عید سادگی سے یا اہتمام سے : ڈاکٹر شہزاد بسرا

عید سادگی سے یا اہتمام سے
شہزاد بسراء
”قوم اس دفعہ عید سادگی سے منائے گی“ وزیراعظم نے حالیہ حادثہ کی وجہ سے عید سادگی سے منانے کا فیصلہ کرلیا ۔اور یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا۔ جب بھی کوئی سیلاب، زلزلہ وغیرہ آتا تو یہی فیصلہ ہوتا ہے لوجی ہم بھی پھر اس دفعہ سادگی سے ہی منائیں گے۔مگر کیسے؟؟ پہلے تو ہم ہمیشہ سے عید بڑی دھوم دھام سے مناتے آئے ہیں مثلاً نئے کپڑے پہن کر مرکزی جامع مسجد میں عید پڑھنے جاتے ہیں اور گھر آتے ہی نئے کپڑے اتار کر الماری میں لٹکا دیتے ہیں کہ جب کوئی مہمان آئے گا تو پہن لیں گے ورنہ سلوٹیں پڑ جائیں گی۔ دوسرے نئے کپڑوں سے آرام سے صوفے پہ ٹیلیویژن کے سامنے بیٹھا بھی نہیں جاتا جبکہ گرمی میں تو نئے کپڑے ویسے ہی چبھتے ہیں۔
عید والے دن پھر ہوا یوںکہ جیسے ہی دروازے کی گھنٹی بجی، ہم بھاگ کر پرانے کپڑے اتار کر نئے پہن کر باہر تشریف لے گئے اور باہر جاکر پتا چلتا ہے کہ جمعدار عیدی لینے تشریف لائے ہیں۔
دَھت تیرے کی، کیا ضرورت تھی کپڑے تبدیل کرنے کی۔ پھر پرانے کپڑے پہن کر ابھی بیڈ پر نیم دراز ہوئے ہی تھے کہ پھر دروازے کی گھنٹی بجی۔ سوچا کہ کوئی مانگنے والا ہی ہوگا۔ ایسے ہی باہر نکلے تو ہمسائے ڈاکٹر صاحب عید ملنے کھڑے تھے۔۔غصہ کی بجائے شرمندگی سے عید ملے۔
مڈل کلاس کی عادات میں نئے کپڑے صرف باہر وہ بھی کسی خاص جگہ جانے کے لئے پہنے جاتے ہیں۔ گھر تو وہی لنگوٹی ہی ہوتی ہے۔ عید پر ساران دن یہی ہوتا ہے کبھی نئے پہنو جب مہمان آئیں یا باہر جانا ہو اور واپس گھر میں وہی پرانے۔ زیادہ بری اس وقت ہوتی جب مہمان آپ کو کپڑے بدلنے کی مہلت دیئے بغیر آدھمکے۔
پچھلی عید کی بات ہے ہم نئے کپڑوں میں اَکڑوں صوفے پر بیٹھے اخبار کا مطالعہ کررہے تھے( اَکڑوں اس لئے کہ ٹیک لگانے سے کاٹن کے کپڑوں پر سلوٹیں نہ پڑجائیں) کہ بیگم صاحبہ کی آواز آئی کہ ”اب صاحب بن کربیٹھے رہیں گے کہ کچھ ہاتھ بھی بٹائیں گے شام کو مہمانوں نے آنا ہے“ہم حسب معمول و عادات و مجبوری و سعادت مندی فوراً پاجامہ اور گھسی سی ٹی شرٹ پہن کر کچن میں پیش ہوگئے ۔ بیگم صاحبہ کی ہنسی چھوٹ گئی اور بولیں”کیا واہیات کپڑے پہن کر آئے ہیں عید ہے کوئی آہی جاتا ہے“ بیگم نے کسٹرڈ کے لئے پھل کٹوایا۔ کچن میں گرمی تھی پسینہ بھی خوب آیا۔ ایک ہاتھ میں چھری اور ایک میں کیلے پکڑے لاﺅنج میں جاپہنچے کہ وہاں پنکھے کے نیچے بیٹھ کرباقی پھل کاٹتے ہیں ۔ لاﺅنج میں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک ہمسائی ہمراہ دوعدد جوان بیٹیوں کے بیگم کو عید ملنے کو موجود، سو دیکھتے ہی اُلٹے پاﺅں بھاگے۔
