یوم عہد عشق،23 مارچ
تحریر: کنول زہرا

مارچ 23
عشق کے عہد کا دن ہے، اسی لئے اسے یوم پاکستان کہا جاتا ہے، سب جانتے ہیں 1940 میں قرارداد پاکستان پیش ہوئی اور سات سال بعد اس قرارداد، اس نظرئیے کا وجود ریاست پاکستان بنکر دنیا کے نقشے پر ابھرا، پاکستان نام ہے جرات و استقامت کا، صبر کا، جدوجہد کا، سچے جذبے کا، کامیابی کا، اس عشق کا جس کا حصول چودہ اگست 1947 کو ممکن ہوا، اب سوال یہ ہے کہ ہمارے بزرگوں نے تو اپنے عشق کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا مگر ہم کیا کر رہے ہیں ؟
مادر وطن ہم سے لسانیات، فرقہ وارانیت، رنگ و نسل، سے پاک محبت مانگتی ہے، انسانیت کے تقاضوں پر مبمنی اخلاقیات کی توقع کرتی ہے، صفائی نصف ایمان کی عکاسی کی خواہشمند ہے، تعلیم یافتہ قوم کی خواہاں ہے، ہمارا پاکستان ہمیں مہذب قوم بنتا دیکھنا چاہتا ہے، معیاری گفتگو اور تہذیب و تمدن کی پاسداری چاہتا ہے.
وطن عزیز کی تمنا ہے کہ اس کا ہر شہری ریاست کا وفادار ہو، محض شناختی کاڈر کی حد تک کا پاکستانی اور مسلکی اعتبار سے سرحد پار کا وفادار نہ ہو.
کیا کبھی اپنے حقوق کی آواز بلند کرتے ہوئے ہم نے کبھی یہ محسوس کیاہے کہ جان عزیز پاکستان ہم سے کیا چاہتا ہے ؟
کیا بطور شہری ہمارا فرض نہیں کہ اپنی گلیوں کو صاف رکھیں، کسی بھی جان لیوا وبا کے تحت حکومتی احکامات و ہدایات کو ماننے، ملک دشمن عناصر کی نشان دہی کرکے اپنا اور ریاست کا مستقبل محفوظ کریں، جعلی خبریں پھیلانے والوں کی سرکوبی کریں، اشتعال انگیزی سے کنارہ کشی کرکے سچ اور حق بات کا پرچار کریں، اپنی سیکیورٹی فورس کا احترام کریں.
یاد رہے یہ ملک لاکھوں قربیانیوں کے بعد حاصل کیا ہے جس پر ہم اپنے بزرگوں کے شکرگزار اور ان کی مغفرت کے لئے دعاگو ہیں.
خیال رہے اس ملک میں امن کا چراغ ہمارے باوردی جوانوں کی محنت اور ان کے لہو کی وجہ سے روشن ہے، شہیدا مادر وطن کو سلام، ان عظیم ماؤں کو سلام جو اپنی گود کے پالوں کو مادر وطن پر قربان کرکے شکر خداوند تعالی کرکے اپنے شہید بیٹے کی خون آلود وردی اپنے دوسرے جوان کو زیب تن کراکے وطن کا دفاع محفوظ کرتی ہیں.
آئیں اس 23 مارچ کو یہ عہد وفا کریں کہ ہم وطن سے شکوہ نہیں بلکہ اپنی اصلاح کرکے ملک کو ترقی و کامرانی سے ہمکنار کریں گے، اس وطن کے پرچم کو سربلند کریں گے، انشا اللہ، پاکستانیوں کو یوم پاکستان مبارک، پاکستان زندہ باد…

کنول زہرا صحافی اور مصنفہ ہیں