مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر کیس نیب کے لیے چیلنج ہے کہ وہ عمران خان کے خلاف کھڑی ہوتی ہے یا نہیں۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ آج جو پاکستان کی معیشت کا حال ہے اس سے سب پریشان ہیں، ہم نے حکومت چھوڑی تو گروتھ ریٹ 6 فیصد تھا جو آج 3 فیصد ہے، پاکستان کی تاریخ میں ڈالر کی قیمت سب سے زیادہ بڑھی، ہم جب گئے تھے تو زر مبادلہ کے ذخائر 23 ارب ڈالر تھے۔

انہوں نےکہا کہ اسٹاک مارکیٹ میں اربوں روپے ڈوب گئے، آج ہماری مارکیٹ کا بدترین مارکیٹوں میں شمار ہوتا ہے، سردی کے موسم میں بھی 12،12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔

اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ حکومت کو 5 ماہ ہوئے ہیں اور ہر طرف غیر یقینی کی صورتحال ہے۔

لیگی رہنما نے نیب کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور وزیراعظم کےخلاف سرکاری ہیلی کاپٹر کے کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر اطلاعات کہتے ہیں کہ سرکاری ہیلی کاپٹر پر پوچھ گچھ کرکے نیب نے وزیراعظم کی توہین کی ہے، نیب کے لیے چیلنج ہے کہ وہ اس کیس میں عمران خان کے خلاف کھڑی ہوتی ہے یا نہیں ؟

حمزہ شہباز نے مزید کہا پی ٹی آئی والے کہتے تھے کہ عمران خان پبلک آفس ہولڈر نہیں تھے تو سرکاری ہیلی کاپٹر کیوں استعمال کیا، آپ کو جتنا جھوٹ بولنا ہے بول لیں، قوم آپ سے حساب لے گی۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ میٹرو عام آدمی کی سواری ہے، اس کو بند کرنے کا سوچا جا رہا ہے، یہاں پر رزاق داؤد کو ٹھیکہ دیا جا رہا ہے اور دوہرا معیار اختیار کیا جا رہا ہے۔