کراچی: پی ایس پی کے سربراہ نے عدالت میں درخواست جمع کراتے ہوئے موقف پیش کیا کہ نادراریکارڈ کےمطابق کراچی کی رجسٹرڈآبادی 2کروڑ15لاکھ ہے،مردم شماری میں کراچی کی آبادی 1کروڑ60لاکھ ظاہر کی گئی، کراچی کے بیشترعلاقوں کومردم شماری میں شمارہی نہیں کیا گیا۔ درخواست میں ادارہ شماریات،وفاقی حکومت،چیئرمین نادراودیگرکوفریق بنایاگیا ہے

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ کراچی کی آبادی کو دانستہ کم ظاہرکرکےجانبداری کامظاہرہ کیا گیا ہے

 اس حوالے سے نادراسے بھی مدد نہیں لی گئی جب کہ تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی نہیں کرایا گیا،آبادی کم ظاہر کرنے سےکراچی کے وسائل غصب ہوں گے جب کہ کراچی کی آبادی کم ظاہر کرنے سے شہر کے مسائل بڑھیں گے اور کراچی کو سالانہ 40 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔

بعد ازاں عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ایس پی سربراہ کا کہنا تھا کہ مردم شماری کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے

کراچی کی آبادی لاہورکےمقابلےمیں صرف ڈیڑھ پرسنٹ کیسےبڑھی اس کا جواب دیا جائے،

آبادی سندھ کےدیہاتوں سےنہیں بلکہ شہری علاقوں سےکم کی گئی ان کا مزید کہنا تھا کہ

کراچی کےمعاملےپرتنگ نظری سےکام لیاجارہاہے، وزیر اعلی سندھ کو یہ مسلہء اٹھانا چاہیئے تھا مگر انھوں نے اس پر خاموشی اختیار کی،

کراچی سندھ کاحصہ ہےلیکن حکومت کواس کی کوئی فکرنہیں