تحریر ۔۔سحرش کھوکھر 

رواں سال میں سکھر سمیت پاکستان کے 12 بڑے شہروں کے گٹر کے پانی میں پولیو وائریس کی تصدیق ہوئی ہے جو کہ افسوسناک ہے۔۔

ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ہیلتھ کی لاپرواہی اور نااہلی کے باعث 513 بچوں کو پولیو کے قطرے نہ پلائے جا سکے جبکہ چھ ماہ سے پولیو مہم کو بھی روک دیا گیا ہے ویکسینٹرز کی کمی اور پولیو مہم میں کام کرنے والی ٹیموں کودشواریوں کا سامنا تفصیلات کے مطابق ضلع سکھر میں انتظامیہ کی نااہلی اور محکمہ ہیلتھ کی لاپرواہی کے باعث سرکاری اعداد و شمار کے مطابق2374 میں سے 1861 بچوں کو قطرے پلوائے گئے جبکہ 513بچے ناٹ اویلبیلیٹی کے باعث پولیو ڈراپس سے محروم رہے جنکی وجوہات بتانے سے ڈسڑکٹ ہیلتھ اور متعلقہ ادارے تو قاصر نظر آتے ہیں جبکہ چھ ماہ سے پولیو مہم کو کوئی وجہ بتائے بغیر روک دیا گیا ہے جسکی وجہ سے کوئی دوسرا معصوم بچہ پولیو کے موزی مرض میں مبتلا ہو کر ہمیشہ کے لیے معذور ہو سکتا ہے ڈپٹی کمشنر مرتضی شیخ نے بتایا ہے کہ پولیو مہم میں کام کرنے والی ٹیمیں پولیو کے خاتمے کے لیے موثر انداز میں کام کر رہی ہیں جن میں سب سے زیادہ خواتین ویکسینیٹرز دلچسپی سے کام کرتی ہیں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ضلع سکھر کے دور دراز علاقوں خاص طور پر ریگیستانی علاقوں میں ٹیموں کو جانے میں دشواریاں پیش آتی ہیں جہاں کہ رہائش پزیر بچے پولیو کے قطروں سے محروم رہ جاتے ہیں جن تک رسائی کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے سے محروم نہ رہ جائے انکاکہنا تھا کہ 513 بچے وہ ہیں جنکو مردم شماری میں ریکارڈ تو کیا گیا مگر وہ موجود نہیں ہیں اس لیے انکو پولیو کے قطرے نہیں پلائے جا سکے اسکے باوجود ہم دوبارہ بچوں کا ریکارڈ مرتب کر رہے ہیں تاکہ دیکھا جا سکے کہ واقعی کوئی بچہ پولیو کے قطروں سے محروم تو نہیں رہ گیا دوسری جانب زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پولیو کی مہم کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ سیاسی سفارشی بھرتیاں ہیں سفارشی ویکسینیٹرز دور دراز علاقوں میں جانے سے کتراتے ہیں اور سفارشیں کروا کر دوبارہ شہروں میں تعینات ہوجاتے ہیں اور دورز دراز علاقوں کے رہائش پذیر بچے پولیو کے قطروں سے محروم رہ جاتے ہیں شہریوں نے ضلعی انتظامیہ محکمہ ہیلتھ کے افسران اعلی سے اپیل ک ہے کہ پولیو مہم کو شروع کر کے بچوں کو معذور ہونے سے بچایا جائے ۔حاصل کردہ معلومات 

پولیو ایک موذی بیماری ہے جو بچوں کو زندگی بھر کے لیے معذور بنا دیتی ہے اور اپنے والدین کے لیے پریشانی کا سبب بنتی ہے
جسکے خاتمے کے لیے ریاست پاکستان پولیو مہم سارے پاکستان میں شروع کی دیہی اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم کی کمی اور پولیو کے نقصان کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا جسکی وجہ سے پاکستان میں مکمل طور پر پولیو کی بیماری کا خاتمہ نہیں کیا جاسکا جو ریاست پاکستان کے لیے ایک چیلینج ہے پسماندہ اور دیہی علاقوں میں پولیو کے قطروں کے بارے میں مختلف قسم کی افواہیں پھیلائی گئی جسکی وجہ سے بیشتر والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے گریزاں ہیں جسکے باعث بچے پولیو کی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور معاشرے پر بوجھ بن جاتے ہیں ساری دنیا میں پولیو کے خاتمے کے لیے جو ایک تحریک شروع کی گئی تھی اسکے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے اور ترقی یافتہ ممالک میں پولیو جیسے موضی مرض کا خاتمہ کیا گیامگر پسماندہ ممالک میں اکیسویں صدی میں بھی پولیو کا مکمل خاتمہ نہیں کیا جا سکا۔۔


ضلع سکھر میں پولیو مہم کی ناکامی پر کمشنر سکھر رفیق احمد مہیسر نے ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ اداروں کے افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انکو خاص طور پر ریگستانی علاقوں میں رہائش پذیر بچوں کو قطرے پولیو کے قطرے پلانے کی سختی سے تاکید کی۔۔
نیشنل اعداد و شمار کے مطابق ضلع سکھر میں پولیو مہم 2374بچوں میں سے 1861کو قطرے پلائے گئے ہیں جبکہ 513تاحالپولیو کے قطروں سے محروم ہیں جسکی وجہ پولیو کے خاتمے کے لیے بنائی گئی مختلف ٹیموں کی نا اہلی _سندھ میں 12ویکسینٹرز کی کمی بھی ہے….