نیب لاہور میں گرفتار علیم خان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، نیب نے علیم خان کے خلاف گواہی حاصل کرنے کے لئے پنجاب پولیس کی مدد لے لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیب نے علیم خان کے خلاف بیان دینے کے لئے سی سی پی او لاہور کے ذریعے 28 افراد کو طلبی نامہ بھجوا دیا ہے، علیم خان نے 2003 میں 230 کنال سے زائد خریدی گئی اراضی کی فی کنال قیمت ایک لاکھ روپے اور مختلف علاقوں میں خریدی گئی اراضی کی قیمت فی کنال ایک لاکھ روپے ظاہر کی جبکہ حقیقی قیمت چھ سے سات لاکھ تھی۔

نیب کا کہنا ہے جن افراد نے علیم خان کو اراضی فروخت کی ان سے اراضی کی حقیقی قیمت جانچنے کے لئے طلب کیا گیا ہے، نیب نے تمام28 افراد کو چھبیس سے اٹھائیس فروری کے دوران تمام دستاویزات سمیت نیب لاہور میں پیش ہونے کی مہلت دی تھی۔

نیب ذرائع کے مطابق علیم خان نے نیب کو بتایا کہ انہوں نے صرف دو کمپنیاں کاروبار چلانے کے لئے استعمال کیں، نیب کو موصول ریکارڈ کے مطابق صرف دو کمپنیوں راجہ گرین فارم اور یونین گرین فارم کے ذریعے 3.97بلین کی ٹرانزیکشن کی گئی۔

ذرائع نے کہا علیم خان سے آف شور کمپنیاں بنانے کے ذرائع، کاروبار اور دیگر تفصیلات پوچھیں تو انہوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا، علیم خان نے نیب تفتیشی ٹیم کو کہا کہ وہ تمام سوال لکھ کر دیں، جس پر ان کا وکیل نیب کو جواب جمع کرائے گا۔