مگراِس دفعہ توسادگی سے منانا مجبوری ہے وگرنہ عید اہتمام سے منانی چاہیے کیونکہ خوشی کا موقع ہوتا ہے۔ اب اور تو کچھ سمجھ نہیں آتی کہ خوش کیسے ہوں۔ سارا دن عید مبارک عید مبارک کہہ کر بتیسی نکال کر ایک دوسرے کو اور خود کو احساس دلاتے ہیں کہ عید ہے خوش ہونا چاہیے۔ جب بھولنے لگتے ہیں تو کوئی فون کال یا موبائل میسج عید مبارک کا پھر یاد کرادیتا ہے کہ سنجیدہ نہیں ہونا عیدکا موقع ہے خوش رہناہے۔عام دنوں میں زیادہ خوش ہونے کو ہمارے ہاں غالبا ًگناہ ہی سمجھا جاتا۔
مشتاق احمد یوسفی کا کہنا ہے کہ زندگی اور موت میں کوئی خاص فرق نہیں، بالخصوص ایشیا میں۔ ہماری خوشی بھی ایسی ہے کہ خود کو یاد دلانا پڑتا ہے کہ ہم تو خوش ہیں۔
پہلے پہل ہم سمجھے کہ سارا مہینہ روزے رکھ رکھ کر نمازیں پڑھ کر اب ”عید“ یعنی خوشی محسوس کرنی ہے کہ پورا مہینہ کامیابی سے روزے رکھے۔ مہینہ بھر کافی نمازیں پڑھ لیں اب عید کے تین دن نماز وغیرہ کی چھٹی ۔مگرعام دنوں میں 5 نمازیں اور عید والے دن نماز کی کوئی چھٹی نہیں بلکہ عید کی ایک زائد نماز بھی پڑھنی پڑتی ہے۔ اب بند ہ سوچتا ہے کہ آج عید ہے رَج کے سوتے ہیں دیر سے اُٹھتے ہیں مگر صاحب پہلے فجر کے لئے 4 بجے پھر7 بجے عید کی نماز۔ اس سے زیادہ تو عام چھٹی کے دن بندہ دَس گیارہ بجے تک سولیتا ہے۔ کچھ بزرگ تو فرماتے ہیں کہ چاند رات مہندی شاپنگ کے لئے نہیں ہوتی اگر یہ طاق ہے تولیلتہ القدر ہو سکتی ہے وگرنہ ہر چاند رات لیلتہ ا لعید ہوتی ہے یعنی رات بھر عبادت کریں پھردن کو خوش رہنے کی کوشش کریں۔ جیسے کسی کو ستوپلاکر کہیں کہ پیزا کا مزہ محسوس کرو۔
اگر دیکھا جائے تو کیا واقعی ہم عید کیا خوشی سے مناتے ہیں؟ اگر اسی کو خوشی سے منانا کہتے ہیں تو ہم بچپن سے ایسے ہی بھرپور اور شاندار عید مناتے چلے آئے ہیں۔ویسے پہلے کون ساہم عید کے دن وَن ویلنگ کرتے تھے یا رنگ برنگی پینٹ پہنتے تھے؟
عام دنوں میںتو پھر کبھی فیملی کے ساتھ ہوٹل بھی کھانا کھانے چلے جاتے ہیں مگر عید پر ایک تو ہوٹل بند اور پھر اگر رات کو آئس کریم کا موڈ بن جائے تو رَش سے پریشان ہوکر واپس آجاتے ہیں۔
