کابل: امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے طالبان اور امریکا کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات سے متعلق افغان صدر اشرف غنی کو تفصیلات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ طالبان اور امریکا کے درمیان امریکی فوج کے انخلا کا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔

افغان صدارتی محل سے جاری بیان میں زلمے خلیل زاد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے افغان قیادت کو طالبان اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات کی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ طالبان امریکا مذاکرات میں افغانستان میں سیاسی نظام کی تبدیلی پر بات نہیں کی گئی۔

افغان صدارتی محل سے جاری بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام سے متعلق بھی کوئی بات نہیں کی گئی جب کہ طالبان سے جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کیے جس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

زلمے خلیل زاد نے کہا کہ مذاکرات میں طالبان رہنماؤں نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ دہرایا تاہم اس موقع پر امریکی فوج کے انخلا کا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔
طالبان اور امریکا کے درمیان 17 سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کا معاہدہ
افغان میڈیا نے دعویٰ کیا کہ طالبان اور امریکا کے درمیان باقی رہ جانے والے معاملات پر زلمے خیل زاد طالبان قیادت سے دوبارہ ملاقات کریں گے۔

دوسری جانب زلمے خلیل زاد یا امریکی سفارتخانے کی جانب سے اب تک افغان صدارتی محل کے بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا، زلمے خلیل زاد کی جانب سے امریکا طالبان مزاکرات کے بعد اسے نمایاں کامیابی قرار دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ قطر کے شہر دوحہ میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مسلسل 6 روز تک مذاکرات جاری رہے اور 27 جنوری کو سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق فریقین نے 18 ماہ کے اندر افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء پر اتفاق کیا اور جنگ بندی کا شيڈول آئندہ چند روز میں طے کیا جائے گا جبکہ طالبان جنگ بندی کے بعد افغان حکومت سے براہ راست بات کریں گے