چیف جسٹس آف پاکستان نے حمزہ شہبازاورعائشہ احد میں صلح کرادی اور ان چیمبرسماعت میں فریقین میں راضی نامہ طے پاگیا،جس کے مطابق احمزہ شہباز اور عائشہ احدمقدمات واپس لےلیں گے،میڈیاپربیانات نہیں دیں گے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں عائشہ احدپرمبینہ تشدد کیس کی سماعت ہوئی ، حمزہ شہباز اور عائشہ احد عدالت میں ہیش ہوئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ آپ دونوں کا بزرگ بن کے تصفیہ کرانا چاہتا ہوں ، دونوں فریقین تصفیہ چاہتے ہیں توٹھیک ہے، تصفیہ نہیں چاہتے تو انکوائری کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دیں گے، جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی سمیت دیگر ایجنسیاں شامل ہوں گی۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ آپ پنجاب کے بااثرلوگ ہیں، اس لیے ایسے افسران شامل کریں گے، جے آئی ٹی رپورٹ میں جو حقائق سامنے آئے، اس پر فیصلہ کریں گے۔

حمزہ شہباز نے عدالت کو بتایا کہ عائشہ احد سے شادی نہیں ہوئی،آٹھ سال سے جھوٹ بول رہی ہے، فیملی کورٹ میں کیس چلتا رہا مگرعائشہ احد کیس ثابت نہ کرسکیں۔

جس پر عائشہ احد نے کہا کہ میری شادی حمزہ شہباز سے 2010میں ہوئی جس کے ثبوت ہیں، حمزہ شہباز نے مجھ پر اور بیٹی پر تشدد کرایا اور اب ہراساں کیا جارہا ہے۔

حمزہ شہباز کے وکیل کے بلااجازت بولنے پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ ابھی دونوں کے معاملے میں مت بولیں، آ پ کو ہر صورت عدالتوں کا احترام کرنا ہوگا، ہمیں عدلیہ کا احترام کرانا بھی آتا ہے۔

چیف جسٹس نے دونوں فریقین کو چیمبر میں طلب کرلیا، جس کے بعد چیف جسٹس کے چیمبرمیں دونوں فریقین نے صلح کرلی اور حمزہ شہباز اور عائشہ احد کے درمیان راضی نامہ طے ہوگیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حمزہ شہباز اور عائشہ احد ایک دوسرے کے خلاف مقدمات واپس لے لیں گے، دونوں ایک دوسرے کے خلاف میڈیا پر بیانات بھی نہیں دیں گے جبکہ عدالت نے سختی کے ساتھ پابند کیا کہ جن شرائط پر راضی نامہ ہوا اسے ہرگزمنظرعام پر نہیں لایا جائے گا۔