پشاور برانچ رجسٹری میں صوبے میں بجلی منصوبوں کے حوالے سے کیس کی سماعت

پشاور: پیسکو چیف محمد امجد عدالت میں پیش
لوگوں کو رمضان میں جو بجلی ملنی چاہئے وہ نہیں مل رہی،چیف جسٹس
ہماری پیداوار اکیس سو میگاواٹ ہے لیکن ڈیمانڈ تین ہزار ہے، چیف پیسکو
ہمارا انفراسٹرکچر کمزور ہے جو مزید بجلی بنا نہیں سکتا،چیف پیسکو
بیس سال ہوگئے مگر اپ اپنا سٹرکچر ٹھیک نہ کر سکے، چیف جسٹس
باڈر کے قریب علاقوں میں لائن لاسز ہیں،پیسکو چیف
اپ کی تنخواہ میں اور نان ڈویلپمینٹ فنڈز میں کمی نا ہوئی لیکن بجلی غائب ہے،چیف جسٹس
پشاور عجیب بات ہے بجلی ہے لیکن انفراسٹکچر نہیں خ،چیف جسٹس
لوگوں کو بجلی کیوں نہیں مل رہی،چیف جسٹس
ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں کہ ہم انفراسٹرکچر کو بہتر بنائیں ، چیف پیسکو
بجلی نہیں دے رہے تو تسلیم کریں آپ ناکام ہو گئے ہیں،چیف جسٹس
زیادہ سے زیادہ آٹھ گھنٹوں تک بجلی جاتی ہے کم سے کم تین گھنٹے بجلی نہیں ہوتی،چیف پیسکو
کچھ ایسے علاقے ہیں جہاں لائن لاسز نوے فیصد سے زیادہ ہیں،چیف پیسکو
ہمیں اس سال ڈیڈھ ارب اور اگلے پانچ سالوں کے لیے پانچ ارب کی ضرورت ہے،چیف پیسکو
لیکن ہمیں سات سے آٹھ سو ملین سالانہ دیے جاتے ہیں،پیسکو چیف
ضرورت ہے تو ہم اپکے لیے چندہ اکٹھا کر لیتے ہیں،چیف جسٹس
آپ لوگ گھروں پر افطاری کرتے ہو اور لوگوں کے پاس بجلی نہیں ہوتی، چیف جسٹس
مجھے اس سے کوئی مطلب نہیں مجھے یہ بتایں لوگوں کو بجلی کب ملے گی،چیف جسٹس
کل اسلام آباد تفصیل کیساتھ آو،چیف جسٹس