اس دفعہ تو حکومتی حکم صادر ہوگیاہے کہ سادگی سے عید منائی جائے توہم پریشان ہیں کہ کس طرح سادگی سے منائیں اور جو ہم عید پر عیاشیاں کرتے ہیں وہ اس دفعہ نہ کریں۔ اسکی وضاحت حکومت نے نہیں کی۔ چلیں خود ہی کوئی حساب لگاتے ہیں اور احباب سے رہنمائی چاہتے ہیں۔عموماً عید پر عام دنوں کے مقابلے میں کچھ کام اضافی کرنے پڑتے ہیں جو شائد اس دفعہ سادگی کی وجہ سے نہیں کریں گے۔ مثلاً
1۔ دفتر سے چھٹی کرتے ہیں۔ وہ تو اس دفعہ حکومت نے چھٹیاں کردیں۔ سادگی میںبھی اس دفعہ بھی چھٹی ہی ہوگی۔
2۔ نیا سوٹ۔ وہ ہم پہلے ہی عید پر صرف مہمان کے آنے یا کہیں جاتے وقت پہنتے ہیں کیا وہ بھی ناپہنیں اس کی کوئی وضاحت نہیں کہ نیا سوٹ نہیں سلوانا یا آدھا سلوانا ہے یعنی کرتہ نیا شلوار پرانی یا نئے پاجامے کے ساتھ پرانا کرتہ۔اس کی وضاحت حکومت کو ضرور کرنی چاہیے۔
3۔ عید کی نماز۔ کیا سادگی کا یہ مطلب ہے کہ عید کی نماز نہیں پڑھنی؟ مگر شرعاً تو پانچ نمازوں کے علاو ہ عید کی اضافی نمازبھی پڑھنی پڑے گی۔
4۔ یہ جو سارا دن ایک دوسرے کو بتیسی نکال کر گلے ملتے ہیں تاکہ احساس ہوکہ عید ہے، تو سادگی کی وجہ سے کسی کو گلے نہیں ملیں گے اور نہ ہی عید مبارک کہیں گے۔ مگر دوسرے ہم سے گلے ملے توچہ معنی؟ یہ معاملہ بھی وضاحت طلب ہے۔
5۔ عید پکوان۔ باقی پکوان تو عام ہی ہوچکے ہیںمثلاً بریانی ، روسٹ کڑاہی مٹھائی وغیرہ ۔ ایک سویاں یعنی شیر خرماہی ایک ایسی ڈِش ہے جو صرف عید کے عید ہی بنتی ہے۔ غالباً وزیراعظم کا عید سادگی سے منانے کا مطلب ہمیں سویاں کھانے سے بازرکھنا ہے۔
6۔ عید پر بچوں کو عیدی کی شکل میں جو پیسے دیتے ہیں وہ یقینااس دفعہ نہیں دیں گے۔ یہی سب سے اہم اور بچت والا معاملہ ہے جو ہم سمجھ سکے ہیں۔اُمید ہے بچے بھی حکومت کے فیصلے کے احترام میں عیدی کے لئے ضد نہیں کریں گے۔
قارئین سے التماس ہے کہ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ ہم اس کے علاوہ ایسا کیا کریں کہ عید سادگی سے منائی جاسکے یہ مضمون پچھلے سال لکھا تھا اور اس دفعہ آئی سی سی چیمپئن ٹرافی جیتنے کی خوشی میں غالباً قوم ڈبل خوشی سے عید منائے گی جس کی ہمیں ابھی تک سمجھ نہیں آرہی کہ ہم کیا کریں ۔احباب ہماری رہنمائی فرمائیں کہ عید کو سادگی سے ،خوشی سے یا بھرپور طریقے سے کیسے منایا جاسکتا ہے تاکہ ہم آئندہ بھی پہلے سے ان چیزوں کا اہتمام کرسکیں۔

ڈاکٹر شہزاد بسرا زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں تدریس سے منسلک ہیں اور پاکستان میں متبادل فصلوں پر کام کررہے ہیں ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *