لاہور۔16وفاقی وزیر داخلہ و قائم مقام سیکرٹری جنرل مسلم لیگ (ن) احسن اقبال نے کہا ہے کہ آزادی کپ کرکٹ  صرف کرکٹ کا مقابلہ نہیں تھا بلکہ پاکستانی قوم کے عزم کی للکار تھی‘ پی ایس ایل فائنل اور آزادی کپ کے کامیاب انعقاد سے غیر ملکی کرکٹ ٹیموں کا اعتماد بحال ہوا ہے‘ عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں‘ فیصلوں کو قبول کر کے ان پر عملدرآمدکیا تاہم فیصلوں پرآئینی و قانونی ماہرین اور عوام کے تحفظات موجود ہیں‘ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت ہر انسان کو فیئر ٹرائل اور اپیل کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے‘ پاکستان کے آئین میں اداروں کی حدود متعین ہے‘ حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں عوام مسلم لیگ (ن) کو کامیاب کرائیں گے۔ وہ ہفتہ کو ماڈل ٹاﺅن لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیز‘ سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیراحسن اقبال نے کہا کہ کرکٹ آزادی کپ کا مقابلہ صرف کرکٹ کا مقابلہ نہیں تھا بلکہ پاکستانی قوم کے عزم کی للکار تھی‘ ورلڈ الیون کی پاکستان آمد سے ملکی امیج بہتر ہوا ہے اور دنیا میں پاکستان کے بارے میں منفی تاثرات کے دھبوں کو دھو ڈالا جو دہشت گردوں نے لگائے تھے‘ سکیورٹی انتظامات اور کامیاب ایونٹ کا انعقاد حکومت کا بڑا کارنامہ ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ کچھ ادارے پارلیمان کی حدود میں داخل ہورہے ہیں اور ایسا محسوس ہورہا ہے کہ پارلیمان کو اس ملک میں بے وقعت کیا جارہا ہے لیکن ملک کی پارلیمان کوئی یتیم خانہ نہیں یہ 20 کروڑ عوام کی خواہشات کا مظہر ہے۔

پاناما کیس کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھاکہ آرٹیکل 10 اے اس بات کو پابند کرتا ہے کہ شفاف ٹرائل ہر شخص کا بنیادی حق ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر بحث نہیں کرسکتے، سپریم کورٹ نے دلائل کو نظر انداز کیا، ہمارا گمان ہے کہ نواز شریف کے خلاف فیصلے پر تاریخ اپنا نکتہ نظر مختلف دے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں 10 سے 15 سال پرانے مقدمات کھولے گئے تو میں انارکی ہوگی جب کہ نوازشریف کے فیصلے پر کسی ایک بین الاقوامی میڈیا نے یہ نہیں کہا کہ انہیں کرپشن پر ہٹایا گیا، تمام میڈیا نے کہا کہ نوازشریف کو ایک سازش کے ذریعے ہٹایا گیا۔

احسن اقبال نے کہا کہ سوشل میڈیا کے بقول با اثر قانونی شخصیت نیب پر ریفرنس دائر کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، اطلاعات ہیں نیب کو بااثر لوگوں نے بلاکر کہا کہ حدیبیہ کی اپیل لاتے ہیں یا نہیں، اطلاعات کے مطابق کوئی دفترہے جہاں سے نیب اور دیگر سے ساز باز کی جارہی ہے، با اثر شخصیت کا نیب کے افسران کو بلاکر کہنا انصاف کے تقاضوں کوپورا نہیں کرتا