تحریر آمنہ علی الپیال

اٹارنی جنرل کے عقب میں موجود وہ شخص کافی پریشان دکھائی دیا

سپریم کورٹ پہنچتے ہی جب داخلی دروازےپر نظر پڑی تو صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور جو بھی وکلاء اس مقدمے میں پیش ہونے آرہے تھے بلخصوص اٹارنی جنرل اور بیرسٹر فروغ نسیم اور درخواست گزار تو صحافیوں کی جانب سے دمکتی سکرینیں جو انہوں نے ہاتھوں میں اٹھا رکھیں تھیں ان سے سوالات کی بارش کر رہے تھے مگر یہ سب بھی مختلف انداز میں ان سوالات سے بچنے کی کوششیں کر رہے تھے اسی دوران جب کمرہ عدالت میں داخل ہوتے ہی دیکھا کہ تین رکنی بینچ چیف جسٹس کی سربراہی میں کیس کی سماعت شروع ہونے کیلیے تیار ہے کمرہ عدالت کھچا کھچ بھرا ہوا ہے پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں تھی مدت ملازمت میں توسیع کا کیس چونکہ سپلیمنٹری لسٹ میں تھا عدالت نے بہتر یہی سمجھا کہ جو پہلے سے کیسز فکس تھے سب کو نمٹانے کے بعد ہی اس کو سنا جائے جب اس کیس کی باری آئی تو کمرہ عدالت کا ماحول دیکھنے والا تھا وہاں موجود ہر شخص ہی اس انتظار میں تھا کہ کیس جلد شروع ہوجائے اس سے قبل اسی کیس کے حوالے سے جسٹس عمر عطا بندیال نے بھی کمرہ عدالت میں موجود رش کے حوالے سے ریمارکس دئے کے سب کو ہی اس کیس کا شدت سے انتظار ہے رپورٹرز کافی بےتابی سے انتظار کر رہے تھے کہ کیس شروع ہو اور چٹ پٹے ریمارکس ملیں جنہیں رپورٹ کیا جائے ہر کوئی شدت سے منتظر تھا سماعت کا آغاز ہوا ریڈر کیجانب سے کال دی گئی اٹارنی جنرل جونہی روسٹرم پر پہنچے تو چیف جسٹس نے پہلے ہی استفسار کیا کہ راہی صاحب آپ کہاں ہیں آپ نہیں تھے ہم نے پھر بھی آپکی درخواست کو زندہ رکھا دوسری جانب اینکرز کی بھی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں موجود تھی جہاں سب انتہائی اہم نوعیت کے اس کیس کو لیکر ایکسائیٹڈ تھے وہیں

اسی کمرہ عدالت میں موجود وہ ایک شخص خاصا پریشان دکھائی دیا آج کی سماعت کے دوران ایسے کئی موقعے آئے جب کمرہ عدالت میں قہقوں کی آوازیں سنائی دیں ہر شخص ہی ان جمعلوں سے لطف اندوز ہورہا تھا کمرہ عدالت میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی چیف جسٹس یا بینچ کے کسی دوسرے جج کی جانب سے کوئی بھی ایسا جمعلہ آتا اور جس کے کان میں آواز جاتی سب قہقہ لگاتے اور لطف اندوز ہوتے رہے لیکن وہ ایک شخص سماعت شروع ہونے سے لیکر ختم ہونے تک نا صرف بے چین تھا بلکہ خاصہ پریشان تھا اور چیف جسٹس سے کچھ کہنے کیلئے بے تاب تھا دوران سماعت میری نظر جب جب اس پر پڑتی کبھی بھنوں کو اوپر نیچے کرتا کبھی ہونٹوں کو دائیں بائیں گھماتا مختلف شکلیں بناتا کبھی ہاتھ باندھ لیتا بے چینی کا یہ عالم تھا کہ کبھی اٹارنی جنرل جو کہ اس وقت روسٹرم پر موجود تھے اور انکی جانب سے دلائل جاری تھے ان کے کان میں کچھ کہتا پھر پیچھے جا کر کھڑا ہوجاتا اور بار بار دائیں بائیں دیکھتاخود تو وہ کمرہ عدالت میں موجود تھا مگر اسکا دماغ کہیں اور ہی تھا جی ہاں یہاں بات ہورہی ہے درخواست گزار حنیف راہی کی جو نجانے کس کیفیت سے دوچار تھے کمرہ عدالت میں موجود ہر شخص کو غم و غصے سے دیکھتے اور اس وقت کو کوستے نظر آئے جب انہوں نے یہ درخواست دائر کی تھی دل ہی دل میں سوچ رہے تھے کتنی ظالم گھڑی تھی جب انکے ذہن میں یہ بات آئی کے وہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سپریم کورٹ میں چیلنج کریں مگر اب انکے ہاتھ سوائے پچھتاوے کے اور کچھ نا تھا جوں جوں وقت گزرتا گیا راہی صاحب کی پریشانی بڑھتی گئی جس طرح حنیف راہی نے اٹارنی جنرل انور منصور کے ہمرہ کمرہ عدالت میں انٹری دی لگ تو یہ رہا تھا جیسے درخواست اور حکومت ایک سمت ہیں جبکہ مخالفین میں کوئی اور نہیں بلکہ عدالت خود ہو ایک موقع پر درخواست گزار ریاض حنیف راہی نے روسٹرم پر آ کر پھر کہا کہ وہ درخواست واپس لینا چاہتے ہیں ۔جس پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ان کی استدعا پھر مسترد کر دی۔ درخواست گزار کو بھی چیف جسٹس نے مزاقاً کہا کہ اٹارنی جنرل کے بیان کے مطابق تو آپ کو بھی آرمی چیف لگایا جا سکتا ہے۔ جس پر عدالت میں قہقہے بلند ہوئے۔

آمنہ علی الپیال صحافی اور بلاگر ہیں ۔

Twitter @AmnaAliAlpiyal