“مسئلہ کشمیر اور ہم”

تحریر ذکیہ نئیر

ایک اور 27 اکتوبر گزر گیا تاریخ کے اوراق میں اس دن کو یوم سیاہ کے نام سے یاد رکھا جائے گا آج سے بہتر سال پہلے اس دن نام نہاد جمہوریت کے علمبردار بھارت نے زبردستی کشمیر میں گھس کر غاصبانہ قبضہ کیا اور قتل و غارت کا وہ بازار گرم کیا کہ جو لاکھوں بے گناہ کشمیریوں کی زندگیاں نگل پھر اس سال 5 اگست کو مودی نے اپنی خصلت کے عین مطابق آئین کو وہ آرٹیکل صدارتی آرڈینیس کے ذریعے ختم کرا دیا جو کشمیر کو خودمختار ریاست کا حق دیتا تھا نتیجتاً کشمیر کو ماورائے آئین زبردستی انڈیا کا حصہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے وہاں کی عوام کو اپنا غلام بنانے کی مکروہ سازش کی ایک طرف بی جے پی کے اس فیصلے سے جہاں کشمیر میں زندگی سلگ رہی ہے علاقہ جیل بن چکا ہے دنیا سے رابطہ کٹ چکا ہے میڈیا بلیک آؤٹ ہے خوراک ادویات ختم ہیں لاپتہ نوجوانوں کی تعداد بڑھتی ہی چلی جارہی ہے وہاں مودی حکومت کا یہ فیصلہ کسی بیوقوفی اور نادانی سے کم بھی نہیں وہ مسئلہ جو بہتر سالوں میں بین الاقوامی منظر نامے سے اوجھل اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی توجہ سے ہٹتا جارہا تھا وہ مودی کے اس فیصلے سے دوبارہ زندہ ہوگیا جو مسئلہ کئی سالوں سے اقوام متحدہ کی قراردادوں تک ہی محدود تھا دوبارہ سیکیورٹی کونسل کے ایجنڈے کا حصہ بنا خود مختار حیثیت ختم کرنے کے اس فیصلے نے کشمیریوں کی آزادی کی تحریک میں نئی روح پھونکی اقوام متحدہ کو بھی یاد دلا دیا کہ مسئلہ کشمیروہ عالمی تنازعہ ہےجسے اب تک حل نہیں کیا جا سکا اب جبکہ مسئلہ کشمیر اپنی پرانی حیثیت میں بحال ہوچکا ہے جو ہندوستان کی تقسیم کے وقت اس علاقے کی تھی تو اب وہاں کچلتی انسانیت پہ بات بھی ہوگی اور وہاں کی عوام کی منشا کے مطابق اس تنازعے کا حل بھی نکلے گا بھی۔اب احساس کرنا ہے ان زمہ داریوں کاجواس تناظر میں ہم پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر عائد ہوتی ہیں سفارتی محاذ پر بھارت پہلے ہی منہ کہ کھا چکا ہے جب پاکستان کے کہنے پر سیکیورٹی کونسل نے کشمیر پر ہنگامی اجلاس بلایا بین الاقوامی دنیا نے اس مسئلے کو اہمیت دی اقوام متحدہ کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے اپنی تقریر سے بھارت کا چہرہ بے نقاب کیا دنیا کو یہ باور کرایا کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہا ہے انکے ژندہ رہنے کا حق تک سلب کر رہا ہے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ پیش کرنے والے بھی کشمیری خواتین کی عصمت دری کے واقعات کی تعداد بتاتے رو پڑے۔۔۔ ترکی کشمیر کے معاملے میں پاکستان کے مؤقف کے ساتھ کھڑا ہے ملائیشیا نے ہندوستان سے تجارتی خسارہ برداشت کرنے کا فیصلہ کر لیا مگر کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر چپ نہ سادھی۔امریکہ نے بھی ثالثی کی پیشکش کر دی ان تمام کوششوں سے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کی اہمیت اجاگر ہوئی مگر تنازعے کے حل کے لیے اتنی کوششیں کافی نہیں بحثیت پاکستانی کیا ہر جمعہ کو کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کرنا کافی ہے؟عمران خان کی جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر کے بعد ملکی اور غیر ملکی کی توجہ کشمیر پر مرکوز تھی ہر فورم پہ کشمیر میں ہونے والی بھارتی دہشت گردی پہ بات ہورہی تھی مگر پھر ایک دم کشمیر کمیٹی کے دس سال چیرمین رہنے والے نے آزدای مارچ کا ایسا شوشہ چھوڑا کہ مقامی اور عالمی میڈیا کی تمام تر توجہ اس مارچ پہ مرکوز ہوگئی اور یہ مارچ 80 سے زائد دن کرفیو میں بلکتی کشمیری عوام کی بھارت سے آزادی کے لیے نہیں بلکہ موجودہ حکومت کی بساط لپیٹ کر ملک کو نئی الجھنوں اور گردشوں میں پھنسانے کے لیے کیا گیا اب ان حالات میں کیا کشمیر پر بات ہوگی؟ جب ملک میں اندرونی خلفشار ہی نہ سمٹ پائیں جب کشمیریوں میں امید کی اک کرن جاگی اسے سیاہ تاریکی میں لپیٹنے کی تیاری کرنے والوں کے پیچھے آخر کیا سوچ ہے اور اس سوچ کے کانٹے دار پودے کی آبیاری میں بھارت کیوں آگے آگے ہے کہ جب سے آزادی مارچ کا اعلان ہوا بھارتی میڈیا مسلسل اسے اپنی خبروں کی شہ سرخیاں بنا رہا ہے کیا یہ وہ محرکات تو نہیں کہ جنکی آواز میں مظلوم کشمیریوں کی سسکیاں دبتی جارہی ہیں یہی تو وقت ہے کہ آپس کے اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے ہم ایک ہوکر کشمیر کا مقدمہ ہر فورم پر لڑیں اور جبر سہتی عوام کو انکا حق آزادی انکی مرضی اور خواہش کے مطابق دلانے میں اپنی ہر کوشش کرتے رہیں پھر وہ چاہے مذاکرات کی میز ہوجس پہ آنے کو بھارت تیار نہیں یا پھر کوئی ایسا کھٹن راستہ جس پر چلتے ہوئے پیر تو لہولہان ہوجائیں مگر منزل قریب تر ہوتی جائے۔