نعرۂ بھٹو!

ذولفقار علی بھٹو سندھ دھرتی کا وہ بیٹا جس نے نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستانی معاشرہ کوظلم و ستم کے خلاف لڑنا اور اپنے حقوق کے لیے آواز اُٹھانا سکھایا۔۔۔یہی وجہ تھی کہ پسماندہ علاقے کے عوام نے نہ صرف اسے اپنا دیوتا مانا بلکہ بھٹو کی ایک صدا پر جان تک دینے کو بھی تیار ہوگئے تھے اور پھر 4 اپریل کی رات کو جب بھٹو کو پھانسی ہوئی تو سندھ دھرتی کے باسیوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی محبت کو اپنا عشق بنالیا وقت گزرتا رہا بھٹو خاندان سے عقیدت،محبت ،انسیت اور امید بڑھتی چلی گئی بھٹو کی بیٹی آئی اور نعرہ بھٹو لگا کر نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کی منتخب وزیراعظم بنی۔وہ بھی شہید کر دی گئیں تو دوبارہ نعرہ بھٹو لگا اور بھٹو کے داماد نے مسند اقتدار سنبھالی۔ بھٹو خاندان کی سیاست اور حکومت تو چلتی رہی مگر سندھ دھرتی کہیں رک سی گئی۔۔پسماندگی یہاں ٹھہر گئی،غربت ،جہالت،بے روزگاری نے ایسے پنجے گاڑے کہ ایمبولینس نہ ملنے پر باپ بیٹے کی لاش موٹر سائیکل پر لے جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوکر اپنی بھی جان گنوا بیٹھا جہاں نمرتا کے قاتلوں تک رسائی نا ممکن سی دکھائی دیتی ہے ۔بھٹو کے شہر میں کتے کے کاٹنے کی دوائی میسر نہ ہونے پر دس سالہ میر حسن ماں کی گود میں تڑپ تڑپ کر مر گیا۔۔ جہاں قانون جاگیر داروں اور وڈیروں کے گھر کی لونڈی بن کہ رہ گیا ہے۔جہاں انصاف ملنا مشکل ہے جس صوبے میں کچرے پر سیاست ہورہی ہے اور عوام کا تعفن سے سانس لینا دشوار۔۔جہاں تعلیم کی حیثیت اتنی سی ہے کہ امتحانات میں نقل سرعام ہوتی ہے اور ادارے خاموش تماشائی اور اب شکار پور کے سول ہسپتال میں جگہ نہ ملنے پر ہسپتال کے کھلے صحن میں بچے کی پیدائش ۔۔۔یہ بھٹو کی ہی دھرتی ہے جہاں اب بھی “نعرہ بھٹو جیے بھٹو” اور “کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے” کا سلوگن لیے پیپلز پارٹی کی ہی حکومت ہے مگر سندھی عوام سوال کرتی ہے کہ اگر آج بھی بھٹو زندہ ہے” تو پھر بھٹو کی نگری میں انکا درد انکی تکالیف اورانکے مسائل میں وہ اس قدر تنہا کیوں ہیں۔۔۔۔

ذکیہ نئیر صحافی اور بلاگر ہیں ۔