(تحریر:(عنصر ملک

یہ بات تو نوشتہ دیوار ہے کہ اس وقت مولانا فضل الرحمان کو سب نے ملکر دیوار کے ساتھ لگایا ہے۔ چاہے اس میں اپوزیشن جماعتیں ہوں یا حکومت کی کچھ اتحادی جماعتیں سب نے مولانا کے ساتھ وفا نہیں کی اور مولانا کو اسلام آباد کے اندر لاکر بیچ چو راہے پر چھو ڑ کے بھاگ گئے ۔جی ہاں بات ہو رہی ہے مولانا کے پچھلے دھرنے کی جس میں مولانا سواۓ چند سکوں کچھ حاصل نہ کر سکے لیکن مولانا کو لانے والے شاید اس سے مستفید ضرور ہوۓ ہیں  اور اپنے مقصد میں کامیاب ہوۓ۔

لیکن اب سوال یہ اٹھتا ہے اب کی بار مولانا کیوں اٹھے اور پہلے کراچی اور پھر لاہور کی یاترا کی؟ اس کا جواب ایک ہی ہے ایک دفعہ پھر مولانا صاحب سے کچھ مقتدر قوتیں کام لینا چاہتی ہیں اور وہ اس کی بار مولانا کے  ذریعے اپوزیشن کا اکٹھ چاہتیں ہیں اسکی ایک وجہ اس  وقت کچھ ملکی مسائل پر سب کو ایک پیج پر لانا اور کچھ لے دے کر کچھ معاملات  کو رفع دفع کروانا ہے۔

حکومت اور اداروں کو اس وقت کچھ اہم امور پر درپردہ اور پھر ظاہری طور پر اپوزیشن کی مدد درکار ہے ۔جس میں آنے والے دنوں میں کچھ اہم قانون سازی ہونی ہے –  اور کچھ اور سلامتی کے مسائل ہیں – ظاہر ہے اس میں کچھ لے دے کر معاملات طے ہوں گے اور مولانا ان معاملات میں ایک وسیع تجربہ رکھتے ہیں اسی لیے انکا انتخاب کیا گیا کیونکہ اس وقت حکومتی ارکان تو ان پارٹیوں سے بات کرنے کے قابل نہیں ہیں اور آۓ دن بے جا تنقید کے بعد شاید ممکن نہیں کہ انکی بات براہ راست سنی جاۓ گی۔

مولانا نے ان سارے معاملات کا ایک اور فائدہ اٹھایا اور بات کو آگے تک لیکر آگۓ ہیں کہ کیوں نا آل پارٹی کانفرنس بلائ جاۓ اور اس میں اس معاملے کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی چارج شیٹ کیا جاۓ- اسی سلسلے میں انکی ملاقات آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے بھی  ہوئ ہے – لیکن ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اس کی بار کسی مائنس ون کا حصہ نہیں بننا چاہتی اسکی بنیادی وجہ انکی سندھ حکومت اور باقی معاملات ہیں اس لیے زرداری نے مولانا صاحب کو بتا یا ہے وہ اس معاملے پر انکا ساتھ نہیں دیں گے۔

رہی بات پاکستان مسلم لیگ نواز کی تو شہباز شریف نے لاہور میں ہوتے ہوۓ مولانا سے ملاقات نہیں کی اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شہباز شریف سارے معاملات خود ڈائریکٹ طے کرنا چاہتے ہیں اور وہ انکا خیال ہے اسکی بار اس ڈیل میں انکو اپنے  کیسز کو ختم کرانے میں مدد ملے گی۔

تو کیا مولانا کی کوشش رائیگاں چلی گئ لگتا ایسا ہی لیکن مولانا اس سارے معاملے اپنے بھائ کو کراچی میں ایک اہم عہدہ دلوانے میں کامیاب ہو گۓ اور وہ اگلے مرحلے کے لئے تازہ دم بھی ہیں – عید قربان کے بعد وہ پھر میدان میں اترنے کے تیار ہیں اور انکو در پردہ حکومت کی ایک اتحادی پارٹی کی حمایت بھی حاصل ہے جو پنجاب میں حکومت کی خواہاں ہے-  بظاہر تو لگتا ہے حکومت کے اپنے ہی انکے دشمن ہیں اسکا فائدہ کو ن اٹھاتا ہے یہ وقت ہی بتاۓ گا۔