*گھبرانا نہیں ہے*
وہی ہوا جسکا ڈر تھا ٹیم کو چیمپئینز ٹرافی جتوانے والے کپتان کی تینوں فارمیٹ سے چھٹی کرادی گئی پی سی بی نے صرف اسی پہ اکتفا نہ کیا بلکہ سرفراز احمد کو آنے والی سیریز میں بطور کھلاڑی بھی کھلوانا مناسب نہ سمجھا۔۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ کے بہانے یہ ہیں کہ اس فائٹر کھلاڑی کو آرام کی ضرورت ہے۔جبکہ خبر یہ بھی ہے کہ کوچ مصباح الحق ان کی کارکردگی سے خوش نہیں تھے سو انہی کی سفارش پہ پی سی بی نے یہ فیصلہ کیا۔۔وقت وہ بھی تھا جب تینوں فارمیٹ کی کپتانی سرفراز کے کاندھوں پر ڈالی گئی سرفراز نے کپتانی تو خوب نبھائی مگر اپنے کرئیر میں وہ نہ ہی اچھے بیٹسمین بن کہ شاندار کارکردگی دکھا سکے نہ ہی بڑا اسکور کیا۔معاملہ جو بھی ہو مگر ورلڈ کپ 2019 اور اسکے بعد ہونے والی سیریز میں اکا دکا کو چھوڑ کر کئی کھلاڑیوں کی پرفارمینس صفرہی رہی پھر آرام کا خیال صرف سرفراز کے لیے ہی کیوں آیا؟ ٹی ٹونٹی کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم کو نمبر ون کی پوزیشن پر پہنچانے والے کو ٹی ٹونٹی فارمیٹ کا کپتان تو رہنے دیا ہوتا کہ 37 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کرنے والے نے 29 میچ جتوا کہ دیئے چیمپیئن ٹرافی کا ٹائٹل جتوایا سرفراز کو انکی بہتر کارکردگی پہ تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا دنیائے کرکٹ میں کامیاب کپتان وہ ہوتا ہے جسکے حصے میں فتوحات زیادہ اور ہارے ہوئے میچ کم ہوں جیسے مصباح الحق جسے ورلڈ کپ جتوانے والے کپتان عمران خان سے بھی بہتر کیپٹن مانا گیا کیونکہ اسکی کپتانی میں ہار کے مقابلے میں جیت کا تناسب زیادہ تھا۔۔پھر مصباح کوچ بنتے یہ بات بھول کیسے گئے؟ سرفراز کی قیادت میں چیئمپن ٹرافی جیتنے کے بعد ٹیم سری لنکا سے بھی سیریز جیتی اور ورلڈ الیون میں بھی شاندار فتح پائی مگر جب نیوزی لینڈ سے بری طرح شکست کھائی تو ون ڈے اور ٹیسٹ میں فتوحات کا سلسلہ رکتا چلا گیا سرفراز تب بھی کپتانی سے نہ ہٹائے گئے۔ انگلینڈ میں ورلڈ کپ 2019 کے دوران ہی سرفراز احمد کے خلاف ٹیم میں گروہ بندی شروع ہوچکی تھی کبھی ڈریسنگ روم میں کھٹ پٹ تو کبھی کسی ریسٹورنٹ میں منصوبہ سازیاں نتیجتاً پہلے میچوں میں کاکردگی انتہائی مایوس کن تھی صاف دکھائی دے رہا تھا کہ ٹیم یک جان نہیں ہے ٹیم میں کچھ کھلاڑی نہیں چاہتے کہ سرفراز کپتان رہیں مگر پی سی بی نے ورلڈ کپ میں بری کارکردگی کے باوجود سرفراز کو کپتانی سے نہ ہٹایا۔۔۔تب بھی جب وکٹ کیپنگ کرتے ہوئے مخالف بیٹسمین کو وہ جملے بولے جو بطور کپتان انہیں نہیں بولنے چاہیے تھے۔مگر اب جب سری لنکا کے خلاف ٹیم ون ڈے سیریز جیتی اور ٹی ٹونٹی تین صفر سے ہاری تو انہیں تینوں فارمیٹ کی کپتانی سے ہٹا دیا گیا اظہر علی ٹیسٹ کی کپتانی کریں گے جبکہ بابر اعظم ٹی ٹونٹی کے کپتان بن گئے بابر اعظم ٹی ٹونٹی کے نمبر ون بیٹسمین ہیں جب وہ بطور کپتان میدان میں اتریں گے تو کیا وہ اپنی بیٹنگ پر توجہ دے سکیں گے کیا 24 سالہ بابر ٹیم کو متحد رکھنے میں ایک مظبوط اور اہم کردار ادا کر سکیں گے کیا وہ بورڈ کی سیاست کی سوج بوجھ رکھتے ہیں اس فیصلے سے نمبر ون کھلاڑی کی صلاحیتیں کس قدر متاثر ہوسکتی ہیں شاہد بورڈ کو اسکا اندازہ نہیں ۔بقول بوم بوم سرفراز سے کپتانی لینی تھی تو لے لیتے پھر یہ ذمہ داری کسی پرانے اور سینئر پلیر کو بھی دی جا سکتی تھی جیسے شعیب ملک ایک بہترین آپشن ہوسکتا تھا۔۔ مجھے یاد ہے جب بھی ٹیم میچ ہار رہی ہوتی تو سرفراز وکٹ کے پیچھے کھڑے ٹیم کا حوصلہ بڑھا رہے ہوتے۔۔۔کوئی پلیئر بہترین کارکردگی دکھاتا تو میچ کے اختتام پر گراؤنڈ سے جاتے ہوئے اسے سب سے آگے چلنے کو کہتے اور خود پیچھے چلتے اور مسلسل حوصلہ افزائی کرتے دکھائی دیتے۔۔۔کوئی کھلاڑی بھی کرکٹ کے پورے کیرئیر میں کپتان نہیں رہتا مگر ایک کامیاب کپتان کو جس طریقے سے نہ صرف کپتانی سے ہٹایا بلکہ یہ کہہ کر گھر بٹھا دیا کہ وہ بہتر ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر دوبارہ قومی ٹیم میں جگہ بنائیں انتہائی افسوسناک بھی ہے اور شرمناک بھی۔ جناب وزیراعظم صاحب کچھ توجہ پاکستان کرکٹ بورڈ پر بھی دیجیے کیونکہ آپ کے ہی الفاظ ہیں کہ وزیراعظم بننے کے بعد کرکٹ کو آپ خود دیکھیں گے۔۔۔ خبر رکھیے گا کہ پی سی بی میں ہونے والے فیصلے میرٹ پہ ہیں یا کرپشن ،فیورٹ ازم اور رشتہ داری اس ادارے کو بھی تباہی کی طرف لیکر جارہی ہے۔۔پھر نہ کہنا کہ گھبرانا نہیں ہے کیونکہ مہنگائی, بے روزگاری اور آپکے سو دن میں روشن پاکستان بنانے کی وعدہ خلافی پر تو یہ قوم سمجھوتہ کر لے گی مگر کرکٹ پاکستانیوں کا جنون ہے اور اس معاملے میں مایوسی ہوئی تو قوم سب مچ گھبرا جائے گی!

ذکیہ صحافی اور بلاگر ہیں