نیب کی جانب سے بی آر ٹی کی تخمینہ لاگت میں 12ارب روپے اضافے کی تحقیقات کے اعلان کے ساتھ ہی پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( پی ڈی اے) نے سابق صوبائی حکومت کے اعلانات سے لاتعلقی ظاہر کر دی ہے۔

 

پشاور سے شائع ہونے والے اخبار ’روزنامہ مشرق‘ کے مطابق پی ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ یہ منصوبہ 6 ماہ میں کسی صورت مکمل نہیں کیا جانا تھا۔ پی ڈی اے 6 ماہ قبل ہی صوبائی حکومت اور قومی احتساب بیورو کو منصوبے کی مقررہ مدت میں تکمیل نہ ہونے کے حوالے سے آگاہ کر چکا ہے۔

 پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے رواں برس 4 جنوری کو نیب کو بھیجے گئے مراسلے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کہ بی آر ٹی کے نقشے میں کئی مقامات پر تبدیلیاں کی گئی ہیں جس کی وجہ سے مقررہ وقت میں اس کی تکمیل ممکن نہیں ہوگی۔

 مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ بی آر ٹی کے نقشے میں 10 بڑی بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن میں پیر زکوڑی فلائی اوور کو شامل کرنے، پیر زکوڑی فلائی اوور کے نیچے پیدل چلنے والوں کیلئے انڈر پاس، جی ٹی روڈ پر ایک کلومیڑ کے دو یو ٹرن، فردوس کے مقام پر فلائی اوور کی تعمیر، زیر زمین سطح میں تغیر کے باعث پل کے سائزکی تبدیلی، ایئر پورٹ کی جانب سے جنکشن کا اضافہ، جگہ نہ ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی روڈ انڈر پاس کے خاتمے، راہداری کے اطراف میں پائپس کی تنصیب، ریچ تھری میں نالے کے ڈیزائن کی تبدیلی اور ریچ ٹو میں ایک بس سٹینڈ کے خاتمے کی تبدیلیاں شامل ہیں۔

 نیب نے دو روز قبل بی آر ٹی منصوبے کی تخمینہ لاگت میں اضافے اور اس کی تکمیل مقررہ وقت میں نہ ہونے کے حوالے سے تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ سابق صوبائی حکومت نے بی آر ٹی منصوبہ 6 ماہ یعنی 15 اپریل تک مکمل کرنے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ نگران حکومت کے مطابق اگر یہ منصوبے 14 ماہ یعنی دسمبر تک بھی مکمل کر لیا گیا تو ٹھیکہ دار داد کے مستحق ہوں گے۔

بی آر ٹی پروجیکٹ کی چند تصاویر