جناب اسد قیصر صاحب کیا اس سال آپ غریب عوام کے ٹیکسوں پیسہ بچا پائیں گے؟؟؟

نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوسرے پارلیمانی سال کے آغاز کےموقع پر صدر مملکت کی جانب سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج طلب کیا گیا تھا
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی مشترکہ اجلاس کی صدارت کی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان، چیئرمین سینیٹ، قائد حزب اختلاف شہباز شریف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، پاک فضائیہ پاک بحریہ کے سربراہان، وزیراعظم آزاد کشمیر، وفاقی وزرا اور وزرائے اعلیٰ شریک ہوئے

انتہائی اہم نوعیت کا اجلاس تھا صدر مملکت نے خطاب میں مختلف قومی ایشیوز کی نشاندہی کی اور سب سے اہم مسئلہ کشمیر پر بات کی پوار سال ہی خبروں میں سنتی رہی اور قومی اسمبلی کی پریس گیلری میں بیٹھ کر دیکھتی بھی رہی
آج کا اجلاس بھی احتجاج اور ہنگامہ ارائی کی نظر ہوگیا
کبھی چئیر مین پی اے سی تو کبھی پروڈکشن آڈر پر اپوزیشن کی جانب سے احتجاج رہا ۔

آج جوائنٹ سیشن میں جونہی صدر مملکت کا خطاب شروع ہوا اپوزیشن کی جانب سے ہنگامہ آرائی شروع کردی گئی ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دی گئیں نیب کی زیر حراست اپوزیشن ارکان کی تصاویر ہاتھوں میں اٹھائے گو عمرآن گو اور مختلف نعرے بازی کرتے رہے اس دوران صدر مملکت توجہ دلاتے رہے لیکن اپوزیشن نے جوائٹ سیشن کو مچھلی منڈی بنا دیا اور تمام تر پارلیمانی روایات کی دھجیاں بکھیر دیں صدر مملکت نے کہا یہ اچھی باتیں آپ سنیں گے نہیں تو ان پر عمل کیسے کریں گے


حکومتی اراکین بھی کوشیشیں کرتے رہے لیکن پورے خطاب کے دوران اپوزیشن کی جانب سے نعرےبازی کی جارتی رہی ایوان میں موجود سیکیورٹی اہلکار بھی ڈائس کے گرد موجود رہے اس دوران حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں میں ہاتھا پائی بھی ہوئی عوام کے کروڑوں روپے آج کے جوائنٹ سیشن کیلئے خرچ کیے گئےہونگے جو کہ ایک مرتبہ پھر احجاج کی نظر ہوگئے اوردنیا کے سامنے کیا امیج گیا ہوگا ایک طرف ایل او سی پہ بھارتی جارحیت تو دوسری جانب ہمارے حکمرانوں کا یہ رویہ نجانے جس پر صرف افسوس کیا جا سکتا ہے

لیکن سوال یہ ہے کیا اب دوسرے سال بھی جناب سپیکر صاحب ایوان چلا پائیں گے ،قانون سازی ہوسکے گی یا پھر اس سال بھی پہلے سال کی طرح غریب عوام کا پیسہ ہنگامہ آرائی کی نظر ہوتا رہے گا

تحریر آمنہ علی الپیال

آمنہ صحافی اور بلاگر ہیں ۔

Twitter @AmnaAliAlpiyal