فاٹا کی صبا رحمان کا سفرنامہ امریکہ “قسط اول “

 سبا رحمن مومند رپورٹر ڈائری کے لیے “مس مومندہ کا تحریری سفرنامہ” ہر ہفتے لکھا کریں گی

میری یہ تحریر بالکل سادہ الفاظ میں ھو گی کیونکہ میری مادری زبان اردو نہیں بلکہ پشتو ھے میں کویٰ دانشور یا ہرفن مولا نہیں بس ایک سادہ سی قبایٰلی لڑکی ھوں ۔آج میں اپنے اس تحریری سفرنامہ میں اپنے دورہ امریکہ کی بات کروں گی۔ آج سے کچھ سال پہلے مجھے فوٹو جرنلزم کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ جانے کا موقع ملا۔ امریکہ کا نام سنتے ھی ذہن میں پہلے سے ہی ایک امیج بن جاتا ھے اور میں ٹھری ایک قبایٰلی لڑکی۔ امریکہ کا سنتے ہی پاوٰں زمین پر نہیں لگ رھے تھے کیونکہ ھم کبھی لاھور تک نہیں گےٰ تو امریکہ تو بہت دور کی بات تھی۔ خیر بتاتی چلوں مجھے نیشنل جیوگرافک نے فوٹو جرنلزم کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مدعو کیا تھا۔ خوشی کی کویٰ انتہا نہیں تھی ایک طرف امریکہ جیسے ملک جانے کا موقع ملا تھا اور سونے پہ سہاگہ جس ادارے نے بلایا تھا یعنی کہ نیشنل جیوگرافک، بس نام ہی کافی ھے۔ بہرحال خوشی کے وہ بے انتہا جزبات کو بائیٰ پاس کرتے ھوئے میں اپنے گھر سے اسلام آباد کے لیے روانہ ھوئی جہاں سے میرا امریکہ کا سفر شروع ھونا تھا۔


فوٹو جرنلزم پاکستانی صحافت میں ایک ابھرتا ھوا شعبہ ھے اور اسکی بڑی وجہ جو مجھے بطور ایک فوٹو جرنلسٹ کی حیثیت سے نظر آتی ھے وہ یہ کہ فوٹو جرنلزم کی تعلیم نہیں دی جاتی۔ اب اس پہ بہت سی بحث ھو سکتی ھے کہ آیا یہ تعلیم کیوں نہیں دی جاتی کیا ھمارے پاس پڑھے لکھے فوٹو جرنلسٹ کی کمی ھے یا کہ ھمیں ابھی باقی دنیا سے پیچھے ہی رہنا ھے خیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترقی یافتہ ملکوں جیسے امریکہ برطانیہ اور یورپ میں فوٹو جرنلزم کا لفظ کوئیٰ انوکھانہیں لیکن پاکستان میں آپ کسی کو کہہ دیں کہ میں ایک فوٹو جرنلسٹ ھوں اور اس بات کو چار چاند تب لگتے ہیں جب آپ کہتے ہیں کہ ” اسلام علیکم میں ایک لڑکی فوٹو جرنلسٹ ھوں” تو پہلا سوال آگے سے یہ آتا ھے ” بی بی آپ نے یہ تعلیم کہاں سے حاصل کر لی ھم نے تو کھبی نا سنی نا دیکھی”


میں سمجھتی ھوں اگر آپ نے فوٹو جرنلزم کی تعلیم حاصل کر لی تو آپ اپنی تصویری باتوں سے دنیا کی کسی زبان کے لیے کام کر سکتے ہیں کیونکہ فوٹو جرنلزم میں آپکا کام بولتا ھے۔ دیکھنے والا خود ہی سمجھ جاتا ھے کہ میں کہاں ھوں اور میں کیا دیکھ رہا ھوں۔ آجکل کے اس ترقی یافتہ دور میں جہاں لوگوں کے پاس سر کجھانے کی فرصت نہیں وہیں وہ صرف آپکا تصویری کام دیکھ کر سمجھ جاتے ہیں کہ کام کس اور کہاں کے بارے میں تھا۔ چاھے ریڈیو کی ویب سائٹ ھو یا ٹی وی اور اخبار کی ھو تصاویر انکا ایک لازمی جز بن گیا ھے۔ اب جہاں ملٹی میڈیا اور ڈیجیٹل جرنلزم کا زمانہ ھے فوٹو جرنلزم کی اہمیت اور بڑھ گیَ ھے اور یہ میں صرف اس بنیاد پر نہیں کہہ رہی کہ میں ایک فوٹو جرنلسٹ ھوں بلکہ پوری دنیا فوٹو جرنلزم کی اہمیت کو جانتی ھے تب ھی ماہر فوٹو جرنلسٹ نیشنل جیوگرافک ، نیو یارک ٹایٰمیز اور سی این این جیسے اداروں کے لیے کام کرتے ہیں۔ بس آج کے لیے اتنا ہی اگلی دفعہ میں اپنا دورہ امریکہ آپکہ ساتھ شیٰر کرونگی کہ کیا امریکہ واقعی ایک ایسا ملک ھے جو سب لوگ اپنے پاسپورٹ پہ امریکہ کا ٹپہ لگوانا پسند فرماتے ہیں۔  ھم بحیثت قوم ان سے کتنے اور کیسےپیچھے ہیں؟

مصنفہ کا تعارف

سبا رحمن مومند ایک فوٹو جرنلسٹ ہیں اور اور اس وقت پورے فاٹا سے وہ واحد ایک فیمل فوٹو جرنلسٹ ہیں جو کہ فوٹو جرنلزم جیسے شعبے سے وابستہ ہیں اور انہوں نے اپنی یہ تعلیم نیشنل جیوگرافک کے ہیڈ کواٹر واشنگٹن ڈی سی امریکہ میں ماہر فوٹو جرنلسٹ سے حاصل کی۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے شعبہ صحافت میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اوراپنے صحافتی کیریٰر کا آغاز لندن کے ریڈیو بی بی سی اردو سے کیا۔ وہ آج کل بھی بی بی سی اردواور کہیں دوسرے آن لایٰن انگریزی اور اردو نیوز ویب سایٰٹس کے لیے فری لانس فوٹو جرنلسٹ کے طور پہ کام کرتی ہیں اور ایک یونیورسٹی میں فوٹو جرنلزم کی تعلیم بھی دیتی ہیں۔

2 thoughts on “فاٹا کی صبا رحمان کا سفرنامہ امریکہ “قسط اول “

  • June 7, 2017 at 7:49 pm
    Permalink

    #Inspiration. am a Big Fan mam i ill love to hear your story to the wonder land n am waiting anxiously, it was a great write-up keep it up

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *