احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت جاری ہے جہاں پانچویں روز بھی سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث دلائل دے رہے ہیں۔

 احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیرکررہے ہیں۔

سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز احتساب عدالت میں پیش نہیں ہوئے جبکہ کیپٹن صفدرعدالت میں موجود ہیں۔

عدالت میں سماعت کے آغاز پرخواجہ حارث نے کہا کہ نوازشریف اور مریم نواز بیرون ملک ہیں، درخواست جمع کرانی ہے، بیگم کلثوم نوازکی 22 جون کی میڈیکل رپورٹ کے پرنٹ لینے ہیں۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ واجد ضیاء کے بیان کے دوسرے حصے پردلائل دوں گا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ تفتیشی افسرکی رائے قابل قبول شہادت نہیں ہے، قطری کے 2 خطوط کا نوازشریف سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، جے آئی ٹی نے 2 خطوط میں تضادات کی بات کی ہے۔

نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ خطوط میں تضادات کا بتانا جے آئی ٹی کا کام نہیں عدالت کا تھا، واجدضیاء یہ خط توپیش کرسکتے تھے مگرکمنٹس نہیں کرسکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ تفتیشی افسرکا کیا کام ہے معائنہ کرے یہ عدالت کا کام ہے، ہماری رائے ہے محمد بن جاسم کی ضرورت نہیں ہے۔

احتساب عدالت میں نوازشریف اور مریم نواز کی 7 دن کے لیے حاضری سے اسثنیٰ کی درخواست کی گئی اور عدالت میں بیگم کلثوم نواز کی میڈیکل رپورٹ بھی پیش کی گئی جس پر عدالت نے سابق وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی کو 3 دن کے لیے حاضری سے استثنیٰ دے دیا۔

خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ واجد ضیاء نے نواز شریف سے متعلق کچھ نہیں بتایا، الزام ثابت کرنے کے لیے پرائمری یا سیکنڈری شواہد ہوتے ہیں جبکہ سیکنڈری شواہد میں بتانا ہوتا ہے پرائمری شواہد کیوں نہیں پیش کیے۔

مسلم لیگ ن کے قائد کے وکیل خواجہ حارث آج بھی دلائل کا سلسلہ جاری رکھیں گے جس کے بعد مریم نواز کے وکیل امجد پرویزحتمی دلائل دیں گے۔