چیف جسٹس ثاقب نثار نے بلوچستان کے مختلف مقامات پر  ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کا نوٹس لیتے ہوئے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وزارت داخلہ سے ٹارگٹ کلنگ پر فوری رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان سے جاری بیان کے مطابق چیف جسٹس نے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ پر نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ آمد پر ہزارہ برادری کے افراد سے ملاقات ہوئی تھی، ہزارہ برادری ڈر کے باعث درخواست نہیں دے رہے، میں نے انہیں 184 کی درخواست سپریم کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیا تھا لیکن وکیل میسر نہ ہونے پر انہوں نے درخواست نہیں دی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم نے معاملے کا سوموٹو ایکشن لے لیا ہے،جن پر ہزارہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ کاالزام ہے وہ کھلے عام جلسے کر رہے ہیں،حکومت بلوچستان ایکشن کیوں نہیں لیتی، امن و امان کی ذمہ کس کی ذمہ داری ہے؟۔

جاری بیان میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہزارہ والوں کو یونیورسٹی میں داخلے نہیں ملتے،یونیورسٹی میں داخلے تو لے لیتے ہیں لیکن ان کا جانا بہت مشکل ہے، یہ لوگ اسکول اور اسپتال نہیں جاسکتے، کیا ہزارہ والے پاکستان کے شہری نہیں؟۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اب تک جتنی بھی ٹارگٹ کلنگ ہوئی ہے اس کی تفصیلات پیش کی جائے۔ عدالت کی جانب سے ہزارہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت 11 مئی کو مقرر کی گئی ہے، سماعت سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں ہوگی