*پیاری شہزادی۔*


بچپن میں جب تین روپے میں ملنے والی بادشاہوں والی چھوٹی چھوٹی کہانیوں کی کتابیں پڑھا کرتے تھے تب سوچتے تھے کہ شہزادیاں کیسی ہوتی ہیں تب ذہن میں جو تصویر بنتی وہ کوئی خوبصورت سی ہنستی مسکراتی لڑکی ہوتی جسکا بے حد قیمتی اور پیارا لباس ہوتا جو کسی پری کی طرح دل موہ لینے کا فن جانتی جو ہر دلعزیز ہوتی۔مگر آج کوئی پوچھے کے شہزادیاں کیسی ہوتی ہیں تو لبوں پر بے اختیار برطانیہ کے شاہی خاندان کی شہزادیوں کے نام آجاتے ہیں پہلےڈیانا تھی جو خوبصورتی میں تو بے مثال تھی ہی عادات میں بھی ایسی کہ جو ملا گرویدہ ہوگیا چاہے وہ ایڈز جیسے وبائی مرض میں مبتلا کوئی مریض جس سے بلا خوف و جھجک ڈیانا ملیں یا مٹی میں کھیلتا کوئی میلا کچیلا بیمار بچہ جسے گود میں ایسے لیتیں جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو سینے سے لپیٹ لے ۔۔ڈیانا نے اپنی زندگی کے کئی سال دکھی بیمار لاچار اور غریب لوگوں کی خدمت کر کہ سمجھا دیا کہ انسانیت کی خدمت میں کسی کے لیے کوئی عار نہیں چاہے وہ شہزادی ہوں یا عام انسان۔ اسی آنجہانی شہزادی کے بعد اب انکی بڑی بہو کیٹ مڈلٹن بھی صرف نام کی شہزادی نہیں بلکہ وہ جانتی ہیں کہ شہزادیاں دل کیسے جیتتی ہیں۔۔آجکل پاکستان کے دورے پر آئے ولیم اور کیٹ مڈلٹن کے تذکرے بھی ہر زبان پر ہیں کوئی انکی سادہ طبیعت پر خوش ہے تو کوئی انکی خوبصورتی کی تعریفیں کرتا نہیں تھک رہا کسی کو انکا لباس بھا گیا تو کوئی شہزادی کے کانوں میں جھولتے سستے سے بوندوں کا دیوانہ ہے۔اور کوئی تین ہزار کے پرس ہر فدا نکلا۔ شہزادہ شہزادی جب ننھے بچوں سے اسکول ملنے گئے تب شہزادی کے لباس پر تو نظریں ہی ٹک گئیں گوری چٹی سنہری بالوں والی شہزادی نے نیلے رنگ کا پاکستانی لباس پہن رکھا تھا جو ان پر خوب جچ رہا تھا جب کہ دوپٹہ بھی اتنے سلیقے سے لیے رکھا جیسے یہ انہی کے دیس کا لباس ہو ولیم اور کیٹ نے بچوں کی چھوٹی چھوٹی سی کرسیوں پر بیٹھ کہ ان سے خوب باتیں بھی کیں اور گنتی سننے پر تالیاں بجا کہ داد دی بچے کچھ ہی وقت میں ان سے گھل مل گئے شہزادی کی زیر لب مسکراہٹ اور بچوں کے لیے انکی آنکھوں میں پیار سب کے دل میں گھر کر گیا وزیراعظم اور صدر سے ملاقات میں بھی پاکستانی پرچم کے رنگوں جیسے کوٹ ٹراؤزر پر سبز اسکارف سے یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ شہزادی کو ڈریسنگ سینس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ موقعے کی مناسبت سے کیسے کپڑے پہننے چاہیئے۔۔۔

وہ شہزادی ہیں تبھی ان کا دل بھی شہزادیوں جیسا بڑا ہے ورنہ آج کل کون کانوں میں پہنے بندے دوبارہ پہنتا ہے۔۔۔مگر اس شاہی خاندان کی خواتین میں سبھی اپنے کپڑے مختلف مواقعوں پر دوبارہ پہننے میں کوئی شرم یا احساس کمتری محسوس نہیں کرتیں۔۔تبھی تو وہ ہر دلعزیز شہزادیاں ہیں پاکستان میں شہزادی کے پہنے گئے ملبوسات کو تو مداح سراہ ہی رہے ہیں، وہیں فیشن کی سوج بوجھ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بہو کے لباس کے ڈیزائن اور رنگ ساس لیڈی ڈیانا کے ان ملبوسات سے ملتےجلتے ہیں جو 1996 میں پاکستان آمد پر انہوں نے پہنے تھے تو یوں بہو نے اپنے ملبوسات سے ساس کو خراج عقیدت پیش کرنے کی بھی ایک کوشش ہے۔۔پاکستان مونومنٹ میں منعقدہ تقریب میں بھی شاہی جوڑا پاکستانی ثقافت کے رنگوں میں رنگا جب وینیو پر پہنچا تو شہزادے کی شیروانی اور شہزادی کا گہرا سبز لباس اور اس پر نہایت سلیقے سے رکھا دوپٹہ دیکھ کہ تو آنکھیں ہی چندھیا گیئں ابھی دل انکے حسن اور اندازِ مشرقیت میں کہیں گم تھا کہ اچانک نظر رکشے والے پڑی دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ مہمان تو میزبان ملک کے رنگوں میں رنگے دکھائی دیئے مگر میزبان رکشے والے نے پینٹ کوٹ پہن رکھا تھا۔۔۔۔شاہی دورے سے جہاں پاکستان میں سیرو سیاحت کے لیے نئے باب کھلے وہیں شہزادی اپنے پہناووں سے ہمیں بہت کچھ سکھا گئیں۔۔۔کہ لباس سستا ہو یا مہنگا نیا ہو یا پہلے سے پہنا ہوا اگر شخصیت میں اعتماد،ٹھراؤ اور سکون ہو تو کچھ بھی پہنیے جہاں جائیں گی شہزادی ہی لگیں گی۔۔۔ اور یہ کہ اپنے قومی لباس کو فروغ دینے میں بھی کوئی برائی نہیں جہاں جائیے پاکستانیت کی جھلک کو اپنے ملبوسات میں تھوڑی سی تو جگہ ضرور دیں۔۔

ذکیہ نئیر صحافی اور بلاگر ہیں ۔