سپریم کورٹ نے نااہلی معطل کرنے سے متعلق خواجہ آصف کی استدعا مسترد کردی ہے۔ جبکہ خواجہ آصف کی ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل ابتدائی سماعت کیلئے منظورکرلی ہے

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے خواجہ آصف کی نااہلی معطل کرنے کی اپیل پر سماعت کی ۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف کی نااہلی تین نکات پر ہوئی۔ یو اے ای میں ملازمت کا کنٹریکٹ، اقامہ، اثاثوں میں تنخواہ چھپانے اور بینک اکاؤنٹ ظاہر نہ کرنے کا الزام ہے۔

جس پر خواجہ آصف کے وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ میرے موکل پرالزام ہے کہ اقامہ رکھا۔ دوسرا الزام تنخواہ لینے اورکاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے کاہے۔ جس بینک اکاؤنٹ میں 4 ہزار 400 درہم تھے اسے بھی ظاہر نہ کرنے کاالزام ہے۔ دبئی بینک اکاﺅنٹ میں کبھی کوئی ٹرانزیکشن نہیں ہوئی۔ یہ اکاﺅنٹ 2010ء میں کھولا گیا جو 7 جولائی 2000ء میں بند ہو گیا تھا

منیر اے ملک نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں تین سال کے انکم ٹیکس کی ادائیگی کا پوچھا گیا۔ خواجہ آصف نے کاغذات نامزدگی کے ساتھ تین سال کے ٹیکس گوشوارے منسلک کیے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بیرون ملک ریسٹورنٹ کی بیچی گئی رقم خواجہ آصف نے ظاہر نہیں کی۔

منیر اے ملک نے کہا کہ 2012ء کے گوشواروں میں بھی تنخواہ کا ذکر ہے، کاغذات نامزدگی میں 6.82 ملین غیرملکی زرمبادلہ ظاہرکیا۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں غیرملکی تنخواہ صفرلکھی گئی ہے۔ کاغذات نامزدگی میں دونوں باتوں کی وضاحت نہیں کی گئی

منیر اے ملک نے کہا کہ گوشواروں میں غیرملکی تنخواہ اور 9 ہزار درہم کا بھی ذکر ہے، گوشواروں میں ذرائع آمدن اور تنخواہ بھی درج ہے۔ غیرملکی آمدن میں تنخواہ اور دبئی ہوٹل کے فروخت کی رقم کابھی ذکرہے۔

خواجہ آصف کے وکیل نے کہا کہ خرچ کردہ رقم اثاثہ نہیں ہوتی۔ انتخابی عذرداری درخواست میں غیر ملکی تنخواہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ 2013ء میں الیکشن پٹیشن میں تنخواہ کو دفاع کے طور پرپیش نہیں کیا گیا۔

عثمان ڈار کو خواجہ آصف کی غیرملکی تنخواہ اور 6.8 ملین کے زرمبادلہ اور اقامے کا علم تھا۔ میرے موکل کے پاس متوقع حاصل ہونے والی تنخواہ نہیں تھی جوظاہر کی جاتی

منیر اے ملک نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں وہی اثاثے بتائے جاتے ہیں جو ہاتھ میں ہوں۔ قابل وصول اثاثے بھی اثاثے ہوتے ہیں، خواجہ آصف کا اقامہ کاغذات نامزدگی کے ساتھ لگایا گیا تھا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الزام ہے خواجہ آصف وزیر ہوتے ہوئے غیرملکی ملازمت نہیں کرسکتے۔ درخواست گزار کا موقف ہے یہ مفادات کا ٹکراؤ ہے، اسے کاروبار نہیں کیا جا سکتا۔ آپ مقدمہ پاناما کیس کے تناظر میں پیش کریں وہ ممکن ہو سکتا ہے۔ فیصلہ مفادات کے ٹکراؤ اور غیرملکی اکاؤنٹس چھپانے پر دیا گیا۔

منیر اے ملک نے عدالت سے خواجہ آصف کی نااہلی کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کی۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد نااہلی معطل کرنے سے متعلق استدعا مسترد کردی۔

عدالت نے خواجہ آصف اور عثمان ڈار کو اپنی تحریری معروضات دائر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔ جبکہ سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کردی گئی