ٹیم “عہد وفا” سے ملاقات..
صحافی: کنول زہرا
پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پلیک ریلیشن کے اشتراک سے تیار کردہ
نئی ڈرامہ سیریل عہد وفا کو ناظرین میں زبردست پذیرائی مل
رہی ہے.
یہ ڈرامہ سیریل وطن کے ایسے جانباز سپوتوں کی داستان ہے جو اس کی حفاظت اور سلامتی کیلئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بھی بہانے کو تیار ہیں۔ چار دوستوں کی کہانی ہے جوزندگی کے مختلف نشیب و فراز ایک ساتھ طے کرتے ہیں، ان کی زندگی ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہے۔
پاک فوج میں خدمات کے دوران وہ وفا کو نہ صرف عہد سے منسوب کرتے ہیں بلکہ اس عہد کو پورا کرتے ہوئے کبھی دشمن کے سامنے کوہ گراں ثابت ہوئے ہیں تو کبھی اس کی حفاظت کی خاطر اپنی جان سے بھی گذر جاتے ہیں۔ کہانی کے رائٹر مصطفی آفریدی
جبکہ ڈائریکٹر سیفی حسن ہیں.
یہ آئی ایس پی آر اور ایم ڈی پروڈکشن کی مشترکہ پیشکش ہے ۔ کاسٹ میں عثمان خالد بٹ، احد رضا میر، احمد علی اکبر، وہاج علی، زارا نور عباس، ونیزہ احمد اور دیگر شامل ہیں۔
اس سیریل نے
سنہرے دن اور الفا بروو چارلی کی لازوال یادوں کو تازہ کردیا ہے .
ہم نے ڈرامہ سیریل عہد وفا کی کاسٹ سے کچھ گفتگو کی ہے جو قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں.


سب سے پہلے سیریل کے ڈائریکٹر سیف حسن سے کی گئی گفتگو پیش خدمت ہے.
صحافی: آپ نے معتدد پروجیکٹس پر کام کیا ہے. عہد وفا کا تجربہ کیسا رہا ؟
سیف حسن: عہد وفا ایک مشکل پروجیکٹ تھا کیونکہ اسے مختلف جگہوں پر عکس بند کیا گیا. چاروں لوگوں کی اسٹوریز کو ساتھ لیکر چلنا، لوکیشن کی بارہا تبدیلی بہرحال مشکل تو رہا مگر مزیدار بھی رہا. پوری ٹیم نے ایک ایک لمحہ انجوائے کیا
صحافی:
آرمی پروجیکٹ پر کام کرنے میں کیا خاص بات محسوس کی؟
سیف حسن: آرمی پروجیکٹ پر کام کرنے پر سب سے خاص بات یہ ہے کہ عزت بہت ملتی ہے
صحافی:
ابتک عوام کی جانب سے عہد وفا پر کیسا رسپانس رہا ؟
سیف حسن: رسپانس تو جناب، ماشااللہ سے امیدوں سے زیادہ رہا ہے.ابتدائی اقساط کی ریٹنگ بہترین ہے. پہلی قسط کے نشر ہوتے ہی دیکھنے والوں کی تعداد ایک ہی رات میں ملین کے ہدف کو کراس کرگئی.
صحافی
ایک ڈائریکٹر کے ایک ایک کردار کو سمجھنا، پھر اپنی ٹیم کو سمجھانا اور اسکر پٹ کے حساب سے لوکیشن کی منتخب کرنا کتنا مشکل کام ہے ؟
سیف حسن: اچھے پروجیکٹ ڈائریکٹر کا کام ہی یہ ہے کہ پہلے رائٹر کے ساتھ بیٹھ کر اپنا ہوم ورک مکمل کرئے. اس سے کہانی اور اس کے کرداروں کو سمجھنے کی کوشش کرئے. پروجیکٹ ٹیم کو آن بورڈ رکھ کر کہانی اور کرداروں کے حساب سے لوکیشن کا انتخاب کرئے ، کرداروں کے حساب سے اداکاروں کے لب و لہجے اور لباس کو مدنظر رکھے. یقینا رائٹر کی سوچ اور اپنی سوچ کو ایک پیج پر رکھ کر اسکرین تک منقل کرنا ایک مشکل کام تو ہے مگر مزیدار بھی ہے.
