وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے نوازشریف کے اربوں ڈالربھارت بھیجنے کے الزام پر نیب چیئرمین کو طلب کرنے اور اسپیشل کمیٹی بنا کر تحقیقات کروانے کا مطالبہ کردیا جبکہ نیب کی پریس ریلیزکوقبل ازانتخابات دھاندلی قراردے دیا۔

 قومی اسمبلی میں وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہئیں، جس طرح نواز شریف پر نیب عدالتوں میں کیس چل رہے ہیں، پیشیاں ہورہی ہیں مجھے امیدنہیں کہ انہیں نیب سے کوئی انصاف ملےگا، ہفتےمیں چھ چھ،تین تین پیشیوں کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نیب نے حالیہ ایک نوٹس لیا ہے، اس قسم کے نوٹس ہمارےلیے رسوائی کا باعث بن رہے ہیں، نوٹس لیاگیا ہے، نواز شریف نے4.9 ارب ڈالر بھارت بھیجے، ادارے کا سربراہ اس قسم کی باتیں کرے تو  پھر تشویش ہوتی ہے، ایسی باتیں کی جائیں تو دیکھ لیں باقی معاملات کیا ہوں گے۔

شاہد خاقان عباسی نے نوازشریف کے اربوں ڈالربھارت بھیجنے سے متعلق الزام پر نیب چیئرمین کو طلب کرنے اور اسپیشل کمیٹی بنا کر تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ نیب کی جانب سے لگایا گیا حالیہ الزام نہ صرف بے بنیاد ہے بلکہ ملک کی بے عزتی کا باعث بنا ہے۔

وزیر اعظم نے نیب کی پریس ریلیز کو قبل ازانتخابات دھاندلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب کا اقدام پری پول دھاندلی کے زمرے میں آتاہے، جاوید اقبال کا نام بطور چیئرمین نیب تجویز کرنے پر شرمندگی ہے۔

وزیراعظم کے مطالبے کے بعد پیپلزپارٹی نے چیئرمین نیب کو بلانے کے معاملے پرمشاورت کیلئے وقت طلب کرلیا جبکہ تحریک انصاف نے مخالفت کردی۔

 چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے سابق نواز شریف اور دیگر کے خلاف4.9بلین ڈالر بھارت بھجوانے کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے جانچ پڑتال کا حکم دیا تھا۔