پاکستان نے امریکا کی جانب سے بھارت کو مسلح ڈرون فراہم کرنے کی مخالفت کردی۔

 

بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے امریکی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی وزیرخارجہ کو انسداد دہشت گردی کے لیے پاکستان کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا جس پر انہوں نے پاکستان کی قربانیوں اور کوششوں کو سراہا جب کہ دورے میں پاک امریکا تعاون جاری رکھنے پر اتفاق ہوا۔

نفیس ذکریا نے مقبوضہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایل اوسی اورمقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو امریکی وزیر خارجہ کے سامنے اجاگر کیا گیا، دنیا بھرمیں کشمیری آج یوم سیاہ منارہے ہیں، بھارت مقبوضہ کشمیرمیں کشمیریوں پر تشدد کررہا ہے، پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کرتا ہے

ترجمان دفتر خارجہ نے امریکا کی جانب سے بھارت کو ڈرون فراہم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو مسلح ڈرون کی فراہمی سےخطے میں طاقت کا توازن بگڑے گا، عالمی طاقتوں کوایسے معاہدوں سے قبل ذمے داری کا احساس کرنا چاہیے۔

بھارتی نائب صدرکے دہشت گردی کے معاون ممالک کواقوام متحدہ سے نکالنے کے بیان پر ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی نائب صدر کے بیان کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، بھارت دہشت گردوں کا معاون ملک ہے، امریکی وزیرخارجہ سے ملک میں دہشت گردی میں بھارتی معاونت کا معاملہ اٹھایا ہے۔