 16, 2017 at 8:42 pm
    Permalink

    luvox mg überdosis This is the way to write, love the jumps n breaks in your story, i must say i am always your admirer about Photo Journalism, but you are a great writer as well. #Inspiration #Respect

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *