رانا ثناء اللہ کو جوڈیشل ریمانڈ کی مدت ختم ہونے پر آج جج مسعود ارشد کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر جوڈیشل اکیڈمی کے گرد سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے۔ عدالت میں رانا ثناءاللہ نے اپنی اہلیہ سے ملاقات بھی کی جب کہ مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری اور رانا ارشد بھی اے این ایف عدالت میں موجود تھے۔ رانا ثناءاللہ کی جانب سے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے دلائل دئیے جب کہ اے این ایف حکام کی جانب سے راجہ انعام مہناس ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ آج کی سماعت کے دوران عدالت نے رہنما مسلم لیگ کے دستخط لینے کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج سیل کر دی اور آئندہ سماعت پر اے این ایف کو ہر صورت کیس کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید پانچ دن کی توسیع کر دی۔ دوسری جانب رانا ثناءاللہ کے اثاثہ جات منجمند کرنے کی درخواست پر سماعت 7 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

 

سماعت کے بعد رانا ثناء اللہ نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انکے داماد کو چار سال پرانے ایک جھوٹے کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ایسی حرکتیں صرف سیاسی انتقام کے طور پر کمزور کرنے کے لئے کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ اپنی جماعت اور قائد میاں نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں