‏اسلام آباد:اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا قومی اسمبلی میں خطاب‏ .


شہباز شریف نے کہا کہ دو معصوم بہنیں اورزخمی بھائی کو گاڑی سے نکالا گیا،‏ساہیوال کے قریب گاڑی روک کر اندھا دھند فائرنگ کی گئی پھر کہا گیا ڈرائیور دہشت گردتھا پنجاب حکومت نے ہر بار واقعے کو نیا رنگ دینے کی کوشش کی ہے . پنجاب حکومت نے پہلے کہا وہ دہشتگرد ہے لیکن ‏دنیا نے دیکھا گاڑی کوٹکر مار کرایک طرف کیا گیا . دنیا نے دیکھا کس طرح بچوں کو گاڑی سے نکال کر ظلم و بربریت کا پہاڑ توڑا گیا سب نے دیکھا کس طرح گاڑی پر فائرنگ کی گئی جو لوگ وہاں موجود تھے دوران کاروائی انہوں نے دیکھا کہ اس کار سے کوئی فائرنگ نہیں کی گئی. ذاتی تجربے سے بتا سکتاہوں ایسی ایجنسیاں حساس علاقوں میں ہوتی ہیں،


مزید شہباز شریف نے کہا کہ ‏ایک طرف قوم سوگوار ہے اور وزیراعظم 24گھنٹے بعد ٹویٹ کرتے ہیں ‏جس طرح ظلم زیادتی کی گئی ،اس کی شاید حالیہ دور میں مثال ہو،‏ماڈل ٹاؤ ن کے واقعے کو سیاسی بنایا گیا.‏میں ساہیوال واقعے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتا،‏زینب کے واقعے پر بھی سیاست چمکائی گئی اس دوران کے پی میں بھی بچیوں سے زیادتی کے دو واقعات ہوئے،‏وزیراعظم کی ذمے داری ہے ،وزیراعلیٰ پنجاب کو قوم کو جواب دیناہے،گاڑی رک گئی تو کار کی تلاشی کیوں نہیں لی گئی ،‏اگر کار میں دہشتگردوں کی موجودگی یااسلحے کا شبہ تھا تو چیک کیوں نہیں کیا،کار کو چیک کرنےوالوں کا لباس غیر رسمی تھا ،معصوم بچوں نے پول کھول دیا اور بتایا کہ والد نے ہاتھ جوڑ کر کہا نہ مارو پیسے لے لو،‏حکومت کی ان کو2 کروڑ روپے دینے کی بات افسوس ناک ہے .