صحافی
عہد وفا کے پروجیکٹ پر کوئ یادگار واقعہ ؟
سیف حسن: پورا پروجیکٹ ہی یادگار ہے. ہم نے پہلی بار پاکستان ملٹری اکیڈمی کی طرز زندگی دیکھی، ایک سویلین کو فوجی بنانے کے طریقہ کار کو دیکھا جو کہ بہت زبردست ہے. ان لمحات کو انجوائے کیا جب ایک سویلین، حربی مشقوں سے نبردآزما ہوکر وطن کا سپائی بنتا ہے. پہلی بار کیڈیٹ کی ڈسپلن لائف کو اپنی آنکھوں سے دیکھا.
ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ہم شوٹنگ کے بعد اکیڈمی میں گھوم رہے تھے. احد رضا میر اس وقت کیڈیٹ کے حلیے میں ہی تھا کہ ایک فوجی نے اسے آوٹ آف ٹائمنگ اور ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ڈا نٹنا شروع کردیا. جب احد نے بتایا کہ میں تو کیڈیٹ کے رول میں ہوں. میری ٹیم آگے جاری ہے. یہ واقعہ تفریح طبع بنا
صحافی
آپ بہت سے پروجیکٹ پر کام کرچکے ہیں. سب سے انٹرسٹنگ پروجیکٹ کونسا رہا ؟
سیف حسن: ابھی تک سنگ مرمر کا پروجیکٹ بہت بہترین رہا کیونکہ لوکیشن بہت اچھی تھی، اسکرپٹ زبردست تھا. اداکار اعلی تھے. بطور مجموعی سنگ مر مر کی ٹیم اور ٹیم ورک سب بہت بہترین تھا. اللہ نے اس کے ثمرات بہت ہی اچھے دئیے. میری دعا ہے کہ اللہ کرئے عہد وفا کے ثمرات بھیل بہت اچھے ملیں اور یہ زیادہ انٹرسٹنگ ہوجائے
صحافی
آپ کے اکثر پروجیکٹس آئی ایس پی آر کیساتھ ہوتے ہیں، کیا آپ بچپن میں فوجی بنا چاہتے تھے ؟
سیف حسن: بالکل، مجھے فوجی بننے کا شوق تھا. میں نے کوشش بھی کی تھی مگر شاید نصیب میں نہیں تھا
صحافی
کیا عہد وفا، سنہرے دن اور الفا، براوو، چارلی کی طرح مقبول سیریل ثابت ہوگا؟
سیف حسن: سنہرے دن اور الفا، براوو، چارلی اپنے زمانے کے مقبول ترین سلسلے ہیں. ہم نے یہ سیریلز بچین میں دیکھے تھے. ان ڈراموں سے وابستہ یادیں ہمارے دہنوں میں ثبت ہیں. یہ دونوں پروجیکٹس لوگوں کے دلوں پر راج کر چکے ہیں. اگر عہد وفا ان دو ڈراموں کی طرح کامیاب ہوگیا تو اللہ کا بہت کرم ہوگا. میں تو شکرانے کے نفل ادا کرونگا. میرے لئے حتمی طور پر یہ کہنا کہ یہ سیریل ان دو ڈراموں جیسا ہے تو میرے لئے یہ بات چھوٹا منہ اور بڑی بات ہے. شعیب صاحب بہت بڑے ڈائریکٹر ہیں
صحافی
عہد وفا میں آپ کا پسندیدہ کردار؟
سیف حسن: مجھے خورشید کا کردار، محمد احمد صاحب کا رول اور کیڈیٹ گلزار کا کریکٹربہت اچھا لگا
صحافی
بریگیڈیر فراز کی واپسی کا آئیڈیا کس کا تھا ؟
سیف حسن: یہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور صاحب اور ایم ڈی پروڈکشن کی سی ای او مومنہ درید کا مشترکہ آئیڈیا تھا.
صحافی
عہد وفا کے پروجیکٹ پر کونسا کردار کپٹین گل شیر کی طرح فیم ہوگا ؟
سیف حسن: حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہہ سکتا مگر کیڈیٹ گلزار کا کردار کسی حد تک مشہور ہوسکتا ہے مگر کپٹین گل شیر جیسا ہوگا میں اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا ہوں.
صحافی:
بعض حلقوں کی جانب سے زورو ( کتا) کے کردار پر بہت تنقید ہورہی ہے. اس پر آپ کچھ کہنا چاہیں گے ؟
سیف حسن: زورو (کتا) ایک بہت مزے کا کریکٹر ہے. ہم نے بے زبان وفادار جانور سے بہت اچھا کام لیا ہے. میں نہیں سمجھتا کہ ایک بے زبان جانور کے رول پر تنقید ہونی چاہئے. یہ انتہائی احمقانہ سوچ اور فضول تنقید ہے.
