سپریم کورٹ میں پانی بحران پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس سابق حکمرانوں سے استفسار کیا کہ نواز شریف اور زرداری بتائیں کہ انہوں نے پانی کی فراہمی کیلئے کیا کیا۔

پانی کی قلت پر سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران انہوں نے ریمارکس دیے کہ دل کرتا ہے ڈیم بنانے اور ملک کا قرض اتارنے کیلئے چوغا اُٹھا کر چندہ اکٹھا کروں۔

عدالت نے مسئلے کےحل کے حوالے سے اعتراز احسن کو عدالتی معاون مقرر کر دیا۔

شہریوں کی دہائی سن کر چیف جسٹس برہم ہوگئے اور ریمارکس دیئے کہ نواز شریف اور زرداری نے اپنے ادوار میں کچھ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ووٹ کو عزت دو کا مطلب ہے کہ لوگوں کو اُن کے بنیادی حقوق دیے جائیں۔ روز بیٹھ کر حکومت کا آڈٹ نہیں کر سکتے۔

منصف اعلیٰ نے خبردار کیا کہ کالا باغ ڈیم پر اتفاق نہ ہوا تو آنے والا وقت عذاب بن جائے گا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ جن ڈیموں پر اختلاف نہیں وہ کیوں نہیں بن رہے۔ پانی کا مسئلہ سیاست سے بالاتر ہو کر دیکھنا ہوگا۔

سماجی کارکن طاہرہ عبدللہ نے ملک بھر میں واٹر میٹر لگانے کی تجویز دے دی ۔ اور کہا امیر لوگ بھی 3 ماہ بعد 500 روپے بل دیتے ہیں۔

اعتزاز احسن عدالتی معاون مقرر اور عدالت نے انکو 21 جون تک مسئلے کے حل کیلئے تجاویز دینے کی ہدایت کر دی ۔

عدالت نے غیر قانونی ٹیوب ویل چلانے کے الزام میں سابق ایم این ایز ملک ابرار اور زمرد خان کو طلب کرتے ہوئے سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی۔