نوازشریف کا کہنا ہے کہ ضمنی ریفرنس بنانے کی کیا ضرورت تھی جب 3 ماہ میں کچھ نہیں نکلا، سزا دینا مقصود ہے تو میرا نام این ایل سی، ای او بی آئی میں ڈال لیں۔

وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ کسی جگہ کرپشن یا بدعنوانی سامنے آئی تووہ پیش کیوں نہیں کررہے، اثاثےاثاثے کررہے ہیں، کرپشن کا الزام لگایا ہے تو ثابت کریں۔

نوازشریف نے کہا کہ نیب کا کوئی ایسا ریفرنس بتائیں جس میں کرپشن کا الزام نہ ہو؟ پھرمیرے والے ریفرنس کودیکھ لیں کہاں کرپشن کا الزام ہے؟ تمام کیس صرف ہماری فیملی کے کاروبارکے ارد گرد گھوم رہا ہے۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے فریادی والی بات کی تھی تواس پرقائم رہنا چاہیے تھا، فریادی جیسے الفاظ چیف جسٹس یا کسی کو زیب نہیں دیتے، یہ بھی کہنا کہ وزیراعظم میرے پاس آئے تھے زیب نہیں دیتا۔