عہد وفا کی نٹ کھٹ رانی سے گفتگو


صحافی
آپ نے مختصر عرصے میں اسکرین اور لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی ہے. کیسا لگتا ہے پرستاروں کے درمیان آنا؟
زارا نور عباس: یہ میرے اللہ کا لاکھ،لاکھ شکر ہے. ورنہ میرا کوئی کام اس قابل نہیں ہے
صحافی
آپ اتنے اسٹرونگ بیک گراونڈ سے ہیں پھر بھی آپ کا انداز بہت عاجزانہ ہے.
زارا نور عباس: اسٹرونگ بیک گراونڈ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کیا میں مغرور ہوجاؤں؟ـ ہرگز نہیں. میری امی، بابا، خالہ،پھوپھو نے ہمیشہ انکساری کا درس دیا ہے. میں ہی نہیں ہم سب کی تربیت اسی نکتے پر ہوئی ہے. بھئی دولت اور شہرت تو آج ہے کل نہیں مگر آپ کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے.نک چڑے اور کسی کے سلام کا درست انداز میں جواب نہ دینے والوں کو بھلا کون یاد رکھتا ہے
صحافی
والدہ اور خالہ بشری انصاری کی کس کی اداکاری آپ کے دل کو چھوتی ہے؟
زارا نور عباس : دونوں میری جان ہیں.
صحافی
اپنی اداکاری میں آپ کو خالہ کی جھلک نظر آتی ہے یا والدہ کی ؟
زارا نور عباس: لوگ بشری خالہ میں ملاتے ہیں.
صحافی
ڈرامہ سیریل عہد وفا کے حوالے سے آرمی پروجیکٹ پر کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟
زارا نور عباس: بہترین تجربہ رہا،ہر لمحہ انجوائے کیا. آرمی پروجیکٹ پر جو عزت ملتی ہے وہ بہت زبردست ہوتی ہے
صحافی
اب تک عوام کی جانب سے “عہد وفا” پر کیسا رسپانس مل رہا ہے ؟
زارا نور عباس: بہت ہی اعلی رسپانس، بھئی لوگ تو میرے بولے ہوئے ڈائیلاگز میں ٹیکسٹ،ان باکس اور انسٹاگرام کر رہے ہیں. بھئی مصطفی آفریدی صاحب لکھتے بھی کمال کا ہیں. اپنے مزے دار، مختصر جامعے جملے لکھے ہیں کہ پڑھنے میں ہی اتنا مزہ آرہا تھا. پھر رانی کے ڈائیلاگز تو پڑھ کر ہی میرے پیٹ بل پڑ رہے تھے. مصطفی آفریدی صاحب نے رانی کے مکالمے لکھے ہی اتنے اچھے ہیں کہ کوئی بھی داد دئیے بنا رہ ہی نہیں سکتا ہے
صحافی
پھر آپ کی اداکاری نے بھی تو چار چاند لگا دئیے ہیں..
زارا نور عباس: ارے نہیں نہیں کنول میں تو ابھی اداکاری کی نرسری میں ہوں ابھی تو مجھے بہت سیکھنا ہے.
صحافی
عہد وفا کے پروجیکٹ پر کوئی یادگار واقعہ؟
زارا نورعباس: پورا ڈرامہ ہی یادگار ہے.ذاتی طور پر مجھے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ان کے اہلخانہ، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور ان کے اہلخانہ کے ساتھ ڈنر کرنا بہت اچھا لگا. وہ سارے لمحات ہمیشہ یادگار رہیں گے. آرمی پروجیکٹ پر کام اور وہ ڈنر کبھی بھولا نہیں جاسکتا ہے.
صحافی
: سب سے زیادہ انٹرسٹنگ پروجیکٹ کونسا رہا ؟
زارا نور عباس: خاموشی کا پروجیکٹ بہت انٹرسٹنگ تھا. اور ایک آنے والا ہے.
