وزیراعظم عمران خان نے کاروبار میں حائل غیرضروری قوانین اور قواعد و ضوابط ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

کاروباری سرگرمیوں میں فروغ سے متعلق اجلاس میں کاروبار میں رکاوٹ ڈالنے والے بیوروکریسی کے صوابدیدی اختیارات بھی ختم کرنے اور کمپنیوں کی رجسٹریشن کا عمل سہل کرنے کیلئے قوانین بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ خود کاروباری سرگرمیوں کی سرپرستی کریں گے، پاکستان کی بزنس رینکنگ کو بہتر بنایا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے سرمایہ کاری بورڈ کو معیشت کے مختلف شعبوں میں کاروبار سے متعلق قوانین اور ریگولیٹری فریم ورک کو صحیح خطوط پر استوار کرنے اور آسان بنانے کیلئے متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے یہ ہدایت بدھ کو وزیراعظم آفس میں ریگولیٹری رکاوٹوں کو دور کرنے کے بارے میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی جس میں مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد، مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین زبیر گیلانی، پنجاب کے صوبائی وزیر برائے صنعت میاں اسلم اقبال، کنٹری ڈائریکٹر عالمی بینک اور سینئر حکام نے شرکت کی۔

وزیراعظم کی زیرصدارت کاروباری سرگرمیوں سے متعلق اجلاس

وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ غیر ضروری ضابطوں کو کم کرنے کا عمل بھی جتنی جلدی ممکن ہو مکمل کیا جائے تاکہ کاروبار میں آسانی پیدا ہو اور کاروباری برادری بالخصوص کاروبار شروع کرنے والی کمپنیوں کو سہولت ملے۔ چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ نے اجلاس کو بتایا کہ کاروبار میں آسانی کیلئے حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے حوالے سے فریقین کے ساتھ بھرپور مشاورت کا عمل جاری ہے۔ اس عمل میں غیر متعلقہ یا متروک ریگولیشن کا خاتمہ، موجودہ ریگولیٹری فریم ورک پر نظرثانی کرنا اور موجودہ قوانین میں ترامیم شامل ہیں۔

وزیر صنعت پنجاب نے وزیراعظم کو بتایا کہ پنجاب کی حکومت نے ٹیکسوں کو یکجا کرنے، معائنہ جات کے خاتمے، ون ونڈو سہولت پیش کرنے اور پنجاب اسمارٹ ریگولیشن ایکٹ متعارف کرانے سمیت کاروبار میں آسانی کیلئے کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ڈیجیٹل اکانومی کے فروغ اور کاروبار کے آغاز کیلئے ڈیجیٹل حل پیش کرنے پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے تاکہ انہیں آئی ٹی کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں سے استفادہ کا موقع ملے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو سہولت اور کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ریگولیٹری طریقہ کار کی آٹو میشن اور مطلوبہ معلومات کی آن لائن دستیابی سے کاروباری عمل کو خوش اسلوبی سے انجام دینے میں مدد ملے گی۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ دیگر تمام ڈویژن بھی اسی طرح کے منصوبہ جات وضع کریں اور منظوری و عمل درآمد کیلئے پیش کریں۔