وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ کشمیر سمیت بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، پاکستان کے خلاف جارحیت کی گئی، پاکستان اس جارحیت کا جواب دے گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر خزانہ اسد عمر نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ شرکا کی متفقہ رائے ہے کہ پاکستان کے خلاف جارحیت کی گئی، پاکستان اس جارحیت کا جواب دے گا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا خصوصی اجلاس کل طلب کیا گیا ہے، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی بلایا جائے گا۔ ایک کمیٹی بنائی گئی ہے وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور وزیر خزانہ شامل ہیں، کمیٹی تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے کر کے اعتماد میں لے گی۔

انہوں نے کہا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ میڈیا کو جگہ کا معائنہ کروایا جائے گا، ہیلی کاپٹرز تیار ہیں بس موسم تھوڑا بہتر ہوجائے۔ بھارت میں ہی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں محبوبہ مفتی کا بیان سامنے ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی قائدین سے وزیر اعظم اور دفتر خارجہ رابطے کریں گے، ترکی کے وزیر خارجہ سے کچھ دیر پہلے تفصیلی گفتگو ہوئی، صورتحال سے آگاہ کیا۔ جدہ میں او آئی سی کی کشمیر رابطہ کمیٹی کا اجلاس بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کل شام 7 بجے متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ سے بھی گفتگو ہوئی، یکم اور 2 مارچ کو ابو ظہبی میں کانفرنس میں بھارتی وزیر خارجہ کو مدعو کیا گیا ہے۔ سشما سوراج کو او آئی سی اجلاس میں مدعو کرنے سے متعلق بات کی ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے سشما سوراج کو مدعو کرنے پر سعودی ولی عہد سے بات کی، او آئی سی کے خاص ممبران کو پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج صورتحال یکسر تبدیل ہوچکی ہے، بلا مشاورت او آئی سی اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ کو مدعو کیا گیا۔ پاکستان کی ریڈ لائنز اور تاریخ کے حوالوں سے ممبران کو آگاہ کیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر سمیت بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، پلوامہ میں واقعہ ہوا بھارت کی 10 ریاستوں میں کشمیریوں پر زمین تنگ کردی گئی، وہ کشمیری جنہیں بھارت نے اسکالر شپس دیں انہیں نشانہ بنایا گیا۔ بھارت میں کشمیری وکلا اور تاجروں پر حملے کیے جاتے ہیں۔ ’ان لوگوں کا قصور یہ ہے کہ کلمہ گو اور کشمیری ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ او آئی سی کی مقبوضہ کشمیر پر قراردادوں کو بھارت نے ردی میں پھینکا، پارلیمنٹ ممبران کو صورتحال سے متعلق بریفنگ دی جائے گی۔ وزیر اعظم عمران خان کے 21 فروری کے بیان کو دنیا نے سراہا، وزیر اعظم نے کہا تھا بھارت کے پاس ثبوت ہیں تو دیں کارروائی کریں گے، وزیر اعظم نے کہا تھا جارحیت کی گئی تو دفاع کا حق رکھتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملے سے کئی ہفتے پہلے سفیروں کو آگاہ کیا گیا تھا کہ مودی سرکار ڈس ایڈونچر کر سکتی ہے، 5 ریاستوں میں شکست کے بعد مودی سرکار کچھ بھی کر سکتی ہے، اندازہ تھا انتخابات کے لیے مودی سرکار کشیدگی بڑھائے گی۔ جو پیش بندی کر سکتے تھے وہ ہم نے عالمی سطح پر کی۔

انہوں نے کہا کہ 2 بج کر 55 منٹ پر بھارتی طیارے داخل ہوئے تھے، 2 بج کر 58 منٹ پر بھارتی طیارے واپس جا چکے تھے۔ پاک فضائیہ کے خوف سے بھارتی طیارے پاکستان حدود سے نکل چکے تھے، ’بھارتی عزائم سے بخوبی واقف ہیں، جارحیت کی گئی تو بھرپور جواب دینے کا حق رکھتے ہیں‘۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ پاک فوج مکمل چاق و چوبند اور تیار تھی، ہم ردعمل نہیں عمل کر کے دکھائیں گے۔ اشتعال انگیزی کا شکار نہیں ہوں گے جو ہم نے کرنا ہے وہ کریں گے۔