گورنر ہاوس پنجاب میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے پنجاب رائٹ ٹو پبلک سروس مسودہ قانون 2019 پر دستخط کر دیئے

عوامی شکایات کے حل کے لئے پنجاب رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن تشکیل قائم ہوگا۔رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن پنجاب کا سربراہ چیف کمشنر ہوگا۔کمیشن کے اختیارات وہی ہوں گے جو سول کورٹ کے پاس ہوتے ہیں۔کمیشن جھوٹی شکایت پر پندرہ روز کے اندر پچاس ہزار روپے تک جرمانہ کر سکے گا۔کمیشن کے فیصلوں پر عدالتوں کو اختیار سماعت نہیں ہو گا۔اس قانون کے تحت سرکاری دفتروں میں افسر ان کی کارکردگی مانیٹر ہو گی۔رائٹ ٹو پبلک سروس کے تحت عوامی شکایات کے ازالے کے لئے ٹائم فریم طے ہو گیا۔کسی شخص کا مسئلہ 30 روز تک حل کرنے کی ذمہ داری سرکاری افسر پر ہو گی۔سرکاری خدمات کی فراہمی میں کسی بھی کوتاہی کی صورت میں مامور آفیسر جواب دہ ہوگا۔