صحافی
وہ کونسا ؟
زارا نور عباس: بشری خالہ کی تحریر اور امی اسما عباس کی ڈائریکشن “زیبائش”
صحافی
عہد وفا میں آپ کا رول ایک نٹ کھٹ لڑکی کا ہے، یہ لڑکی اس پروجیکٹ کو کس طرح مزید چٹ پٹا بنانے والی ہے ؟
زارا نور عباس: زوردار قہقہہ لگا کر نہیں بتاؤنگی.. بھئی کیوں آپ لوگوں کا مزہ خراب کروں. ابھی تو شاہ زین سے ملاقات ہونی ہے. رانی ہے تو شریف لڑکی مگر شرمیلی نہیں ہے. ابھی تو دیکھیں گا رانی کی پٹاخہ اداکاری
صحافی
:عہد وفا میں اپنے علاوہ دوسرا کونسا کردار آپ کو پسند ہے؟
زارا نور عباس: شاہ زین کا..
عہد وفا کے ایس ایس جی یعنی سپر ایس گروپ کے لیڈر شاہ زین سے گفتگو..


صحافی:آپ بہت سے ٹی وی سیریلز اور فلموں میں کام کرچکے ہیں،عہد وفا کا تجربہ کیسا رہا ؟
عثمان خالد بٹ: اب تک تو بہت ہی اچھا اور یادگار تجربہ ثابت ہوا ہے. میری خواہش تھی کہ میں پھر رائٹر مصطفی آفریدی اور ڈائریکٹر سیفی حسن کے ساتھ کام کروں. اگرچہ ان دونوں معززین کیساتھ سنگ مرمر کا پروجیکٹ کرچکا ہوں. اسی خوشگوار تجربے کے تحت میری دوبارہ ان صاحبان کے انڈر سپر ویوژن کام کرنے کی چاہ تھی. مصطفی بھائی اور سیفی بھائی کی دیگر خصوصیات کیساتھ ایک یہ بھی زبردست بات ہے کہ یہ لوگ اپنے پروجیکٹ کے ایک ایک کردار کو اوپن گراونڈ دیتے ہیں. ماضی میں سنگ مرمر میں سب نے دیکھا کہ ہر کردار نے بھرپور کام کرکے اپنے آپ کو منوایا ہے.اب عہد وفا کو لے لیں. اس میں چار لڑکوں کی مختلف طرز زندگی کو ڈسکس کیا گیا ہے. آپ کے سوال کے تناظر میں کہونگا کہ ابھی شوٹ جاری ہے. ہم 15 اقساط مکمل کرچکے ہیں مگر اختیامی اقساط پر کام چل رہا ہے. لہذا ابھی مزید تجربے کی گنجائش باقی ہے. جوکہ انشاء اللہ مزید بہترین ہوگا،کیونکہ پروجیکٹ ٹیم کی آپس میں کیمسٹری بہت ہی اعلی ہے. دراصل یہ ایک منفرد سیریل ہے. اس میں دوستی ہے. وفا ہے. وعدے کی پاسداری ہے. محبت ہے. یہ دوستی، وفاداری، ایمانداری اور محبت نہ صرف ان چار دوستوں کی آپس کی کمنٹمنٹ ہے بلکہ یہ اپنی سر زمین سے بھی ہے. یہ ساری بات آپ کو مکمل سیریل دیکھ کر سمجھ آئیگی کہ میں نے ایسا کیوں کہا… عہد وفا کا ٹیم ورک،کاسٹ، لوکیشن سب کچھ بہترین ہے. انشا اللہ عہد وفا ایک منفرد سیریل ثابت ہوگا اور لوگوں کے دلوں پر راج کرئیگا.
صحافی : آرمی پروجیکٹ پر کام کا تجربہ کیسا رہا ؟
عثمان خالد بٹ: اس ڈرمے کا مرکزی خیال ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور صاحب نے مرتب کیا ہے. میرے لئے یہ بہت فخر کی بات ہے کہ آصف غفور صاحب چار لڑکوں کی کاسٹ کو خود منتخب کیا. جس میں ماشا اللہ میرا نام بھی شامل تھا. بعد ازاں انہوں نے ہم سے ملاقات کی ڈرامہ کا خیال ڈسکس کیا. یہ پروجیکٹ آئی ایس پی آر کے اشتراک سے ہم ٹی وی معاونت پر ممبنی ہے جبکہ سرکاری ٹی وی پر بھی نشر ہورہا ہے.یہ بات بہت زبردست ہے کہ اس پروجیکٹ میں ڈی جی صاحب نے بذات خود جو دلچسپی لی ہے. انہوں نے ٹیم کے ساتھ بیٹھ کر پروجیکٹ کو تخلیق کیا ہے. آصف غفور صاحب کے دلچسپ اور منفرد آئیڈیاز نے اس سیریل کو مزید بہترین بنایا ہے. میں دیکھ کررہا تھا کچھ ویب سائٹس پر اس ڈرامے کو لیکر منفی رجحان مرتب کیا جارہا ہے کہ جناب یہ پرو آرمی پروجیکٹ ہے جبکہ ایسا بالکل بھی کچھ نہیں ہے. اس کے چاروں کردار آرمی کے نہیں ہیں بس صرف احد رضا میر آرمی آفیسر ہوگا باقی تین دوست مختلف شعبہ زندگی سے وابستہ ہونگے. سیاستدان، بیوروکریٹ اور صحافی ہونگے. یہ بہترین خیال ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور صاحب کا ہے. ان کی سوچ کے مطابقت سے ڈرامے میں دیکھا گیا ہے کہ صرف آرمی ہی نہیں بلکہ جب ریاست کے چاروں ستون باہم ہوکر کام کرتے ہیں تو ملک ترقی کرتا ہے.
