پشاور کے ایک مرغی فروش کا احوال

go site فوٹو گرافی ایک ایسا شوق ہے جو ایک عام سی روزمرّہ کی کہانی کو بھی خاص بنا سکتا ہے. ایک اچھا فوٹوگرافرکسی بھی انسان سے دوستی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے. سارا علی جوکہ فری لائنس فوٹوگرافر ہیں وہ آج آپ کو ایک مقامی مرغی كيف تتداول بالخيارات الثنائية فروش کا احوال سنائیں گی۔

http://dinoprojektet.se/?kapitanse=jobba-hemma-som-fris%C3%B6r&fe8=cc .

سعر السبيكة الذهب في السعودية کلیم چاچا، جو پچھلے کئی سالوں سے یونیورسٹی آف پشاور میں مرغی بیچنے کا کاروبار کرتے ہیں. ان کا تعلق پشاور کے مضافاتی گاؤں پشتخرہ سے ہے. پشتون روایات کا پاسدار ہونے کی وجہ سے کلیم چاچا نے اپنے اس کاروبار میں اپنے بھائی کے بیٹوں کو بھی شامل کر رکھا ہے. صبح تقریباً دس بجے کے قریب ان کی دکان کھل جاتی ہے. گاہک آنا شروع ہو جاتے ہیں اور پورا دن اسی طرح گاہکوں کو نبٹانے میں گزر جاتا ہے

شركات ال٠وركس الموثوقة .

محاكمة الخيارات الثنائية إشارات کلیم چاچا فارمی مرغیوں کے ساتھ ساتھ دیسی مرغیاں بھی فراہم کرتے ہیں. جب آرڈر زیادہ ہو تو ایک ساتھ کئی مرغیاں ذبح کر کے اپنے بھتیجے کے حوالے کر دیتے ہیں تا کہ وہ انہیں پانی سے اچھی طرح صاف کر دے

قائمة منا وسطاء الخيارات الثنائية .

source link کلیم چاچا ایک محنتی انسان ہیں جنہیں حلال کی کمائی پر فخر ہے. انہوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی ہے اور اپنی اولاد کو بھی تعلیم دلوا رہے ہیں. انہوں نے اپنے بچوں کے لیے گھر اور دکان پر ٹی وی کا بندوبست بھی کر رکھا ہے جہاں وہ انکی نگرانی میں معلومات عامہ کے پروگرام بڑے شوق سے دیکھتے ہیں

here .

اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلوانا اور انکی اچھی تربیت کرنا ان کا خواب ہے. تاہم سہولیات کی کمی اور روزگار کے محدود مواقعوں کی وجہ سے کلیم چاچا اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلا رہے ہیں. انھیں اس بات کی امید ہے کے ایک دن انکی اولاد پڑھ لکھ کر ان کا نام روشن کریگی

click .

سارا علی کا تعارف

الخيارات الثنائية للمبتدئين سارا علی پچھلے ایک سال سے یونیورسٹی آف پشاور میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کام کر رہی ہیں. فوٹو گرافی ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے. انہوں نے فوٹو گرافی کی تربیت نیشنل جیوگرافک کے تربیتی یافتہ پاکستانی فوٹوگرافروں سے ماڈل نیٹ – جیو فوٹو کیمپ پشاور کے دوران حاصل کی. انہوں نے یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہ کمپیوٹر سائنس سے بیچلر آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ڈگری کی ہے. انہیں فوٹوجرنالِزم کے میدان میں اپنا لوہا منوانے کا بےحد شوق ہے. اسی سلسلے میں وہ ناظرین کے لئے ایسی کہانیوں پر کام کرنا چاہتی ہیں جنہیں عام طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