صحافی : عوام کی جانب سے عہد وفا کو کیسا رسپانس مل رہا ہے؟
عثمان خالد بٹ: ابھی تک دو اقساط نشر ہوئی ہیں. پہلی قسط کی ویورشپ پانچ ملین تک تھی. عوام کے تاثر کو دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے انہیں بھی یوتھ بیس ڈرامے کا انتظار تھا. کوئی ایسا ڈرامہ جو رونے دھونے،محبت یا جدائی سے ہٹ کر الگ اسٹوری پر ہو. یہ ڈرامہ سابقہ ڈراموں سے منفرد ہے. ابھی تو ڈرامے کی شروعات ہے. ابھی ہی رسپانس بہت اچھا ہے. لوگوں نے میمز بنانا شروع کردئیے ہیں. سوشل میڈیا پر ایکدوسرے کو ڈائیلاگز ٹیگ کر رہے ہیں. لوگوں کی جانب سے اس قسم ایکیویٹی ہی پروجیکٹ کی مقبولیت اور پسندیدگی کا پتہ دیتی ہے.
صحافی : کیا ایس ایس جی گروپ دوستی کے مکمل تقاضوں سے مزین ہے ؟
عثمان خالد بٹ: بالکل، اس ڈرامے کی تو جان ہی دوستوں کا یہ گروپ ہے. میرے بہت سے فینز جو میری عمر کے ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ آپ تو ہمیں زمانہ طالب علمی میں لے گئے ہیں. اور جو تدریسی عمل سے گزر رہے ہیں ان کی جانب سے بھی ایس ایس جی کو لیکر اچھا فیڈ بیک مل رہا ہے. سپر ایس گروپ کم عمری کی بے لوث دوستی، ٓایک دوسرے کے راز رکھنے کی ایمانداری اور زندگی میں کچھ نیا کرنے کے عزم سے مکمل مزین ہے. انشاء اللہ یہ چار دوست دوستی کی اعلی مثال بنکر ناظرین کے دلوں پر راج کریں گے.
صحافی : کیا آپ زمانہ طالب علمی میں ایس ایس جی لیڈر شاہ زین جیسے تھے ؟
عثمان خالد بٹ: زور دار قہقہہ لگا کر، بالکل میں ایسا ہی تھا. میرا زمانہ طالب علمی شاہ زین جیسا شرارتی گزرا ہے. شاہ زین کی طرح نت نئی شرارتیں میرے ذہن میں بھی چلتی تھیں. جن کو میں دوستوں سے شئیر کرتا تھا پھر ہم سب مل کر ان شرارتوں پر عمل کیا کرتے تھے. شاہ زین کا کردار میرے ماضی کی عکاسی ہے. ابھی آپ لوگ شاہ زین کی سنجیدگی بھی دیکھیں گے.
صحافی : سنہرے دن اور الفا، براوو،چارلی کی طرح کیا عہد وفا مقبولیت حاصل کر پائیگا ؟
عثمان خالد بٹ: یہ تو وقت بتائے گا مگر ماشا اللہ عہد وفا کی شروعات بھی بہت اچھی ہوئی ہے. میں ان دو ڈراموں سے عہد وفا کا ہرگز تقابل نہیں کرونگا کیونکہ وہ سیریلز اپنے وقت کے مقبول ترین سلسلے ہیں. انشاء اللہ عہد وفا بھی لوگوں کے دلوں میں اپنا اچھا مقام بنائے گا.

کنول زہرا صحافی اور مصنفہ ہیں ۔